تازہ خبریں طرز زندگی
بزرگ والدین پر ظلم کرنے والی اولاد جائیداد سے بے دخل ہوسکے گی، یوگی حکومت کا بڑا فیصلہ


لکھنؤ: اتر پردیش حکومت نے بزرگ والدین کے حقوق اور تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ اب ایسے بزرگ شہری جن کی اولاد یا زیرِ کفالت رشتہ دار ان کی دیکھ بھال نہیں کرتے، ان کا خرچ نہیں اٹھاتے یا ان کے ساتھ کسی بھی طرح کی بدسلوکی کرتے ہیں، وہ اپنی *خود حاصل کردہ جائیداد سے انہیں بے دخل* کرانے کے لیے قانونی کارروائی شروع کرسکیں گے۔

ریاستی کابینہ نے تر پردیش والدین اور بزرگ شہریوں کی کفالت اور فلاح و بہبود کے قواعد 2014میں ترمیم کی منظوری دی ہے۔ اس کے تحت قاعدہ 22 میں اضافی دفعات شامل کی گئی ہیں، جن کا مقصد بزرگ شہریوں کو زیادہ مؤثر قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اس فیصلے سے ان بزرگ افراد کو مدد ملنے کی امید ہے جو اپنی ہی اولاد یا خاندان کے زیرِ کفالت افراد کی جانب سے نظرانداز کیے جانے یا بدسلوکی کا سامنا کرتے ہیں۔

والدین کی دیکھ بھال نہ کرنے پر کارروائی

نئے ضابطوں کے تحت اگر کسی بزرگ شہری کی اولاد یا کوئی زیرِ کفالت رشتہ دار اس کی مناسب دیکھ بھال نہیں کرتا یا اس کے ساتھ بدسلوکی کرتا ہے تو بزرگ شہری متعلقہ اتھارٹی سے رجوع کرسکتا ہے۔

بزرگ اپنی خود حاصل کردہ جائیداد سے ایسے شخص کو بے دخل کرانے کے لیے درخواست دے سکیں گے۔ اس کا مقصد بزرگ والدین کو ان کی جائیداد اور عزت کے حقوق کا قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔

ضلعی ٹریبونل میں شکایت

ایسے معاملات میں بزرگ شہری *ضلعی سطح کے مینٹیننس ٹریبونل* کے سامنے شکایت درج کراسکیں گے۔

ٹریبونل معاملے کی صورتحال کا جائزہ لے گا اور مقررہ قانونی شرائط پوری ہونے کی صورت میں بے دخلی کا حکم جاری کرسکے گا۔

حکومت نے شکایات کے فیصلے میں تاخیر کو کم کرنے کے لیے وقت کی حد بھی مقرر کی ہے۔ نئے انتظام کے تحت شکایت کی سماعت *30 دن کے اندر* کرنے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ بزرگ افراد کو اپنے حقوق کے لیے طویل انتظار نہ کرنا پڑے۔

بزرگ خود درخواست نہ دے سکیں تو ادارہ مدد کرسکے گا

حکومت نے ایسے بزرگ شہریوں کی مشکلات کو بھی مدنظر رکھا ہے جو عمر یا دیگر وجوہات کی بنا پر خود سرکاری دفتر جاکر درخواست جمع نہیں کراسکتے۔

اگر کوئی بزرگ شہری خود درخواست دینے کی حالت میں نہیں ہے تو اس کی طرف سے کوئی ادارہ درخواست داخل کرسکتا ہے۔ اس سے اکیلے رہنے والے یا محدود نقل و حرکت رکھنے والے بزرگ افراد کو قانونی کارروائی شروع کرنے میں مدد مل سکے گی۔

حکم نہ ماننے پر پولیس کی مدد سے کارروائی

اگر ٹریبونل کی جانب سے بے دخلی کا حکم جاری ہونے کے بعد بھی متعلقہ شخص *30 دن کے اندر* اس حکم پر عمل نہیں کرتا تو مزید کارروائی کی جاسکے گی۔

ایسی صورتحال میں ٹریبونل پولیس کی مدد سے جائیداد پر قبضہ لے کر اسے بزرگ شہری کے حوالے کرسکتا ہے، جیسا کہ حکم میں مقرر کیا گیا ہو۔

متعلقہ پولیس حکام کو بھی بے دخلی کے حکم پر عمل درآمد میں تعاون کرنا ہوگا۔

حکومت کو ماہانہ رپورٹ بھیجی جائے گی

نئے نظام کے تحت ضلعی انتظامیہ کو ایسے معاملات کی نگرانی کی ذمہ داری بھی دی جائے گی۔

