تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
دہلی میونسپل کارپوریشن میں ترقیاتی فنڈ اور آلودگی پر ہنگامہ، AAP-BJP کونسلروں میں تلخی


دہلی میونسپل کارپوریشن کے اجلاس میں ترقیاتی فنڈ پر ہنگامہ

دہلی میونسپل کارپوریشن (MCD) کے اجلاس میں جمعرات کو ترقیاتی فنڈ اور فضائی آلودگی کے معاملے پر زبردست ہنگامہ دیکھنے میں آیا۔ عام آدمی پارٹی (AAP) کے کونسلروں نے اپنے وارڈوں میں ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈ جاری کرنے اور اس کی رقم بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ اس معاملے پر بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے کونسلروں کے درمیان شدید بحث ہوئی، جو بعد میں تنازع میں تبدیل ہو گئی۔

صورتحال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب دونوں جانب کے کونسلر آمنے سامنے آ گئے اور ہاتھا پائی کی نوبت آ گئی۔ ہنگامے کے درمیان میئر پرویش واہی کو ان کی حفاظت کے پیش نظر باہر نکالا گیا۔ حالات کو دیکھتے ہوئے اجلاس کی کارروائی بھی ملتوی کرنی پڑی۔

اجلاس میں ترقیاتی فنڈ کے علاوہ دہلی میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ اپوزیشن نے آلودگی پر قابو پانے کے لیے میونسپل کارپوریشن اور حکومت کے اقدامات پر سوال اٹھائے۔ واقعے کے بعد مبینہ بدانتظامی اور نامناسب رویے کی جانچ کے لیے معاملہ تادیبی کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔

AAP کونسلروں کا ایک کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈ کا مطالبہ

اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے کونسلروں کے لیے ترقیاتی فنڈ جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس پر میئر پرویش واہی نے 25 لاکھ روپے کا ترقیاتی فنڈ جاری کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مالی سال کے دوران کونسلروں کو مجموعی طور پر دو کروڑ روپے کا فنڈ فراہم کیا جائے گا۔

تاہم، عام آدمی پارٹی کے کونسلر اس اعلان سے مطمئن نہیں ہوئے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ترقیاتی فنڈ کی رقم بڑھا کر ایک کروڑ روپے کی جائے۔ اسی معاملے پر احتجاج میں شدت آ گئی اور AAP کونسلر میئر کی نشست کے قریب پہنچ گئے۔

صورتحال کشیدہ ہونے کے بعد اجلاس کی کارروائی پانچ منٹ کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ ترقیاتی فنڈ کی رقم اور اس کی تقسیم کا معاملہ اجلاس میں سیاسی اختلافات کی بڑی وجہ بن گیا۔

کونسلروں کے ترقیاتی فنڈ کو مقامی سطح پر شہری سہولتوں میں بہتری کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس رقم سے سڑکوں، نالیوں، صفائی اور دیگر بنیادی سہولتوں سے متعلق کام کیے جا سکتے ہیں۔ اسی لیے فنڈ کی رقم اور اس کے اجرا کو لے کر اجلاس میں اختلاف سامنے آیا۔*آلودگی کے معاملے پر بھی AAP اور بی جے پی آمنے سامنے

اجلاس دوبارہ شروع ہونے کے بعد فضائی آلودگی کے معاملے پر بحث کی گئی۔ اس دوران اپوزیشن نے دہلی میں آلودگی پر قابو پانے کے لیے حکومت اور میونسپل کارپوریشن کی کارکردگی پر سوال اٹھائے۔

دہلی میں فضائی آلودگی شہریوں کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔ اسی وجہ سے اجلاس میں اس موضوع پر بحث کے دوران اپوزیشن نے متعلقہ اقدامات اور انتظامی کارروائی کے بارے میں سوالات کیے۔

تاہم، بحث کے دوران سیاسی الزام تراشی بڑھنے لگی اور بی جے پی و عام آدمی پارٹی کے کونسلروں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا۔ بتایا گیا کہ دونوں جماعتوں کے کونسلر ایک دوسرے کے سامنے آ گئے، جس کے بعد صورتحال مزید خراب ہو گئی۔

ہنگامے کے باعث اجلاس کی کارروائی متاثر ہوئی اور ایوان میں نظم و ضبط برقرار رکھنا مشکل ہو گیا۔ اس واقعے نے شہری مسائل پر بحث کے دوران سیاسی جماعتوں کے رویے پر بھی سوالات کھڑے کیے ہیں۔

