تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
سرخی: خواتین کی حفاظت پر سپریم کورٹ سخت، رات 10 بجے بھی تحفظ یقینی بنانے کی ہدایت


دہلی این سی آر میں خواتین اور نابالغ لڑکیوں کے خلاف حالیہ عصمت دری اور جنسی جرائم کے واقعات پر سپریم کورٹ نے پیر کو سخت تشویش کا اظہار کیا۔ عدالت نے مرکز اور دہلی پولیس سے سوال کیا کہ خواتین کی حفاظت کے لیے زمین پر کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں اور کیا حساس علاقوں میں پولیس کی گشت، نگرانی اور حفاظتی انتظامات مؤثر طریقے سے کام کر رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ صرف جرم ہوجانے کے بعد کارروائی کرنا کافی نہیں ہے۔ پولیس کو ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جن سے جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے والے افراد کے ذہن میں قانون اور سخت کارروائی کا خوف پیدا ہو۔ عدالت کے مطابق جرم کو روکنا اس کے بعد کارروائی کرنے سے زیادہ اہم ہے۔

عدالت نے کہا کہ دہلی میں ایسا ماحول بنایا جانا چاہیے جہاں ہر خاتون رات 10 بجے بھی اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرے۔ وہ سڑک پر چل رہی ہو، میٹرو سے سفر کر رہی ہو یا سڑک کے ذریعے کسی مقام پر جا رہی ہو، اسے اپنی حفاظت کے بارے میں خوف نہیں ہونا چاہیے۔ اس تبصرے میں خواتین کی حفاظت کو پولیس کے ساتھ ساتھ شہری انتظامیہ اور عوامی مقامات کی مجموعی حفاظتی صورتحال سے بھی جوڑا گیا۔

جسٹس جے بی پردیوالا اور جسٹس کے. ونود چندرن پر مشتمل بنچ دہلی این سی آر میں حالیہ عصمت دری کے واقعات سے متعلق از خود کارروائی کے معاملے کی سماعت کر رہی تھی۔ سماعت کے دوران عدالت نے دہلی پولیس سے ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے عملی اقدامات کے بارے میں سوالات کیے۔

 جرم کے بعد نہیں بلکہ پہلے روکنے پر زور

سپریم کورٹ نے کہا کہ بنیادی توجہ جرم کی روک تھام پر ہونی چاہیے۔ عدالت کی تشویش یہ تھی کہ اگر پولیس صرف واقعہ پیش آنے کے بعد ملزمان کو گرفتار کرنے اور تفتیش کرنے تک محدود رہے گی تو جرائم کے خطرے کو مؤثر طریقے سے کم نہیں کیا جا سکے گا۔

عدالت نے جنسی جرائم کی طرف مائل افراد اور سماج دشمن عناصر کے ذہن میں خوف پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ بنچ نے سخت الفاظ میں کہا کہ مجرموں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اگر وہ ایسا جرم کریں گے تو انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ قانون سے بچ نہیں سکیں گے۔

یہ تبصرہ دہلی این سی آر میں حالیہ واقعات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ عدالت ان واقعات کو صرف الگ الگ مقدمات کے طور پر نہیں دیکھ رہی بلکہ وسیع تر عوامی تحفظ اور خواتین کی حفاظت کے نظام کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔

 آستھا کنج پارک معاملے کا ذکر

سپریم کورٹ نے جنوبی دہلی کے آستھا کنج پارک میں 17 سالہ لڑکی کے مبینہ اجتماعی عصمت دری کے معاملے کا ذکر کیا۔ عدالت نے پولیس سے سوال کیا کہ اس علاقے میں جرم کو روکنے کے لیے پہلے سے کیا حفاظتی اقدامات موجود تھے اور کیا علاقے میں موجود سماج دشمن عناصر کے بارے میں ملنے والی اطلاعات پر کوئی کارروائی کی گئی تھی۔

عدالت کی توجہ اس بات پر بھی رہی کہ اگر کسی علاقے کے بارے میں پہلے سے شکایات یا خدشات موجود ہوں تو پولیس اور انتظامیہ کو فوری طور پر حفاظتی انتظامات بڑھانے چاہئیں۔ عدالت پہلے ہی یہ واضح کر چکی ہے کہ خواتین اور بچوں کے لیے استعمال ہونے والی عوامی جگہوں کو کم روشنی، کم نگرانی یا کم پولیس گشت کی وجہ سے خطرناک علاقوں میں تبدیل نہیں ہونے دیا جا سکتا۔

\چلتی بس میں نابالغ لڑکی کے معاملے پر بھی تشویش

سماعت کے دوران ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ چلتی ہوئی سلیپر بس میں مبینہ جنسی زیادتی کا معاملہ بھی زیر بحث رہا۔ یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ بس گریٹر نوئیڈا سے دہلی کی طرف سفر کر رہی تھی اور اس دوران پولیس اور نگرانی کے نظام کی مؤثریت پر سوالات اٹھے۔

سپریم کورٹ کی تشویش صرف اس مخصوص معاملے تک محدود نہیں ہے۔ عدالت یہ جاننا چاہتی ہے کہ دہلی این سی آر میں عوامی نقل و حمل، سڑکوں، پارکوں اور دیگر حساس مقامات پر خواتین اور بچوں کی حفاظت کے لیے ایسے نظام موجود ہیں یا نہیں جو کسی جرم کو ہونے سے پہلے روک سکیں۔

 جنسی مجرموں کے قومی ڈیٹا بیس پر سوال

سپریم کورٹ نے دہلی پولیس سے جنسی مجرموں کے قومی ڈیٹا بیس کے استعمال کے بارے میں بھی معلومات طلب کی ہیں۔ عدالت جاننا چاہتی ہے کہ پولیس اس ڈیٹا بیس کو عادی یا بار بار جنسی جرائم میں ملوث افراد کی شناخت اور ان کے سابقہ ریکارڈ کی جانچ کے لیے کس طرح استعمال کر رہی ہے۔

