تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
یوپی اسمبلی میں ستیش مہانا جذباتی، ایوان کا وقار برقرار رکھنے کی اپیل


اتر پردیش اسمبلی کے مانسون اجلاس کے تیسرے دن ایوان میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر رہیں۔ ایک طرف یوگی حکومت کے *₹59,019 کروڑ* کے ضمنی بجٹ پر بحث جاری رہی، جبکہ دوسری جانب ایوان کے نظم و ضبط اور پارلیمانی روایات بھی مرکزی موضوع بن گئیں۔

اسمبلی کے اسپیکر *ستیش مہانا* نے حالیہ ہنگاموں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سیاسی زندگی اب آخری مرحلے میں پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ حالیہ واقعات کے بعد وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ آیا وہ اس منصب کے لائق ہیں یا نہیں۔ ان کے اس بیان سے ایوان میں کچھ دیر کے لیے سنجیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا۔

انہوں نے تمام جماعتوں کے اراکین سے اپیل کی کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حصہ ضرور ہے، لیکن ایوان کی عزت، پارلیمانی روایات اور شائستہ زبان کا احترام ہر رکن کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق عوام اسمبلی کو ایک باوقار جمہوری ادارے کے طور پر دیکھتے ہیں، اس لیے ہر رکن کو اپنے طرزِ عمل کا خیال رکھنا چاہیے۔

یہ بیان ایک دن بعد سامنے آیا جب اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باعث اسمبلی کی کارروائی متاثر ہوئی تھی۔ سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی *سچن یادو* نے ایوان کے اندر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی تصویر لہرا دی تھی، جسے اسپیکر نے قواعد کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے انہیں پورے مانسون اجلاس کی باقی مدت کے لیے معطل کر دیا۔

ستیش مہانا نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ سچن یادو بہتر پارلیمانی رویہ اختیار کریں گے، لیکن ان کا طرزِ عمل مایوس کن رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسمبلی کے قواعد تمام اراکین پر یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں۔

ادھر ایوان میں ضمنی بجٹ پر بحث بھی جاری رہی اور اپوزیشن نے مختلف عوامی مسائل کو بھی اٹھایا۔ اسپیکر نے بار بار تمام اراکین سے اپیل کی کہ وہ پرامن انداز میں اپنی بات رکھیں اور غیر ضروری ہنگامے سے گریز کریں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ستیش مہانا کا جذباتی خطاب صرف اپوزیشن کے لیے نہیں بلکہ تمام اراکین کے لیے ایک پیغام تھا کہ جمہوری اداروں کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے پارلیمانی روایات اور باوقار طرزِ عمل کو ہر حال میں مقدم رکھا جانا چاہیے۔
 

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·