*نئی دہلی:* الیکشن کمیشن آف انڈیا کے اندر انتظامی ذمہ داریوں اور افسران کے درمیان کام کی تقسیم کو لے کر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ حقِ اطلاعات (RTI) کے تحت حاصل دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ دو الیکشن کمشنروں، ڈاکٹر سکھبیر سنگھ سندھو اور ڈاکٹر وویک جوشی نے 29 جولائی 2026 کو کابینہ سکریٹری ٹی وی سومناتھن کو الگ الگ خطوط لکھے تھے۔ ان خطوط میں دونوں کمشنروں نے سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر منیش گرگ کے طرزِ عمل پر اعتراض کرتے ہوئے مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے سینئر افسران کے درمیان کام کی تقسیم میں کی گئی تبدیلی سے متعلق ہے۔ دونوں کمشنروں کا الزام تھا کہ متعلقہ حکم جاری کرنے سے پہلے نہ تو الیکشن کمیشن سے مشاورت کی گئی اور نہ ہی متعلقہ افسران کو اس تبدیلی کے بارے میں مناسب اطلاع دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے انتظامی فیصلے کمیشن سے پیشگی مشاورت یا منظوری کے بغیر نہیں کیے جانے چاہئیں۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
دستاویزات کے مطابق، ڈپٹی الیکشن کمشنر بھانو پرکاش یتورُو کی چھٹی کے دوران 28 جولائی 2026 کو منیش گرگ کو انتظامی شعبے کا اضافی چارج سونپا گیا تھا۔ لنک افسر کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالنے کے چند گھنٹوں کے اندر گرگ نے ایک حکم جاری کیا، جس کے ذریعے سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنروں، ڈپٹی الیکشن کمشنروں، ڈائریکٹر جنرلز اور مساوی عہدوں پر تعینات افسران کے درمیان کام کی تقسیم میں تبدیلی کی گئی۔
ڈاکٹر سکھبیر سنگھ سندھو نے اس حکم کے طریقۂ کار پر اعتراض کیا۔ کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط میں انہوں نے کہا کہ کام کی نئی تقسیم کا حکم جاری کرنے سے پہلے نہ تو ان سے مشورہ کیا گیا اور نہ ہی انہیں اس تبدیلی کے بارے میں مطلع کیا گیا۔
سندھو نے یہ بھی الزام لگایا کہ منیش گرگ نے اپنے لیے اور اپنے برابر یا ان سے سینئر افسران کے لیے کام کی تقسیم مقرر کی۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ جب گرگ ڈپٹی الیکشن کمشنر (انتظامیہ) کے طور پر کام کر رہے تھے، تب بھی اسی نوعیت کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔
سندھو کے مطابق، متعلقہ افسران کو پہلے بھی زبانی اور تحریری طور پر ہدایت دی گئی تھی کہ الیکشن کمیشن سے پیشگی مشاورت یا منظوری کے بغیر اس طرح کے انتظامی اقدامات نہ کیے جائیں۔ ان کا الزام تھا کہ ان ہدایات کے باوجود کام کی تقسیم میں تبدیلی کا حکم جاری کیا گیا۔
انہوں نے اپنے خط میں چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں (تقرری، شرائطِ ملازمت اور مدتِ کار) ایکٹ، 2023 کی دفعات 18(1) اور 18(2) کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ اقدام قانون کی متعلقہ دفعات کے مطابق نہیں تھا۔ سندھو نے کابینہ سکریٹری سے اس معاملے میں مناسب کارروائی کرنے کی درخواست کی۔
تاہم، آر ٹی آئی کے تحت دستیاب دستاویزات میں ان الزامات پر کوئی حتمی فیصلہ درج نہیں ہے۔ اس لیے شکایت میں لگائے گئے الزامات کو حتمی طور پر ثابت شدہ نہیں کہا جا سکتا۔# ڈاکٹر وویک جوشی نے بھی اعتراض اٹھایا