عدالت نے یہ بھی جاننا چاہا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران اس ڈیٹا بیس سے کتنی مرتبہ مدد لی گئی اور اس میں موجود معلومات کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جرائم کی روک تھام کے لیے کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔

عدالت کے اس سوال سے واضح ہوتا ہے کہ پولیس کے لیے صرف روایتی گشت اور واقعے کے بعد تفتیش کافی نہیں سمجھی جا رہی۔ دستیاب ریکارڈ، معلومات اور نگرانی کے نظام کو بھی جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

 کالجوں اور حساس علاقوں پر توجہ

سپریم کورٹ نے کالجوں اور تعلیمی اداروں کے آس پاس خواتین کی حفاظت پر بھی خصوصی توجہ دلائی۔ عدالت نے ایسے افراد کے خلاف مؤثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا جو طالبات کو مسلسل پریشان کرتے ہیں یا انہیں ہراساں کرتے ہیں۔

تعلیمی اداروں کے آس پاس کی چھوٹی شکایات کو نظر انداز نہ کرنے کی ضرورت بھی اہم ہے۔ پولیس کو چاہیے کہ ایسی شکایات پر وقت رہتے کارروائی کرے اور ان علاقوں میں مناسب گشت رکھے، خاص طور پر ان اوقات میں جب طالبات اور خواتین کا آنا جانا زیادہ ہوتا ہے۔

عدالت نے دہلی میں موجود غیر مجاز کھانے پینے کی جگہوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایسے مقامات پر بھی نگرانی کی ضرورت ہے جہاں سماج دشمن عناصر جمع ہوتے ہیں۔ پولیس کو ایسے علاقوں میں قانون کی پابندی اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے۔

 وار روم، سی سی ٹی وی اور پولیس گشت

سپریم کورٹ نے دہلی پولیس سے یہ بھی پوچھا کہ شہر میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی مسلسل نگرانی کس طرح کی جاتی ہے اور کیا کسی وار روم یا کمانڈ سینٹر کے ذریعے حساس علاقوں پر نظر رکھی جاتی ہے۔

عدالت یہ جاننا چاہتی ہے کہ صرف سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنا کافی ہے یا ان کی مسلسل نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ اگر کسی علاقے میں مشتبہ سرگرمی نظر آئے تو پولیس کتنی جلدی موقع پر پہنچ سکتی ہے، اس کا مؤثر نظام ہونا بھی ضروری ہے۔

بنچ نے پولیس گشت کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔ پارکوں، سنسان سڑکوں، عوامی نقل و حمل کے مقامات، بازاروں، کالجوں کے آس پاس اور ایسے دیگر علاقوں میں پولیس کی موجودگی بڑھانے کی ضرورت پر توجہ دی گئی جہاں خواتین اور بچے زیادہ آتے جاتے ہیں۔ خاص طور پر رات دیر گئے اور صبح سویرے کے اوقات میں حفاظتی انتظامات کو مؤثر بنانا ضروری بتایا گیا۔

نربھیا معاملے کی یاد دہانی

سماعت کے دوران جسٹس جے بی پردیوالا نے 2012 کے نربھیا معاملے کا بھی ذکر کیا۔ حالیہ واقعات کے تناظر میں عدالت کی تشویش اس بات کو لے کر ہے کہ اتنے برس گزرنے کے باوجود خواتین کے خلاف سنگین جنسی جرائم کے واقعات کیوں سامنے آ رہے ہیں اور حفاظتی نظام میں اب تک کتنی عملی بہتری آئی ہے۔

سپریم کورٹ پہلے بھی کہہ چکی ہے کہ دہلی این سی آر میں خواتین اور بچوں کے خلاف حالیہ جرائم عوامی مقامات کی حفاظت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی سے متعلق بڑے سوال اٹھاتے ہیں۔ عدالت کا زور اس بات پر ہے کہ خواتین اور بچوں کے لیے سڑکیں، پارک، عوامی نقل و حمل اور دیگر جگہیں محفوظ ہونی چاہئیں۔

اس وقت سپریم کورٹ کی کارروائی کا مقصد کسی مخصوص ملزم کو مجرم قرار دینا نہیں بلکہ دہلی این سی آر میں خواتین اور بچوں کی حفاظت سے متعلق نظام کی خامیوں کا جائزہ لینا ہے۔ انفرادی مقدمات میں جرم یا بے گناہی کا فیصلہ قانونی طریقہ کار کے مطابق ہوگا۔ عدالت متعلقہ حکام سے حفاظتی انتظامات، پولیس گشت، نگرانی اور جرائم کی روک تھام کے عملی اقدامات سے متعلق معلومات طلب کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حفاظتی نظام زمین پر کس حد تک مؤثر ہے۔

میٹا سرخی: خواتین کی حفاظت پر دہلی پولیس سے سپریم کورٹ کے سخت سوالات

میٹا تفصیل: دہلی این سی آر میں حالیہ عصمت دری کے واقعات پر سپریم کورٹ نے مرکز اور دہلی پولیس سے سخت سوالات کیے اور ہر خاتون کو رات 10 بجے بھی محفوظ محسوس کرانے، پولیس گشت اور جرائم کی روک تھام پر زور دیا۔

میٹا کی ورڈز: سپریم کورٹ، دہلی پولیس، خواتین کی حفاظت، دہلی این سی آر، عصمت دری کے واقعات، جنسی جرائم، نربھیا معاملہ، سی سی ٹی وی نگرانی، پولیس گشت، جنسی مجرموں کا ڈیٹا بیس، آستھا کنج پارک
 

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·