AAP کونسلر میئر کی نشست تک پہنچیں، مائیک توڑنے کا الزام

ہنگامے کے دوران AAP کونسلر شگفتہ زبیر کے میئر کی نشست تک پہنچنے کی اطلاع سامنے آئی۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے وہاں نصب مائیک کو توڑنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ اجلاس کے دوران پانی اور فائلیں پھینکے جانے کے الزامات بھی لگائے گئے۔

اپوزیشن لیڈر انکش نارنگ پر بھی مائیک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ تاہم، دستیاب معلومات کی بنیاد پر ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ معاملے کی مکمل جانچ کے بعد ہی اس بارے میں واضح صورت حال سامنے آ سکے گی۔

ہنگامہ بڑھنے کے بعد مارشل میئر پرویش واہی کو بحفاظت باہر لے گئے۔ اس دوران اجلاس کی کارروائی متاثر رہی اور کونسلروں کے درمیان تنازع جاری رہا۔

*کانگریس رہنما کے تبصرے کے بعد بھی کشیدگی میں اضافہ*

اجلاس میں کانگریس کی رہنما نازیہ دانش اور اپوزیشن لیڈر انکش نارنگ کے درمیان تلخ کلامی کو بھی تنازع کی ایک وجہ بتایا جا رہا ہے۔ اجلاس کے دوران نازیہ دانش عام آدمی پارٹی پر تنقید کر رہی تھیں۔

اس دوران انکش نارنگ نے ان کے بی جے پی کے قریب ہونے سے متعلق تبصرہ کیا۔ جواب میں نازیہ دانش نے کہا کہ وہ شگفتہ چودھری نہیں ہیں جو بی جے پی میں شامل ہو جائیں گی۔ اس تبصرے کے بعد ایوان میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

مختلف جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان الزام تراشی تیز ہونے سے اجلاس کا ماحول مزید خراب ہو گیا۔ اس طرح ترقیاتی فنڈ اور آلودگی سے شروع ہونے والا تنازع سیاسی بیان بازی کی وجہ سے مزید شدت اختیار کر گیا۔

انکش نارنگ پر کونسلروں کی طرف گرم چائے پھینکنے کا الزام

اجلاس کی کارروائی ملتوی ہونے کے بعد میئر پرویش واہی اور دیگر رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرکے واقعے کے بارے میں اپنا موقف پیش کیا۔

میئر نے الزام لگایا کہ عام آدمی پارٹی کے کونسلروں نے ہنگامہ کرکے اجلاس کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالی۔ ان کے مطابق، اجلاس میں کئی اہم اعلانات کیے جانے تھے، لیکن ہنگامے کی وجہ سے کارروائی متاثر ہوئی۔

پریس کانفرنس کے دوران اپوزیشن لیڈر انکش نارنگ پر کونسلروں کی طرف گرم چائے پھینکنے کا الزام بھی لگایا گیا۔ اس الزام کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات سے نہیں ہو سکی ہے۔ معاملے کی جانچ کے دوران اس پہلو کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

میئر نے واضح کیا کہ پورا معاملہ تادیبی کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے۔ کمیٹی واقعے اور متعلقہ الزامات کی جانچ کرے گی اور اس کے بعد آئندہ کارروائی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

تادیبی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد کارروائی ممکن

دہلی میونسپل کارپوریشن نے اجلاس میں مبینہ نامناسب رویے کے معاملے کو تادیبی کمیٹی کے حوالے کر دیا ہے۔ کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ اجلاس کے دوران کن کونسلروں نے قواعد کی خلاف ورزی کی اور کیا کسی نے ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالی یا سرکاری سامان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔

میئر پرویش واہی کے مطابق، کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر معطلی سمیت دیگر تادیبی کارروائی پر غور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، کسی بھی کونسلر کے خلاف حتمی کارروائی جانچ مکمل ہونے اور متعلقہ طریقہ کار کے بعد ہی طے ہوگی۔

اس واقعے نے دہلی میونسپل کارپوریشن میں ترقیاتی فنڈ کی تقسیم، فضائی آلودگی پر قابو پانے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے معاملے کو دوبارہ اہم بنا دیا ہے۔

اب سب کی نظریں تادیبی کمیٹی کی رپورٹ اور اس کے بعد ہونے والے فیصلے پر ہیں۔

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·