جھارکھنڈ میں JPSC-JSSC سے متعلق مسائل کو لے کر طلبہ کا احتجاج جاری ہے۔ اسی دوران ریاستی حکومت نے طلبہ کے ساتھ بات چیت کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ حکومت نے طلبہ اور دیگر متعلقہ فریقوں سے تجاویز اور شکایات طلب کی ہیں تاکہ ان کے مسائل کو سمجھا جاسکے اور آگے کی کارروائی کے لیے مناسب فیصلہ کیا جاسکے۔
حکومت کی جانب سے طلبہ اور عام لوگوں کے لیے ایک ای میل آئی ڈی جاری کی گئی ہے۔ طلبہ، امیدوار اور دیگر اسٹیک ہولڈرز اس ای میل کے ذریعے اپنی شکایات، مطالبات اور تجاویز حکومت تک پہنچا سکتے ہیں۔*تجاویز بھیجنے کے لیے ای میل:
[JPSSC.feedback@gmail.com](mailto:JPSSC.feedback@gmail.com)
یہ قدم ایسے وقت اٹھایا گیا ہے جب جھارکھنڈ میں طلبہ کی جانب سے بھرتی امتحانات اور ان سے متعلق مختلف مسائل کو لے کر احتجاج کیا جارہا ہے۔ طلبہ کی جانب سے مسلسل مطالبہ کیا جارہا ہے کہ حکومت ان کے مسائل پر واضح اور ٹھوس فیصلہ کرے۔
جھارکھنڈ کے وزیر سودیو کمار سونو نے طلبہ کے ایک نمائندہ وفد سے ملاقات کے بعد کہا کہ حکومت مختلف طلبہ گروپوں اور تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل بات چیت کرے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ صرف ایک تنظیم یا ایک نمائندہ وفد سے بات کرنے کے بجائے احتجاج سے وابستہ مختلف گروپوں اور طلبہ تنظیموں کی رائے بھی حاصل کی جائے گی۔ اس کا مقصد تمام فریقوں کے مسائل اور تجاویز کو سمجھنا ہے۔
وزیر کے مطابق حکومت کی جانب سے جاری کی گئی ای میل آئی ڈی کے ذریعے موصول ہونے والی تجاویز پر بھی غور کیا جائے گا۔ مختلف فریقوں کی بات سننے اور ان کی تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد حکومت آگے کا فیصلہ کرنے کی کوشش کرے گی۔
حکومت کی جانب سے یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ مختلف طلبہ تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کی جائے گی۔ اس میں احتجاج سے جڑے مختلف گروپوں کے ساتھ براہ راست بات چیت شامل ہوگی۔*دیپیکا پانڈے سنگھ کا بھی طلبہ سے بات چیت پر زور
کانگریس کوٹے کی وزیر دیپیکا پانڈے سنگھ نے بھی طلبہ سے بات چیت کے حوالے سے معلومات دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہفتے کے روز طلبہ کے ایک گروپ JKLM کے نمائندوں سے بات چیت کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج سے وابستہ دیگر طلبہ گروپوں سے بھی بات چیت کی جائے گی۔ ان کے مطابق طلبہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو اور ان کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل کی معلومات وزیر اعلیٰ تک پہنچائی جائیں گی۔
اس کے بعد ریاستی حکومت طلبہ کے مطالبات اور بات چیت کے دوران سامنے آنے والے مسائل کا جائزہ لے گی اور آگے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
حکومت کی جانب سے بات چیت شروع کرنے اور تجاویز کے لیے ای میل جاری کرنے کے باوجود طلبہ کا احتجاج ختم نہیں ہوا ہے۔ طلبہ کے ایک نمائندے نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پر کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں کیا جاتا، احتجاج جاری رہے گا۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ صرف ملاقاتیں کرنے یا تجاویز لینے سے احتجاج ختم نہیں ہوگا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت ان کے مسائل پر واضح موقف اختیار کرے اور عملی اقدامات کرے۔
ای میل آئی ڈی جاری کیے جانے سے طلبہ کو اپنی شکایات اور تجاویز براہ راست حکومت تک پہنچانے کا ایک نیا ذریعہ بھی مل گیا ہے۔ وہ اپنے مسائل اور مطالبات تحریری شکل میں حکومت تک پہنچا سکتے ہیں۔
اب حکومت اور مختلف طلبہ گروپوں کے درمیان ہونے والی مزید بات چیت اس احتجاج کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ حکومت نے تمام فریقوں کی بات سننے اور اس کے بعد فیصلہ کرنے کی بات کہی ہے، جبکہ طلبہ نے واضح کردیا ہے کہ ٹھوس فیصلے تک احتجاج جاری رہے گا۔
آنے والے دنوں میں حکومت اور طلبہ کے درمیان ہونے والی ملاقاتیں اور بات چیت اس معاملے کے حل کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہیں۔ اگر حکومت طلبہ کے مطالبات پر واضح فیصلہ کرتی ہے تو احتجاج ختم ہونے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے، جبکہ فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں طلبہ کی تحریک مزید جاری رہنے کا امکان ہے۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