ضلعی سطح کے حکام شکایات اور کارروائی سے متعلق معلومات جمع کریں گے۔ ضلع مجسٹریٹ کو ہر ماہ کی رپورٹ اگلے ماہ کی *7 تاریخ تک* حکومت کو بھیجنی ہوگی۔

اس نظام کے ذریعے حکومت کو یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ کتنی شکایات موصول ہوئیں، کتنے معاملات میں سماعت ہوئی اور کتنے کیسز میں بے دخلی کے احکامات جاری کیے گئے۔

اپیل کا بھی حق ہوگا

نئے ضابطوں میں اپیل کا راستہ بھی رکھا گیا ہے۔ اگر کوئی بزرگ شہری ٹریبونل کے حکم سے مطمئن نہیں ہے تو وہ *ضلع مجسٹریٹ کی سربراہی میں قائم اپیلیٹ ٹریبونل* سے رجوع کرسکتا ہے۔

اس طرح متعلقہ فریق کو مقررہ قانونی طریقہ کار کے تحت فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا موقع بھی حاصل ہوگا۔

 قواعد میں ترمیم کیوں ضروری سمجھی گئی؟

والدین اور بزرگ شہریوں کی کفالت اور فلاح و بہبود سے متعلق مرکزی قانون اتر پردیش میں 2012 سے نافذ ہے۔ اس کے بعد ریاست میں 2014 میں متعلقہ قواعد جاری کیے گئے تھے۔

ریاست کے سابق قانون کمیشن نے 2020 میں ان قواعد میں ترمیم کی سفارش کی تھی۔ کمیشن کے مطابق بزرگ شہریوں کے حقوق کے مؤثر تحفظ اور مرکزی قانون کے مقاصد کو بہتر انداز میں نافذ کرنے کے لیے موجودہ قواعد میں مزید دفعات شامل کرنے کی ضرورت تھی۔

اسی سفارش کی بنیاد پر قاعدہ 22 میں اضافی دفعات شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی، جسے اب ریاستی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔

 بزرگوں کے لیے جلد ٹول فری نمبر

ریاستی حکومت کے مطابق بزرگ شہریوں کے لیے اس نظام کو آسان اور وقت مقررہ کے اندر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

حکومت جلد ایک *ٹول فری نمبر* بھی جاری کرسکتی ہے۔ اس کا مقصد ایسے بزرگ شہریوں کو مدد فراہم کرنا ہے جو خود سرکاری دفتر جاکر شکایت درج نہیں کراسکتے۔

اس سہولت کے ذریعے بزرگ افراد شکایت کے طریقہ کار کے بارے میں معلومات حاصل کرسکیں گے اور ضرورت پڑنے پر درخواست داخل کرنے میں مدد بھی حاصل کرسکیں گے۔

 بزرگوں کی عزت اور تحفظ پر توجہ

اس فیصلے کا بنیادی مقصد ایسے بزرگ والدین کو تحفظ فراہم کرنا ہے جو اپنے ہی خاندان میں نظرانداز کیے جاتے ہیں یا بدسلوکی کا سامنا کرتے ہیں۔

نئے نظام میں شکایت درج کرنے، سماعت، بے دخلی کے حکم اور اس حکم پر عمل درآمد کے لیے مختلف مراحل مقرر کیے گئے ہیں۔

تاہم صرف شکایت درج ہونے سے فوری طور پر جائیداد سے بے دخلی نہیں ہوگی۔ معاملے کی سماعت اور مقررہ قانونی و انتظامی کارروائی کے بعد ہی ٹریبونل کی جانب سے حکم جاری کیا جائے گا۔

حکومت کے اس فیصلے کو ایسے بزرگ شہریوں کے لیے اہم قانونی تحفظ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو اپنی اولاد یا دیگر رشتہ داروں پر انحصار کرتے ہیں اور انہیں دیکھ بھال نہ ملنے یا بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

News Image

برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے شی جن پنگ دہلی آئیں گے، سات سال بعد ہوگا ہندوستان کا دورہ؛ وزیر اعظم مودی سے بھی ملاقات متوقع

  • چین کے صدر شی جن پنگ 12 سے 13 ستمبر تک نئی دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان آئیں گے۔ یہ سات سال میں ان کا پہلا ہندوستانی دورہ ہوگا۔ اس دوران ان کی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے صدر شی جن پنگ کے ہندوستان دورے کی باضابطہ تصدیق کردی ہے۔
BY SHIRIN ·