20 جولائی کو جنتر منتر میں کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے احتجاج کے دوران ہونے والی جھڑپ اور پتھراؤ میں زخمی ہونے والے دہلی پولیس کے اے سی پی سمیت متعدد پولیس اہلکاروں کے اہلِ خانہ نے جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس میں اپنے دکھ اور تکلیف کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے نے صرف پولیس اہلکاروں کو ہی زخمی نہیں کیا بلکہ ان کے خاندانوں کو بھی شدید ذہنی صدمے سے دوچار کر دیا۔
زخمی اے سی پی کی اہلیہ نے بتایا کہ جب ان کے شوہر رات دیر سے ڈیوٹی کے بعد زخمی حالت میں گھر واپس آئے تو ان کی وردی خون میں بھیگی ہوئی تھی۔ یہ منظر ان کی دو سالہ بیٹی کے لیے انتہائی خوفناک تھا، جو اپنے والد کی حالت دیکھ کر بری طرح سہم گئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ لمحہ پورے خاندان کے لیے ناقابلِ فراموش ہے۔
دیگر زخمی پولیس اہلکاروں کے اہلِ خانہ نے بھی بتایا کہ پولیس اپنی ڈیوٹی انجام دے رہی تھی، لیکن اچانک ان پر پتھراؤ کیا گیا۔ ان کا الزام تھا کہ احتجاج میں کچھ شرپسند عناصر شامل ہو گئے تھے، جنہوں نے پرامن احتجاج کو تشدد میں تبدیل کر دیا۔
اہلِ خانہ نے مطالبہ کیا کہ تشدد میں ملوث افراد کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جن طلبہ کا اس تشدد سے کوئی تعلق نہیں، ان کے معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ بے گناہ افراد کو انصاف مل سکے۔
انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ عوامی احتجاج کے دوران ڈیوٹی انجام دینے والے پولیس اہلکاروں کی حفاظت کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں






.jpg)
.jpg)





.webp)