الیکشن کمشنر ڈاکٹر وویک جوشی نے بھی کابینہ سکریٹری کو الگ خط لکھ کر اسی نوعیت کے اعتراضات درج کرائے۔ انہوں نے کہا کہ افسران کے درمیان کام کی تقسیم میں تبدیلی کا حکم الیکشن کمیشن سے مشاورت کیے بغیر اور انہیں اطلاع دیے بغیر جاری کیا گیا۔
جوشی نے اپنے خط میں ایک اور مسئلہ بھی اٹھایا۔ ان کے مطابق، جب انہوں نے انتظامی شعبے سے متعلق فائل طلب کی تو انہیں وہ فائل فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے اس صورتِ حال پر بھی تشویش ظاہر کی۔
جوشی نے بھی اس بات کا حوالہ دیا کہ افسران کو پہلے ہدایت دی گئی تھی کہ الیکشن کمیشن سے پیشگی مشاورت یا منظوری کے بغیر ایسے فیصلے نہ کیے جائیں۔ انہوں نے 2023 کے قانون کی متعلقہ دفعات کا ذکر کرتے ہوئے حکم جاری کرنے کے طریقۂ کار پر سوال اٹھایا۔
اس طرح دونوں الیکشن کمشنروں نے الگ الگ خطوط کے ذریعے کام کی تقسیم میں تبدیلی اور اس کے اختیار کے حوالے سے اپنی تشویش کابینہ سکریٹری کے سامنے رکھی۔
کابینہ سکریٹریٹ نے کیا موقف اختیار کیا؟
آر ٹی آئی کے جواب میں سامنے آنے والی فائل نوٹنگ کے مطابق، کابینہ سکریٹریٹ نے ان خطوط کی اہمیت کو تسلیم کیا، لیکن فوری مداخلت کے معاملے میں احتیاط برتنے کی بات کہی۔ نوٹ میں کہا گیا کہ دونوں خطوط الیکشن کمشنروں نے اپنی انفرادی حیثیت میں بھیجے تھے، اس لیے انہیں پورے الیکشن کمیشن کی جانب سے بھیجا گیا باضابطہ پیغام نہیں سمجھا جا سکتا۔
فائل نوٹنگ میں یہ بھی کہا گیا کہ جب تک پورے کمیشن کی جانب سے کوئی باضابطہ پیغام موصول نہیں ہوتا، اس معاملے میں مداخلت کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ نوٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اس مرحلے پر کارروائی کو ایک آئینی ادارے کے کام میں مداخلت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
کابینہ سکریٹریٹ کی فائل میں تجویز دی گئی کہ دونوں خطوط کی وصولی کی تصدیق کی جائے اور ان کی نقول محکمۂ عملہ و تربیت (DoPT) کے سکریٹری، اسٹیبلشمنٹ افسر اور چیف الیکشن کمشنر کے پرنسپل پرائیویٹ سکریٹری کو بھیجی جائیں۔
اس کے علاوہ، معاملے کو ریکارڈ پر رکھنے کی تجویز بھی دی گئی، تاکہ مستقبل میں منیش گرگ سے متعلق کسی فیصلے کے وقت ان شکایات کو مدنظر رکھا جا سکے۔ تاہم، دستیاب نوٹنگ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان الزامات پر باضابطہ تحقیقات شروع کی گئیں یا کوئی تادیبی کارروائی کی گئی۔
5 اگست کو خطوط کی وصولی کی تصدیق
دستاویزات کے مطابق، کابینہ سکریٹری ٹی وی سومناتھن نے 5 اگست 2026 کو دونوں الیکشن کمشنروں کے خطوط کی وصولی کی تصدیق کی۔ سندھو کو بھیجے گئے جواب میں 29 جولائی کے اس خط کا ذکر کیا گیا تھا، جو الیکشن کمیشن میں سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر کے طور پر کام کرنے والے منیش گرگ سے متعلق تھا۔
ڈاکٹر وویک جوشی کو بھی اسی نوعیت کا جواب بھیجا گیا۔ ان خطوط کی نقول محکمۂ عملہ و تربیت کے سینئر افسران اور چیف الیکشن کمشنر کے دفتر کو بھی ارسال کی گئیں۔
خطوط کی وصولی کی تصدیق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دونوں کمشنروں کی شکایات کابینہ سکریٹریٹ تک پہنچیں اور متعلقہ دفاتر کو بھی ان سے آگاہ کیا گیا۔ تاہم، آر ٹی آئی کے جواب میں یہ معلومات موجود نہیں ہیں کہ اس کے بعد کوئی باضابطہ انکوائری ہوئی یا منیش گرگ کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی۔
