راجیہ سبھا میں *پبلک ایگزامینیشن (غیر قانونی ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل 2026* پر تفصیلی بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت سیاسی اختلافات دیکھنے کو ملے۔ اس بل کا مقصد امتحانی پیپر لیک، منظم نقل اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بحث کے دوران کہا کہ صرف سزا اور جرمانے بڑھا دینے سے پیپر لیک جیسے جرائم ختم نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق اصل ضرورت قانون پر مؤثر عمل درآمد، شفاف تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف بروقت کارروائی کی ہے تاکہ محنت کرنے والے طلبہ کو انصاف مل سکے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں کئی مرتبہ پیپر لیک کے ذمہ دار افراد بچ نکلے جبکہ ایمانداری سے امتحان دینے والے لاکھوں طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے امتحانی نظام میں مزید اصلاحات اور جوابدہی کی ضرورت پر زور دیا۔
اپنے خطاب میں کھڑگے نے طلبہ کے احتجاج سے متعلق معاملات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ طلبہ کے خدشات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور مناسب جواب دیا جانا چاہیے۔
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی بحث سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ سخت قانون کی ضرورت کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد پورے ملک میں امتحانی نظام کو شفاف، محفوظ اور منصفانہ بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ UPSC، SSC، RRB، IBPS اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) جیسی ادارے لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل سے وابستہ امتحانات منعقد کرتے ہیں، اس لیے ان امتحانات کی ساکھ برقرار رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
حکومت کے مطابق اس ترمیمی بل میں پیپر لیک کے مقدمات کی مقررہ مدت میں تحقیقات، منظم امتحانی جرائم پر سخت سزائیں اور بھاری مالی جرمانے جیسے اہم اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔
یہ بل پہلے ہی لوک سبھا سے منظور ہو چکا ہے اور اب راجیہ سبھا میں زیر غور ہے۔ منظوری کے بعد اسے صدرِ جمہوریہ کی منظوری کے لیے بھیجا جائے گا، جس کے بعد یہ قانون نافذ ہو سکے گا۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


