مغربی بنگال کے مرشدآباد ضلع میں پولیس ٹیم پر بم سے حملہ کیے جانے کے واقعے کے بعد علاقے میں ہلچل مچ گئی۔ یہ واقعہ سالار تھانہ علاقے کے کھانڈیرا گاؤں کا ہے، جہاں اتوار کی رات پولیس ٹیم مبینہ طور پر چلنے والے جوئے کے اڈے پر چھاپہ مارنے پہنچی تھی۔ اسی دوران پولیس اہلکاروں پر بم سے حملہ کیے جانے کا الزام ہے۔
حملے میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر سادیک علی شدید زخمی ہوگئے۔ واقعے کے بعد انہیں فوری طور پر بہرام پور میں واقع مرشدآباد میڈیکل کالج اسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
پولیس کے مطابق کھانڈیرا گاؤں میں جوئے کا اڈہ چلائے جانے کی اطلاع ملی تھی۔ اطلاع کی بنیاد پر پولیس ٹیم رات کے وقت موقع پر پہنچی اور کارروائی شروع کی۔ پولیس کے پہنچتے ہی وہاں موجود کچھ لوگ مبینہ طور پر موقع سے فرار ہونے لگے۔
الزام ہے کہ فرار ہونے والے افراد میں سے کچھ نے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنا کر بم پھینکنا شروع کردیا۔ اسی دوران اے ایس آئی سادیک علی بم کی زد میں آکر شدید زخمی ہوگئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں افراتفری پھیل گئی۔
زخمی پولیس افسر اسپتال میں داخل
حملے میں زخمی اے ایس آئی کو پولیس اہلکاروں کی مدد سے فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا۔ انہیں بہرام پور کے مرشدآباد میڈیکل کالج اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ان کی طبی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کے اعلیٰ افسران نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے تحقیقات شروع کردی۔ پولیس یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ حملے میں کتنے افراد شامل تھے اور موقع پر جوئے کا مبینہ اڈہ کس طرح چلایا جا رہا تھا۔
ملزمان کی تلاش کے لیے مہم
واقعے کے بعد پولیس نے مبینہ ملزمان کی تلاش کے لیے مہم شروع کردی ہے۔ پولیس آس پاس کے علاقوں میں تفتیش کر رہی ہے اور واقعے سے وابستہ افراد کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تحقیقات کے دوران پولیس یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ بم کہاں سے لائے گئے تھے اور حملے میں استعمال کیے گئے دھماکہ خیز مواد کی نوعیت کیا تھی۔ اس کے علاوہ پولیس مقامی افراد اور ممکنہ عینی شاہدین سے بھی معلومات حاصل کرسکتی ہے۔
حکام واقعے سے متعلق تمام پہلوؤں کی جانچ کر رہے ہیں۔ پولیس یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ جوئے کے مبینہ اڈے کو کون لوگ چلا رہے تھے اور کیا اس مقام پر اس سے پہلے بھی ایسی سرگرمیوں کی شکایات سامنے آئی تھیں۔
فی الحال ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے پولیس کی کارروائی جاری ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واقعے کی مکمل صورتحال واضح ہوسکے گی۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
