*نئی دہلی:* پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ منگل کے روز پارلیمنٹ کے باہر NDA اور کانگریس سمیت اپوزیشن کے ارکان ایک دوسرے کے سامنے احتجاج کرتے نظر آئے۔ مکر دروازے کے قریب دونوں جانب کے ارکان نے اپنے اپنے مسائل کو لے کر نعرے بازی کی اور ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے۔
اپوزیشن ارکان نے NEET پیپر لیک معاملے اور طلبہ کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی کا مسئلہ اٹھایا۔ اپوزیشن کا مطالبہ تھا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں آکر دہلی میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف ہوئی پولیس کارروائی پر جواب دیں۔
اپوزیشن نے ایودھیا میں رام مندر کے لیے جمع کیے گئے چندے میں مبینہ بے ضابطگی کا معاملہ بھی اٹھایا اور اس پر پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب NDA ارکان نے جھارکھنڈ میں JPSC اور JSSC امیدواروں کے احتجاج کے دوران مبینہ لاٹھی چارج کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کانگریس اور راہل گاندھی کو نشانہ بنایا۔ حکمراں اتحاد کے ارکان نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی طلبہ کے احتجاج کے معاملے پر مختلف ریاستوں میں دوہرا معیار اختیار کر رہے ہیں۔
مکر دروازے کے باہر دونوں جانب احتجاج
پارلیمنٹ کمپلیکس کے اہم دروازوں میں شامل مکر دروازے کے باہر منگل کو حکمراں اتحاد اور اپوزیشن کے ارکان الگ الگ گروپوں میں احتجاج کرتے نظر آئے۔ ارکان کے ہاتھوں میں پوسٹر اور بینر تھے اور وہ اپنے اپنے مسائل پر نعرے لگا رہے تھے۔
اپوزیشن ارکان نے NEET پیپر لیک اور طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کیا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر طاقت کا استعمال کیا گیا اور حکومت کو پارلیمنٹ میں اس کی وضاحت کرنی چاہیے۔
اپوزیشن نے رام مندر کے لیے جمع کیے گئے چندے میں مبینہ بے ضابطگی کا معاملہ بھی اٹھایا۔ اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کرائی جائے اور حکومت صورتحال واضح کرے۔
NDA ارکان نے راہل گاندھی کو نشانہ بنایا
اپوزیشن کے احتجاج کے جواب میں NDA ارکان نے جھارکھنڈ میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مبینہ لاٹھی چارج کا مسئلہ اٹھایا۔ حکمراں اتحاد کے ارکان نے راہل گاندھی اور کانگریس سے سوال کیا کہ طلبہ کے احتجاج کے معاملے پر ان کا موقف یکساں کیوں نہیں ہے۔
BJP ارکان نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی دہلی میں طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی پر حکومت سے سوال کر رہے ہیں، جبکہ جھارکھنڈ میں کانگریس ریاستی حکومت میں اتحادی ہے اور وہاں بھی احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
اسی بنیاد پر NDA ارکان نے راہل گاندھی پر دوہرے معیار کا الزام عائد کیا۔
وزیر داخلہ کے جواب پر بھی تعطل
پارلیمنٹ میں جاری تعطل کے درمیان حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ امت شاہ کے پارلیمنٹ میں جواب دینے کی پیشکش بھی کی گئی ہے۔
پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا تھا کہ وزیر داخلہ اپوزیشن کے سوالات کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن اس کے لیے ایوان کی کارروائی بغیر رکاوٹ کے چلنی چاہیے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اپنے مسائل کو پارلیمانی بحث کے ذریعے اٹھا سکتی ہے اور وزیر داخلہ متعلقہ سوالات کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
تاہم لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن صرف وزیر داخلہ کی رائے سننے میں دلچسپی نہیں رکھتی بلکہ وہ یہ جاننا چاہتی ہے کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی کے پیچھے ذمہ دار کون تھا۔
پارلیمنٹ کی کارروائی مسلسل متاثر
پارلیمنٹ میں کئی دن سے جاری ہنگامے اور احتجاج کا اثر ایوان کی کارروائی پر بھی پڑ رہا ہے۔ نعرے بازی اور احتجاج کے باعث لوک سبھا کی کارروائی کئی مرتبہ ملتوی ہوئی۔
مانسون اجلاس کے آخری ہفتے میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے ارکان سے تعاون کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت وزیر داخلہ کے جواب کی اپوزیشن کی بنیادی مانگ کو قبول کر چکی ہے اور دیگر مسائل پر بھی بحث کی جا سکتی ہے۔
اسپیکر نے ارکان سے اپیل کی کہ وہ پارلیمنٹ کی کارروائی چلنے دیں تاکہ اہم مسائل پر باقاعدہ بحث ہو سکے۔
پریانکا گاندھی کے سامنے بھی نعرے بازی
کانگریس رکن پارلیمنٹ پریانکا گاندھی جب پارلیمنٹ پہنچیں تو BJP ارکان نے بھی راہل گاندھی کے خلاف نعرے لگائے۔
BJP ارکان، جن میں مکیش دلال بھی شامل تھے، نے راہل گاندھی سے جھارکھنڈ میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مبینہ لاٹھی چارج پر جواب دینے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کے ہاتھوں میں ایسے بینر بھی موجود تھے جن میں راہل گاندھی سے جھارکھنڈ میں طلبہ پر ہوئی مبینہ پولیس کارروائی پر جواب طلب کیا گیا تھا۔
پریانکا گاندھی احتجاج کرنے والے ارکان کے پاس سے گزرتے ہوئے ان سے بات کرتی نظر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی جھارکھنڈ میں احتجاج کرنے والے طلبہ سے پہلے ہی ملاقات کر چکے ہیں۔
طلبہ کا مسئلہ سیاسی ٹکراؤ کا مرکز بنا
NEET پیپر لیک اور طلبہ کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی اب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑے سیاسی تنازع کا مرکز بن چکے ہیں۔
اپوزیشن مرکز سے طلبہ کے ساتھ ہونے والی مبینہ پولیس کارروائی پر جواب طلب کر رہی ہے، جبکہ NDA ارکان جھارکھنڈ کے معاملے کو بنیاد بنا کر کانگریس اور راہل گاندھی کے موقف پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
دونوں جانب سے احتجاج اور نعرے بازی جاری رہنے کے باعث پارلیمنٹ کی کارروائی متاثر ہو رہی ہے۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کب اتفاق رائے قائم ہوتا ہے اور ان مسائل پر پارلیمنٹ میں باقاعدہ بحث ممکن ہو پاتی ہے۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


