تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
دہلی، پٹنہ سے بنگلورو تک بی جے پی کا احتجاج، کھڑگے سے معافی اور استعفے کا مطالبہ

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کے بیان پر ملک کی سیاست میں تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ کھڑگے کے بیان کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے پیر کے روز ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے۔ دہلی، پٹنہ سے لے کر بنگلورو تک بی جے پی کارکنوں نے سڑکوں پر اتر کر اپنے احتجاج کا اظہار کیا اور کانگریس صدر سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ اس معاملے نے بی جے پی اور کانگریس کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

بی جے پی نے ملکارجن کھڑگے کے بیان کو نامناسب اور توہین آمیز قرار دیتے ہوئے سخت اعتراض کیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ملک کے وزیر اعظم کے بارے میں گفتگو کرتے وقت سیاسی رہنماؤں کو اپنے الفاظ اور لہجے کا خیال رکھنا چاہیے۔ بی جے پی نے کھڑگے کے بیان پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے الفاظ کی ذمہ داری قبول کریں اور عوام کے سامنے معافی مانگیں۔ پارٹی نے کانگریس صدر سے فوری طور پر استعفیٰ دینے کا مطالبہ بھی کیا۔

ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کے دوران بی جے پی کارکنوں نے مختلف ریاستوں میں پارٹی دفاتر کے باہر مظاہرے کیے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگائے۔ دہلی میں کارکنوں نے کھڑگے کے بیان پر اپنی مخالفت درج کرائی، جبکہ پٹنہ میں بھی بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کے ذریعے پارٹی کا موقف سامنے رکھا۔ بنگلورو سمیت دیگر شہروں میں بھی مظاہرے کیے گئے۔ ان احتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے بی جے پی نے واضح کیا کہ وہ کانگریس صدر کے بیان کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور اس معاملے پر جواب چاہتی ہے۔

بی جے پی نے اس موقع پر سیاسی رہنماؤں کے عوامی بیانات میں شائستگی اور ذمہ داری کی اہمیت پر زور دیا۔ پارٹی نے کہا کہ سیاسی اختلافات جمہوریت کا حصہ ہیں، لیکن اختلاف کے اظہار میں زبان کی حدود کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ بی جے پی کے مطابق، سینئر رہنماؤں کو اپنے عہدے اور عوامی ذمہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے بیانات دینے چاہئیں۔ اسی بنیاد پر پارٹی نے کھڑگے سے معافی اور استعفے کا مطالبہ دہرایا۔

اس تنازع کے باعث بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سیاسی بیان بازی مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔ بی جے پی اس معاملے پر کانگریس کو گھیر رہی ہے، جبکہ کھڑگے کے بیان پر سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں نے اس معاملے کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ اب اس معاملے پر کانگریس کی جانب سے سامنے آنے والے ردعمل پر بھی نظر رہے گی۔

خبر کو مختصر اور زیادہ تیز بنائیںسرخی اور ذیلی سرخی تجویز کریں

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·