کرناٹک میں SIR کے دوران ووٹر ریکارڈ میں خامیاں سامنے آئیں
کرناٹک میں ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن یعنی SIR کے دوران کئی معروف شخصیات کے انتخابی ریکارڈ میں خامیاں سامنے آنے کے بعد معاملہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
ان ناموں میں انفوسس کے شریک بانی نندن نیلیکنی، زروڈھا کے شریک بانی نکھل کامتھ اور کنڑ فلم اداکار شیو راج کمار شامل ہیں۔
حکام کے مطابق کچھ معاملات میں موجودہ ووٹر ریکارڈ کو پرانے انتخابی ریکارڈ کے ساتھ میپ کرنے میں دشواری پیش آئی۔ ایسے معاملات کو 'ان میپڈ' یا 'نو میپنگ' کیٹیگری میں رکھا گیا اور ان کی مزید تصدیق کی ضرورت محسوس ہوئی۔
تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی نام کا نو میپنگ کیٹیگری میں آنا اس بات کا خودکار ثبوت نہیں ہے کہ ووٹر کا نام ووٹر لسٹ سے خارج کردیا گیا ہے۔
نندن نیلیکنی اور اہل خانہ کے نام بھی نو میپنگ میں
بنگلورو ساؤتھ سٹی کارپوریشن کے حکام کے مطابق نندن نیلیکنی اور ان کے اہل خانہ کے نام بھی ان معاملات میں سامنے آئے جہاں موجودہ انتخابی ریکارڈ کو پرانے ریکارڈ سے میپ کرنے میں دشواری ہوئی۔
بتایا گیا ہے کہ 2002 کی ووٹر لسٹ میں ان کے نام سے متعلق تفصیلات دستیاب ریکارڈ میں نہیں مل سکیں۔ اسی وجہ سے ان کے ریکارڈ کو نو میپنگ کیٹیگری میں شامل کیا گیا اور SIR کے تحت مزید تصدیق کی ضرورت سامنے آئی۔
تاہم دستیاب معلومات سے یہ واضح نہیں ہے کہ نندن نیلیکنی یا ان کے اہل خانہ کو ذاتی طور پر کوئی نوٹس موصول ہوا ہے یا نہیں۔ اس لیے اسے براہ راست ووٹر لسٹ سے نام خارج کرنے کی کارروائی نہیں سمجھا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ انتخابی ریکارڈ میں کسی بھی ممکنہ غلطی کی جانچ کی جائے گی اور جہاں ضرورت ہوگی وہاں ریکارڈ کو درست کیا جائے گا۔
ان میپڈ کیٹیگری کا کیا مطلب ہے؟
SIR کے دوران موجودہ ووٹر ریکارڈ کا موازنہ پرانے انتخابی ریکارڈ سے کیا جاتا ہے۔ اگر موجودہ ریکارڈ پرانے ریکارڈ سے براہ راست مطابقت نہ رکھتا ہو یا پرانے ریکارڈ میں متعلقہ تفصیلات دستیاب نہ ہوں تو مزید تصدیق کی ضرورت ہوسکتی ہے۔
ایسے معاملات میں حکام یہ یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ووٹر کا ریکارڈ درست ہو اور اہل ووٹر کا نام مناسب تصدیق کے بعد ووٹر لسٹ میں برقرار رہے۔
اس لیے 'ان میپڈ' یا 'نو میپنگ' کا مطلب لازمی طور پر نام کا اخراج نہیں ہوتا، بلکہ کئی معاملات میں یہ اضافی جانچ اور تصدیق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
نکھل کامتھ کا ریکارڈ بھی جانچ کے دائرے میں
زروڈھا کے شریک بانی نکھل کامتھ کے انتخابی ریکارڈ میں بھی SIR کے دوران میپنگ سے متعلق مسئلہ سامنے آنے کی اطلاع ہے۔
ان کا نام بھی ان معاملات میں شامل بتایا گیا جہاں موجودہ ووٹر تفصیلات پرانے انتخابی ریکارڈ سے مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔
حکام ایسے معاملات میں دستیاب دستاویزات اور ریکارڈ کی جانچ کرتے ہیں تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ فرق کی وجہ کیا ہے اور ریکارڈ میں کس طرح اصلاح کی ضرورت ہے۔
شیو راج کمار کی گھر پر تصدیق
