تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
مالیا تنازع ختم کرنے پر ہائی کورٹ کا زور


ممبئی۔ کاروباری شخصیت وجے مالیا اور بینکوں کے درمیان تقریباً 9 ہزار کروڑ روپے کے مالی تنازع کا معاملہ ایک بار پھر بامبے ہائی کورٹ کے سامنے ہے۔ عدالت نے سماعت کے دوران کہا کہ یہ تنازع تقریباً ایک دہائی سے جاری ہے اور اب اسے کسی منطقی نتیجے تک پہنچنا چاہیے۔

یہ معاملہ کنگ فشر ایئرلائنز کے لیے مختلف بینکوں سے لیے گئے قرض سے متعلق ہے۔ قرض کی ادائیگی نہ ہونے کے بعد بینکوں نے اپنی رقم کی وصولی کے لیے قانونی کارروائی شروع کی۔ بعد میں مالیا کی جائیدادوں اور ان کی ضبطی سے متعلق معاملات بھی قانونی تنازع کا حصہ بن گئے۔

وجے مالیا مارچ 2016 میں بھارت چھوڑ کر برطانیہ چلے گئے تھے۔ ان کے خلاف بھارت میں قانونی کارروائی جاری رہی اور 2019 میں انہیں مفرور اقتصادی مجرم قرار دیا گیا۔

ضبط شدہ جائیدادوں سے متعلق چیلنج

مالیا نے 2020 میں خصوصی عدالت کے ایک حکم کو چیلنج کیا تھا، جس کے تحت بینکوں کے ایک گروپ کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے ضبط کی گئی جائیدادوں کو بقایا رقم کی وصولی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

مالیا کا موقف تھا کہ ان کی جائیدادوں سے متعلق یہ حکم قانونی طور پر درست نہیں تھا۔ بعد میں یہ معاملہ بامبے ہائی کورٹ کے سامنے پہنچا۔

عدالت نے عملی حل پر زور دیا

جسٹس ملند جادھو کی سنگل جج بینچ نے معاملے کی سماعت کی اور تنازع کے طویل عرصے سے زیر التوا ہونے پر توجہ دلائی۔

عدالت نے کہا کہ معاملہ تقریباً ایک دہائی سے چل رہا ہے اور اب اسے منطقی نتیجے تک پہنچایا جانا چاہیے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ تجارتی تنازعات میں فریقین کو طویل قانونی لڑائی میں الجھے رہنے کے بجائے عملی حل تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

عدالت نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سے تحقیقات کی موجودہ صورتحال اور ضبط شدہ جائیدادوں کے بارے میں معلومات بھی طلب کی ہیں۔

 معیشت پر ممکنہ اثرات

عدالت نے اشارہ دیا کہ اتنے بڑے مالی تنازع کا طویل عرصے تک جاری رہنا صرف متعلقہ فریقین تک محدود نہیں رہتا۔ بینکوں اور بڑی مالی رقوم سے متعلق مقدمات کے طویل عرصے تک زیر التوا رہنے سے وسیع اقتصادی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

اسی وجہ سے عدالت نے معاملے کو حل کی طرف لے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔

 فروری میں بھی ہوئی تھی سماعت

مالیا کی دیگر درخواستوں پر فروری میں بھی بامبے ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی تھی۔

چیف جسٹس چندرشیکھر اور جسٹس گوتم انکھاد کی بینچ نے مفرور اقتصادی مجرم قانون کے تحت مالیا کو مفرور اقتصادی مجرم قرار دیے جانے سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی تھی۔

12 فروری کی سماعت میں عدالت نے مالیا کی بھارت واپسی سے متعلق سوال اٹھایا تھا اور ان سے پوچھا گیا تھا کہ اگر وہ عدالت سے راحت چاہتے ہیں تو کیا وہ بھارت واپس آ کر بھارتی عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

18 فروری کی اگلی سماعت میں مالیا کی جانب سے کہا گیا کہ وہ اس وقت یہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ بھارت کب واپس آئیں گے۔ ان کے وکلا نے انگلینڈ کی عدالتوں کی جانب سے عائد پابندیوں کا حوالہ دیا۔

 مالیا کے وکیل کی دلیل

مالیا کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل امیت دیسائی نے عدالت سے درخواست کی کہ دونوں درخواستوں کی الگ الگ سماعت کی جائے۔

انہوں نے دلیل دی کہ صرف اس بنیاد پر درخواستوں پر سماعت نہیں روکی جانی چاہیے کہ مالیا اس وقت بھارت میں جسمانی طور پر موجود نہیں ہیں۔

ان کی قانونی ٹیم نے سابقہ عدالتی فیصلوں کا بھی حوالہ دیا، جن میں درخواست گزاروں کی غیر موجودگی کے باوجود آئینی عدالتوں نے معاملات پر سماعت کی تھی۔

اب آگے کیا ہوگا

بامبے ہائی کورٹ کی تازہ کارروائی کے بعد معاملے میں آئندہ سماعت اہم ہوگی۔ عدالت نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سے تحقیقات اور ضبط شدہ جائیدادوں کی موجودہ صورتحال کی معلومات طلب کی ہیں۔

بینک کئی برسوں سے اپنے بقایا قرض کی وصولی کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ مالیا اپنی جائیدادوں اور ان کے خلاف ہونے والی قانونی کارروائی کو چیلنج کرتے رہے ہیں۔

عدالت کی تازہ رائے سے ظاہر ہوتا ہے کہ طویل عرصے سے جاری اس تنازع کو کسی عملی اور منطقی انجام تک پہنچانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·