E20 پیٹرول کے استعمال کو فروغ دینے کے بعد اب ہندوستان میں متبادل ایندھن کے استعمال کو مزید بڑھانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ مرکزی وزیر برائے سڑک نقل و حمل و شاہراہ نتن گڈکری نے مستقبل میں 100 فیصد ایتھنول یعنی E100 پر چلنے والی گاڑیوں اور فلیکس فیول انجنوں کے حوالے سے حکومت کا منصوبہ بتایا ہے۔
مدھیہ پردیش میں نئی پبلک بس سروس کے افتتاح کے بعد ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے گڈکری نے ایتھنول کو ہندوستان کی توانائی کی ضروریات کے لیے ایک اہم متبادل قرار دیا۔ ان کے مطابق ایتھنول کے استعمال میں اضافے سے نہ صرف کسانوں کو معاشی فائدہ ہو سکتا ہے بلکہ ملک کی درآمد شدہ پٹرولیم پر انحصار بھی کم کیا جا سکتا ہے۔
گڈکری نے کہا کہ کسان اب صرف ملک کے لیے اناج پیدا کرنے والے ‘انّ داتا’ نہیں بلکہ توانائی کے شعبے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایتھنول کی پیداوار میں اضافے کے نتیجے میں مکئی کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کا بھی ذکر کیا۔
ان کے مطابق مکئی کی قیمت تقریباً 1,200 روپے فی کوئنٹل سے بڑھ کر تقریباً 2,600 روپے فی کوئنٹل تک پہنچ گئی ہے۔ گڈکری نے اسے کسانوں کے لیے آمدنی کے نئے مواقع اور ملک میں مقامی سطح پر توانائی پیدا کرنے کی سمت میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا۔E100 اور فلیکس فیول انجن پر توجہ
E100 سے مراد ایسا ایندھن ہے جس میں 100 فیصد ایتھنول استعمال کیا جا سکتا ہے۔ فلیکس فیول انجن ایسی ٹیکنالوجی پر مبنی ہوتے ہیں جو مختلف تناسب میں پیٹرول اور ایتھنول کے استعمال کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔
حکومت اب ایسی گاڑیوں اور انجنوں کی تیاری پر توجہ دے رہی ہے جو مکمل طور پر ایتھنول پر چل سکیں۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے مقامی طور پر تیار ہونے والے ایندھن کے استعمال کو بڑھانے اور درآمد شدہ پٹرولیم پر انحصار کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
گڈکری نے کہا کہ ہندوستان کو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے ایتھنول کے ساتھ ساتھ بجلی، ہائیڈروجن اور دیگر متبادل ذرائع کا استعمال بھی بڑھانا چاہیے۔ ان کے مطابق ملک کے لیے توانائی کے مختلف ذرائع کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ ہندوستان تقریباً 22 لاکھ کروڑ روپے کا پٹرولیم درآمد کرتا ہے۔ ایسے میں مقامی سطح پر تیار ہونے والے متبادل ایندھن کے استعمال کو بڑھانا ملک کی توانائی کی سلامتی کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔
لیکٹرک اور ہائیڈروجن گاڑیوں پر بھی توجہ
حکومت کی متبادل ایندھن کی حکمت عملی صرف ایتھنول تک محدود نہیں ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ہائیڈروجن سے چلنے والی گاڑیوں کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔
گڈکری نے بتایا کہ الیکٹرک ٹریکٹر پہلے ہی لانچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ ہائیڈروجن سے چلنے والی گاڑیوں پر بھی کام جاری ہے۔ انہوں نے ہائیڈروجن سے چلنے والی گاڑی ‘میرائی’ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی اس گاڑی میں سفر کرتے ہیں۔ جاپانی زبان میں ‘میرائی’ کا مطلب ‘مستقبل’ ہے۔
گڈکری نے مزید بتایا کہ ملک میں 10 روٹس پر ہائیڈروجن بسیں چلانے کے منصوبے پر کام کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد پبلک ٹرانسپورٹ میں صاف ستھرے اور متبادل ایندھن کے استعمال کو بڑھانا ہے۔
سستی اور محفوظ پبلک ٹرانسپورٹ پر زور
گڈکری نے مدھیہ پردیش میں شروع کی گئی نئی بس سروس کے حوالے سے محفوظ، سستی اور جوابدہ پبلک ٹرانسپورٹ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق بہتر پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت خاص طور پر غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں تک پہنچنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مسافروں کو بہتر سہولیات کے ساتھ AC بسوں میں سفر کا موقع ملنا چاہیے اور بس کا کرایہ ڈیزل بسوں کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد کم رکھنے کا ہدف ہونا چاہیے۔
مجموعی طور پر حکومت کی توجہ E20 کے بعد E100، فلیکس فیول، الیکٹرک موبیلٹی اور ہائیڈروجن ٹیکنالوجی جیسے متبادل ذرائع پر مرکوز ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد مقامی ایندھن کے استعمال کو بڑھانا، پٹرولیم درآمدات پر انحصار کم کرنا، کسانوں کے لیے نئے معاشی مواقع پیدا کرنا اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں صاف توانائی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