کنڑ فلم اداکار شیو راج کمار کا نام بھی SIR کی کارروائی کے دوران سامنے آیا۔ حکام کے مطابق ان کا نام 2002 کے انتخابی ریکارڈ میں موجود تھا، تاہم سسٹم کی جانب سے تصدیق کے لیے ایک نوٹس تیار ہوگیا تھا۔
تاہم شیو راج کمار کو دستاویزات لے کر انتخابی دفتر جانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ انتخابی حکام نے ان کی رہائش گاہ پر جاکر ہی ضروری تصدیق مکمل کی۔
یہ معاملہ اس انتظام کی بھی مثال ہے جس کے تحت کچھ مخصوص افراد کی تصدیق ان کی رہائش گاہ پر ہی مکمل کی جاسکتی ہے۔
VIPs کے لیے خصوصی تصدیقی انتظام
ایک سینئر انتخابی افسر کے مطابق کچھ مخصوص زمروں میں شامل افراد کے لیے ذاتی طور پر سماعت میں حاضر ہوئے بغیر تصدیق کا عمل مکمل کرنے کی سہولت موجود ہے۔
اس طریقہ کار کے تحت متعلقہ بوتھ لیول افسر یعنی BLO ان کے گھر جاکر ضروری کارروائی مکمل کرسکتے ہیں۔
اس زمرے میں جج، ممبران پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی، سینئر سیاسی رہنما، بیوروکریٹس اور کھیل و فلمی دنیا سے وابستہ معروف شخصیات شامل ہوسکتی ہیں۔
حکام کے مطابق مقصد یہ ہے کہ ضروری انتخابی تصدیق بھی مکمل ہوجائے اور متعلقہ افراد کو ذاتی طور پر دفتر آنے کی دشواری بھی نہ ہو۔
پروفیسر CNR راؤ کے معاملے پر وضاحت
بھارت رتن سے نوازے گئے معروف سائنس دان پروفیسر CNR راؤ کے نام سے متعلق بھی انتخابی ریکارڈ میں خامی سامنے آنے کی اطلاع تھی۔ اس کے بعد یہ سوال اٹھا کہ کیا انہیں SIR کے تحت نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
انتخابی حکام نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مَلیشورم اسمبلی حلقے میں پروفیسر CNR راؤ کو کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا۔
حکام کے مطابق ووٹر لسٹ میں ان کے نام سے متعلق ایک غلطی ضرور دیکھی گئی تھی۔ اس کے بعد بوتھ لیول افسر نے معاملے کی جانچ کی اور بغیر کوئی نوٹس جاری کیے ان کا نام حتمی ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش کی۔
ضرورت کے مطابق انتخابی ریکارڈ میں اصلاح
حکام کے مطابق SIR کا ایک اہم مقصد انتخابی ریکارڈ کو درست اور اپ ڈیٹ کرنا ہے۔ اگر کسی ووٹر کا موجودہ ریکارڈ پرانے ریکارڈ سے میپ نہ ہو یا تفصیلات میں فرق پایا جائے تو تصدیق کے بعد ضروری اصلاح کی جاسکتی ہے۔
اسی لیے کسی شخص کا نام 'نو میپنگ' یا 'ان میپڈ' کیٹیگری میں آنا خود بخود نام خارج ہونے کی تصدیق نہیں کرتا۔
حتمی ووٹر لسٹ تیار ہونے سے پہلے ریکارڈ کی جانچ اور ضروری اصلاح کا عمل اہم مرحلہ ہوتا ہے۔
کرناٹک میں SIR کیوں اہم ہے؟
کرناٹک میں SIR کے تحت ووٹر لسٹ کے ریکارڈ کی تفصیلی جانچ کی جارہی ہے۔ اس دوران موجودہ ووٹر تفصیلات کا پرانے انتخابی ریکارڈ کے ساتھ موازنہ کیا جارہا ہے۔
اس عمل کے دوران بڑی تعداد میں ریکارڈ کی جانچ اور مختلف قسم کی خامیوں کی نشاندہی کی جارہی ہے۔ نندن نیلیکنی، نکھل کامتھ اور شیو راج کمار جیسے معروف ناموں کا ریکارڈ بھی اسی عمل کے دوران سامنے آنے سے اس معاملے نے مزید توجہ حاصل کی ہے۔
انتخابی حکام کا کہنا ہے کہ ہر معاملے کی الگ الگ بنیاد پر جانچ کی جائے گی اور دستیاب دستاویزات و ریکارڈ کے مطابق ضروری اصلاحات کی جائیں گی۔ حتمی ووٹر لسٹ جاری ہونے سے پہلے اس عمل کو مکمل کیا جائے گا۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


