ممبئی پولیس محکمہ میں ایک بڑے مالیاتی گھوٹالے کا انکشاف ہوا ہے، جس میں تقریباً *6.41 کروڑ روپے* ایسے دس فرضی ملازمین کے نام پر بطور تنخواہ جاری کیے گئے جو حقیقت میں موجود ہی نہیں تھے۔ یہ معاملہ کئی برسوں تک سرکاری ریکارڈ میں چھپا رہا اور پرانے پے رول سسٹم سے نئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ریکارڈ منتقل کرتے وقت سامنے آیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ مبینہ گھوٹالہ 2019 اور 2020 کے درمیان انجام دیا گیا۔ اس دوران پولیس کے تنخواہ ریکارڈ میں دس ایسے افراد کے نام شامل کیے گئے جن کا محکمہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کے نام پر ہر ماہ تنخواہ متعلقہ بینک کھاتوں میں منتقل ہوتی رہی، جس سے سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔
تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ پرانے سیوارتھ پے رول پورٹل سے نئے سسٹم میں ڈیٹا منتقل کرتے وقت کئی ملازمین کے تقرری ریکارڈ، حاضری، سروس بک اور دیگر سرکاری دستاویزات موجود نہیں تھیں۔ اسی بنیاد پر مزید جانچ کی گئی، جس کے بعد فرضی ملازمین کا پورا معاملہ بے نقاب ہوا۔
پولیس کے مطابق دسمبر 2019 سے فروری 2020 اور پھر جون سے ستمبر 2020 کے دوران ان فرضی ملازمین کے بینک کھاتوں میں مسلسل تنخواہیں منتقل کی گئیں۔ شبہ ہے کہ محکمہ کے بعض کلرکوں اور انتظامی اہلکاروں نے ملی بھگت سے جعلی حاضری رجسٹر، سروس ریکارڈ اور پے رول دستاویزات تیار کیں تاکہ غیر قانونی ادائیگیوں کا سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔
اس معاملے میں پانچ سابق اور موجودہ اہلکاروں کے خلاف بھارتیہ نیایا سنہتا (BNS) 2023 کے تحت دھوکہ دہی، جعلسازی، مجرمانہ اعتماد شکنی اور مجرمانہ سازش کے الزامات میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ دو اہلکاروں کو معطل بھی کر دیا گیا ہے، جن پر جعلی سروس آئی ڈی اور ڈی سی پی ایس آئی ڈی بنا کر تنخواہیں جاری کرنے کا الزام ہے۔
تحقیقات اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ فرضی بینک کھاتوں کا اصل کنٹرول کس کے پاس تھا، رقم کس نے وصول کی، اور آیا اس گھوٹالے میں مزید سرکاری ملازمین یا بیرونی افراد بھی شامل تھے۔ مالیاتی لین دین، بینک ریکارڈ، ڈیجیٹل ڈیٹا اور دیگر دستاویزات کی فرانزک جانچ جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ سرکاری محکموں میں مضبوط ڈیجیٹل نگرانی، باقاعدہ آڈٹ اور شفاف مالیاتی نظام کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے گھوٹالوں کو روکا جا سکے۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


