تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
دہلی میٹرو میں متنازع پوسٹر ملنے پر ایف آئی آر درج، پولیس کی جانچ شروع


دہلی میٹرو کی ایئرپورٹ ایکسپریس لائن پر چلنے والی ایک ٹرین کے اندر متنازع پوسٹر لگائے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ان پوسٹروں میں حکومت کے کام کاج پر سوال اٹھائے گئے تھے۔ پوسٹر ملنے کے بعد دہلی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ پولیس نے دونوں پوسٹروں کو ضبط کر لیا ہے اور اب اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ انہیں ٹرین کے اندر کس نے اور کن حالات میں لگایا تھا۔

ابتدائی معلومات کے مطابق، ایئرپورٹ ایکسپریس لائن پر چلنے والی ایک میٹرو ٹرین کے اندر دو پوسٹر ملے تھے۔ ان پوسٹروں کے مواد کو حکومت کے کام کاج پر سوال اٹھانے والا بتایا گیا ہے۔ ٹرین کے اندر اس طرح پوسٹر لگائے جانے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے معاملے کا نوٹس لیا اور متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی شروع کر دی۔

دہلی پولیس نے اس معاملے میں دہلی پریوینشن آف ڈیفیسمنٹ آف پبلک پراپرٹی ایکٹ، 2007 اور میٹرو ریلوے (آپریشن اینڈ مینٹیننس) ایکٹ، 2002 کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔ یہ قوانین عوامی املاک کو نقصان پہنچانے یا میٹرو ریلوے کے آپریشن اور دیکھ بھال سے متعلق ضابطوں کی خلاف ورزی کے بعض معاملات میں کارروائی کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، اس معاملے میں پوسٹر لگانے والوں کی ذمہ داری کا تعین تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر ہی کیا جا سکے گا۔

پولیس نے ٹرین کے اندر ملنے والے دونوں پوسٹروں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ تفتیش کے دوران یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پوسٹر کس نے لگائے، انہیں ٹرین کے اندر کب لگایا گیا اور اس واقعے میں کون لوگ ملوث ہو سکتے ہیں۔ فی الحال، پوسٹر لگانے کے پیچھے موجود مقصد کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔

اس معاملے کی جانچ میں دہلی پولیس کی اسپیشل سیل بھی شامل ہے۔ پولیس واقعے سے متعلق دستیاب معلومات اور پوسٹروں کے ملنے کے حالات کا جائزہ لے رہی ہے۔ تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جا سکتی ہے۔

دہلی میٹرو میں پوسٹر لگائے جانے کے اس واقعے نے عوامی مقامات اور میٹرو کی املاک کے استعمال سے متعلق ضابطوں کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔ میٹرو ٹرینوں اور اسٹیشنوں میں مختلف سرگرمیوں کے لیے مخصوص قوانین اور ضابطے موجود ہیں۔ تاہم، اس واقعے میں پوسٹر کس طرح لگائے گئے اور اس کے پیچھے کس کی ذمہ داری ہے، اس بارے میں ابھی مزید معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔

پوسٹروں کے مواد کو حکومت کے کام کاج پر سوال اٹھانے والا بتایا گیا ہے، لیکن فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ انہیں کسی مخصوص تنظیم نے لگایا تھا یا اس میں کسی فرد کا کردار تھا۔ صرف پوسٹر ملنے اور ایف آئی آر درج ہونے سے کسی شخص یا تنظیم کی ذمہ داری ثابت نہیں ہوتی۔ اس معاملے میں حقائق کی تصدیق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہو سکے گی۔

فی الحال دہلی پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے جانچ شروع کر دی ہے اور دونوں پوسٹر ضبط کر لیے گئے ہیں۔ پوسٹر لگانے والوں کی شناخت، واقعے کے حالات اور ممکنہ قانونی کارروائی کے بارے میں مزید تفصیلات تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوں گی۔
 

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·