اسپیشل انٹینسیو ریویژن یعنی SIR کے خلاف جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کے پیش نظر جمعہ کو نئی دہلی میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ جنتر منتر اور اس کے آس پاس بڑی تعداد میں پولیس اور دیگر سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ دہلی پولیس نے کہا ہے کہ مجوزہ احتجاج کے لیے اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اس کے باوجود سیاسی کارکنوں، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی سے وابستہ افراد کے جنتر منتر پہنچنے کا سلسلہ جاری رہا۔
عام آدمی پارٹی کی دہلی یونٹ کے صدر سوروپ بھاردواج اور پارٹی رہنما سنجیو جھا کو جنتر منتر پہنچنے کے بعد پولیس نے حراست میں لے لیا۔ حراست میں لیے جانے سے پہلے سوروپ بھاردواج نے لوگوں سے پرامن طریقے سے احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ انہوں نے جنتر منتر کے اطراف سیکیورٹی اور آمد و رفت پر عائد پابندیوں پر بھی سوال اٹھائے۔
احتجاج کا تعلق ووٹر لسٹ کے اسپیشل انٹینسیو ریویژن یعنی SIR سے جاری تنازع سے ہے۔ احتجاج میں شامل تنظیموں کی جانب سے الیکشن کمیشن کے کام کاج اور ووٹر لسٹ میں ہونے والی تبدیلیوں پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ کچھ تنظیموں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے متعلق بھی مطالبات پیش کیے ہیں۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹ کی نظرثانی کا عمل مقررہ طریقہ کار کے مطابق جاری ہے۔
نئی دہلی ضلع میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا یعنی BNSS کی دفعہ 163 کے تحت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق بغیر اجازت اجتماع، احتجاج، مارچ، دھرنا اور اس نوعیت کی دیگر سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے۔ پولیس نے لوگوں سے قانون پر عمل کرنے اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔
سیکیورٹی انتظامات کا اثر دہلی میٹرو کی خدمات پر بھی پڑا ہے۔ 11 میٹرو اسٹیشنوں پر مسافروں کے داخلے اور باہر نکلنے کی سہولت اگلے حکم تک بند کردی گئی ہے۔ ان اسٹیشنوں میں جنپتھ، پٹیل چوک، سینٹرل سیکریٹریٹ، راجیو چوک، سیوا تیرتھ، منڈی ہاؤس، لوک کلیان مارگ، INA، چاؤڑی بازار، رام کرشن آشرم مارگ اور نئی دہلی شامل ہیں۔ تاہم کچھ اہم اسٹیشنوں پر انٹرچینج کی سہولت برقرار رکھی گئی ہے۔
راجیو چوک، منڈی ہاؤس، نئی دہلی اور سینٹرل سیکریٹریٹ جیسے اسٹیشنوں پر انٹرچینج کی سہولت جاری رکھنے کی اطلاع دی گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مسافر ان مخصوص اسٹیشنوں پر ایک میٹرو لائن سے دوسری لائن میں تبدیلی کر سکتے ہیں، تاہم عام داخلہ اور باہر نکلنے کی سہولت بند ہونے کی وجہ سے مسافروں کو سفر کی منصوبہ بندی احتیاط سے کرنے کی ضرورت ہوگی۔
جنتر منتر کے آس پاس اہم سڑکوں اور حساس مقامات پر بیریکیڈنگ بھی کی گئی ہے۔ پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز کو مختلف اہم مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔ احتجاجی مقام کے قریب بھیڑ بڑھنے کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے اضافی انتظامات کیے گئے ہیں۔
مجوزہ احتجاج میں طلبہ تنظیموں، سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی سے وابستہ افراد کے شامل ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ مختلف تنظیموں کی اپنی اپنی مانگیں ہیں، تاہم احتجاج کا مرکزی موضوع SIR اور ووٹر لسٹ سے متعلق تنازع ہے۔ کچھ تنظیموں نے الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج اور چیف الیکشن کمشنر سے متعلق مطالبات کو بھی احتجاج کا حصہ بنایا ہے۔
جنتر منتر کے اطراف پولیس کے ساتھ ریپڈ ایکشن فورس کے اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے اضافی سیکیورٹی وسائل اور بیریکیڈز کا انتظام کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے یہ اقدامات امن و امان برقرار رکھنے اور بغیر اجازت بڑے اجتماع کی صورت میں کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے کیے گئے ہیں۔
جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کے دوران SIR سے متعلق الیکشن کمیشن کے دیگر اقدامات بھی اہم ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ایسے اہل ووٹروں کو ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کے لیے خصوصی مہم کا فیصلہ کیا ہے جو نظرثانی کے عمل کے دوران فہرست میں شامل ہونے سے رہ گئے ہیں۔ اس عمل میں پرانے اور موجودہ ووٹر ریکارڈ کا موازنہ، گھر گھر تصدیق اور اہل نئے ووٹروں کے اندراج پر توجہ دی جائے گی۔
جنتر منتر اور وسطی دہلی کے اطراف پابندیوں کے باعث عام لوگوں کی آمد و رفت بھی متاثر ہوئی ہے۔ خاص طور پر ان افراد کو جو احتجاجی مقام یا وسطی دہلی کے دیگر علاقوں کی طرف سفر کر رہے ہیں، میٹرو اسٹیشنوں کے بند داخلہ و خارجی راستوں اور سڑکوں پر ممکنہ پابندیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سفر کرنا پڑ رہا ہے۔
فی الحال جنتر منتر اور اس کے اطراف سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی جاری ہے۔ پولیس کی جانب سے صورتحال کے مطابق سیکیورٹی انتظامات میں تبدیلی کیے جانے کا امکان بتایا گیا ہے۔ احتجاجی مقام کی صورتحال، احتجاج میں شامل تنظیموں کی سرگرمیوں اور SIR سے متعلق الیکشن کمیشن کے آئندہ اقدامات پر نظر برقرار ہے۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
