تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
بہار کے بگہا اسٹیشن پر امریت بھارت ایکسپریس سے لہسن کی 12 بوریاں برآمد


بہار کے ضلع مغربی چمپارن کے بگہا ریلوے اسٹیشن پر ریلوے پروٹیکشن فورس (RPF) نے تلاشی کے دوران مشتبہ چینی لہسن کی 12 بوریاں برآمد کی ہیں۔ یہ بوریاں امریت بھارت ایکسپریس کے جنرل کوچ میں موجود تھیں۔ برآمد شدہ لہسن کی اندازاً قیمت تقریباً 56 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔ بوریاں لاوارث حالت میں ملنے کے بعد ریلوے سکیورٹی فورس نے معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق، یہ کارروائی منگل کی صبح کی گئی۔ تقریباً 11 بجے ٹرین کی جانچ کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کی نظر جنرل کوچ میں رکھی ہوئی 12 بوریوں پر پڑی۔ جانچ کے دوران ان بوریوں میں لہسن ہونے کا پتا چلا۔ اس کے بعد اہلکاروں نے برآمد شدہ سامان کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کا عمل شروع کیا۔

بتایا گیا ہے کہ یہ کارروائی نرکٹیا گنج پوسٹ کے کمانڈر سے اطلاع ملنے کے بعد کی گئی۔ اطلاع موصول ہونے پر ٹرین کی جانچ کی گئی، جس کے دوران لہسن کی بوریاں برآمد ہوئیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، برآمد شدہ سامان کی قیمت تقریباً 56 ہزار روپے ہے۔ تاہم، یہ بوریاں کس کی تھیں اور انہیں ٹرین میں کس مقصد سے رکھا گیا تھا، اس بارے میں ابھی واضح معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

ریلوے پروٹیکشن فورس کے پوسٹ انچارج اندر جیت سنگھ کے مطابق، نرکٹیا گنج پوسٹ کمانڈر سے اطلاع ملنے کے بعد ٹرین کی تلاشی لی گئی تھی۔ اسی دوران جنرل کوچ سے لہسن کی 12 بوریاں ملی تھیں۔ اس کارروائی کے بعد حکام اس بات کا پتا لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ سامان کہاں سے آیا، اسے کہاں پہنچایا جانا تھا اور اسے ٹرین میں کس نے رکھا تھا۔

اس معاملے میں ایک اہم پہلو بوریوں کی ملکیت کا پتا لگانا ہے۔ معلومات کے مطابق، ٹرین میں موجود کسی بھی مسافر نے ان بوریوں پر اپنا دعویٰ نہیں کیا۔ ایسے میں تفتیشی حکام کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ سامان کس شخص نے ٹرین میں رکھا تھا اور اس کی منزل کیا تھی۔ فی الحال ان سوالات کے جوابات سامنے نہیں آئے ہیں۔

تفتیش کے دوران یہ شبہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ لہسن نیپال کے راستے بھارت لایا گیا ہو اور بعد میں اسے دوسری ریاستوں میں بھیجنے کا منصوبہ ہو۔ تاہم، یہ امکان ابھی تفتیش کے دائرے میں ہے۔ دستیاب معلومات سے اس بات کی حتمی تصدیق نہیں ہوتی کہ برآمد شدہ لہسن چین سے آیا تھا یا اسے غیر قانونی طور پر نیپال کے راستے بھارت میں داخل کیا گیا تھا۔

حکام کے لیے لہسن کے اصل ماخذ اور اس کی نقل و حمل کے راستے کا پتا لگانا اہم ہوگا۔ اس سے یہ معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ آیا یہ سامان کسی غیر قانونی سپلائی نیٹ ورک کا حصہ تھا یا اس کی موجودگی کے پیچھے کوئی دوسری وجہ تھی۔ اس کے ساتھ یہ بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ سامان کو کس مقام پر پہنچایا جانا تھا اور اس کی ترسیل میں کون لوگ شامل ہو سکتے ہیں۔

بگہا ریلوے اسٹیشن پر ہونے والی اس برآمدگی نے ٹرینوں کے ذریعے مشتبہ سامان کی نقل و حمل کے معاملے کو توجہ میں لا دیا ہے۔ ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے مسافروں کے ساتھ مختلف اقسام کا سامان بھی ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچایا جاتا ہے۔ ایسے میں اطلاع ملنے پر ٹرین کی جانچ کرنا اور لاوارث سامان کی شناخت کرنا سکیورٹی کے عمل کا حصہ ہے۔ اس معاملے میں بھی اطلاع کے بعد کارروائی کی گئی اور مشتبہ سامان برآمد ہوا۔

فی الحال ریلوے پروٹیکشن فورس نے لہسن کی 12 بوریاں برآمد کرنے کے بعد معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ سامان کی اندازاً قیمت 56 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔ تاہم، اس کی اصل، نقل و حمل کے راستے اور ممکنہ وصول کنندگان کے بارے میں حتمی معلومات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔

اب تفتیش کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ بوریاں کس کی ملکیت تھیں، انہیں کہاں سے لایا گیا تھا اور انہیں کس مقام پر پہنچایا جانا تھا۔ جب تک ان پہلوؤں کی تصدیق نہیں ہوتی، غیر قانونی درآمد یا اسمگلنگ کے امکان کو حتمی حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
 

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·