منیش گرگ کون ہیں؟
دستاویزات کے مطابق، منیش گرگ انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (IAS) کے افسر ہیں اور الیکشن کمیشن میں سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔ ریکارڈ میں ان کا کیڈر ہماچل پردیش اور بیچ 1996 درج ہے۔ ان کی تقرری کابینہ کی تقرری کمیٹی کے ذریعے کی گئی تھی۔
اس تنازعے کا تعلق 28 جولائی کو جاری کیے گئے دو دفتری احکامات سے ہے۔ پہلے حکم کے تحت بھانو پرکاش یتورُو کی چھٹی کے دوران 27 جولائی سے 9 اگست تک ان کے کام کی عارضی ذمہ داریوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ دوسرے حکم کے ذریعے الیکشن کمیشن کے مختلف افسران کے درمیان کام کی تقسیم میں ترمیم کی گئی تھی۔
دونوں الیکشن کمشنروں نے اسی ترمیم شدہ حکم کے طریقۂ کار پر اعتراض کیا تھا۔ دستیاب دستاویزات میں منیش گرگ کے خلاف لگائے گئے الزامات پر کسی حتمی نتیجے کا ذکر نہیں ہے۔
آر ٹی آئی درخواست کس نے دائر کی؟
یہ معلومات حاصل کرنے کے لیے ریٹائرڈ کموڈور لوکیش کے. بترا نے 24 ستمبر کو آر ٹی آئی درخواست دائر کی تھی۔ انہوں نے دونوں الیکشن کمشنروں اور کابینہ سکریٹریٹ کے درمیان ہونے والی خط و کتابت کی نقول، سکریٹریٹ کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات اور متعلقہ فائل نوٹنگ طلب کی تھی۔
مقررہ فیس جمع کرانے کے بعد کابینہ سکریٹریٹ نے 14 صفحات پر مشتمل دستاویزات فراہم کیں۔ ان دستاویزات میں دونوں الیکشن کمشنروں کی شکایات، کابینہ سکریٹریٹ کا داخلی جائزہ اور خطوط کی وصولی کی تصدیق سے متعلق معلومات شامل ہیں۔
ریکارڈ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خطوط کی نقول متعلقہ افسران کو بھیجی گئی تھیں۔ تاہم، اس کے بعد کسی مزید کارروائی یا تحقیقات کے بارے میں واضح معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
آر ٹی آئی دستاویزات سے کیا معلوم ہوتا ہے؟
آر ٹی آئی کے ذریعے سامنے آنے والا ریکارڈ الیکشن کمیشن کے اندر انتظامی ذمہ داریوں کی تقسیم پر پیدا ہونے والے اختلافات کی نشاندہی کرتا ہے۔ دستاویزات سے تصدیق ہوتی ہے کہ ڈاکٹر سکھبیر سنگھ سندھو اور ڈاکٹر وویک جوشی نے کام کی تقسیم میں تبدیلی کے طریقۂ کار پر باضابطہ اعتراض اٹھایا اور مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا۔
اس کے باوجود، دستیاب ریکارڈ سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ شکایات پر کوئی حتمی فیصلہ کیا گیا، باضابطہ تحقیقات ہوئیں یا کسی افسر کے خلاف تادیبی کارروائی کی گئی۔ اس لیے معاملے میں آگے کی کارروائی اور حتمی نتیجہ اب بھی غیر واضح ہے۔
میٹا ہیڈلائن:* الیکشن کمیشن میں اختلافات، دو کمشنروں نے سینئر افسر کی شکایت کی
*میٹا ڈسکرپشن:* آر ٹی آئی دستاویزات کے مطابق، الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے منیش گرگ کے کام کی تقسیم کے حکم پر اعتراض کرتے ہوئے کابینہ سکریٹری کو خط لکھا۔
میٹا کی ورڈز: الیکشن کمیشن آف انڈیا، آر ٹی آئی انکشاف، سکھبیر سنگھ سندھو، وویک جوشی، منیش گرگ، کابینہ سکریٹری، الیکشن کمشنروں کی شکایت، کام کی تقسیم کا تنازع، DoPT، الیکشن کمیشن خبریں، 2023 ایکٹ
تاریخوں کی ترتیب اور وضاحت درست کریںخبر کو مختصر اور کم تکراری بنائیں






.jpg)
.jpg)







.webp)
