تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
سی جے پی کارکنوں کو پولیس نوٹس کا دعویٰ، 10 اکتوبر احتجاج پر ابھجیت دیپکے


کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت دیپکے نے 10 اکتوبر کو ہونے والے مجوزہ احتجاج سے قبل پارٹی کارکنوں کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی پر سوال اٹھائے ہیں۔ دیپکے نے دعویٰ کیا کہ سی جے پی کے بعض کارکنوں کو پولیس کی جانب سے نوٹس دیے جارہے ہیں اور انہیں احتجاج میں شامل نہ ہونے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ الزامات ابھجیت دیپکے کی جانب سے لگائے گئے ہیں اور دستیاب معلومات میں پولیس کا باضابطہ موقف شامل نہیں ہے۔

ابھجیت دیپکے نے مرکزی حکومت پر بھی سیاسی نظام سے متعلق سنگین الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ صرف ایک نعرہ ہے اور الزام لگایا کہ حکومت کا مقصد آگے چل کر ’ایک ملک، ایک سیاسی جماعت‘ کا نظام قائم کرنا ہے۔ دیپکے نے اس معاملے کو جمہوری نظام اور سیاسی شرکت سے جوڑتے ہوئے اپنی تشویش ظاہر کی۔

پولیس نوٹس کے معاملے پر بات کرتے ہوئے دیپکے نے مہاراشٹر پولیس اور دہلی پولیس کی کارکردگی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مہاراشٹر پولیس کو ملک کی بہتر پولیس فورسز میں شمار کرتے ہیں اور دہلی پولیس کو اس سے سیکھنا چاہیے۔ اسی سلسلے میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ چندرپور پولیس نے سی جے پی کارکنوں کو نوٹس جاری کیے ہیں اور انہیں جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں شرکت کے لیے سفر نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

دیپکے کا مزید دعویٰ ہے کہ کارکنوں سے جنتر منتر جانے کے لیے ہونے والے اخراجات کے ذرائع کے بارے میں بھی سوال کیا گیا۔ انہوں نے اس طرح کی پوچھ گچھ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سیاسی احتجاج میں شرکت کے لیے سفر کے اخراجات سے متعلق اس قسم کی معلومات کیوں طلب کی جارہی ہیں۔

انہوں نے اس خدشے پر بھی سوال اٹھایا کہ مجوزہ احتجاج پرتشدد ہوسکتا ہے۔ دیپکے نے پوچھا کہ پولیس پہلے سے کیسے اندازہ لگا سکتی ہے کہ کوئی احتجاج تشدد کی شکل اختیار کرے گا۔ انہوں نے سی جے پی کارکنوں کو سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر تشدد کو اکسانے والی پوسٹس سے گریز کرنے کی ہدایات پر بھی سوال اٹھایا۔

اپنے بیان میں دیپکے نے مہاتما گاندھی اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی تنظیم گاندھی اور امبیڈکر کے خیالات کی بات کرتی ہے تو اسے تشدد سے جوڑنا کس حد تک درست ہے۔ ان کے بیان کا مرکزی موضوع احتجاج کے حق اور کارکنوں پر مبینہ پابندیوں سے متعلق سوالات رہا۔

سی جے پی نے اس سے قبل اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کا خیرمقدم کیا تھا۔ پارٹی کا کہنا تھا کہ 10 اکتوبر کی مجوزہ سرگرمی کو کسی ایک تنظیم کی قیادت میں ہونے والے پروگرام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ اسے نوجوانوں کی وسیع اپیل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

10 اکتوبر کے مجوزہ احتجاج کے قریب آنے کے ساتھ ہی ابھجیت دیپکے کے تازہ دعووں نے سی جے پی کارکنوں کی شرکت اور پولیس کے کردار سے متعلق بحث کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ کارکنوں کو نوٹس دیے جانے اور احتجاج میں شرکت سے روکنے کے مبینہ دباؤ سے متعلق دعوے فی الحال دیپکے کے بیان پر مبنی ہیں، جبکہ متعلقہ پولیس حکام کا باضابطہ موقف سامنے آنا باقی ہے۔
 

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·