تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
مکھرجی نگر میں طالبات سے مبینہ بدسلوکی، 2 افراد حراست میں


دہلی کے مکھرجی نگر علاقے میں ہندو کالج کی 2 طالبات سے مبینہ چھیڑ چھاڑ، بدسلوکی اور ایک طالبہ کو ایس یو وی میں کھینچنے کی کوشش کے معاملے میں پولیس نے 2 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ پولیس کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد کی شناخت ابھیمنیو اور ابھی نو کے طور پر ہوئی ہے۔ ابھیمنیو کو گڑگاؤں سے جبکہ ابھی نو کو لکشمی نگر علاقے سے پکڑا گیا ہے۔

پولیس دونوں افراد سے پوچھ گچھ کر رہی ہے تاکہ واقعے میں مبینہ طور پر شامل دیگر افراد کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔ پولیس نمن چودھری کی بھی تلاش کر رہی ہے، جس کا نام طالبات کی شکایت میں سامنے آیا ہے۔

ٹی شرٹ پر لکھے الفاظ کو لے کر تبصرہ

طالبہ کے بیان کے مطابق، واقعے کے دوران ایس یو وی میں موجود ایک شخص نے اس کی ٹی شرٹ کے بارے میں تبصرہ کیا تھا۔ طالبہ نے بتایا کہ اس نے سرخ رنگ کی ٹی شرٹ پہن رکھی تھی، جس پر 'Urban Mindset' لکھا ہوا تھا۔ طالبہ کے مطابق اسی ٹی شرٹ کو لے کر اس شخص نے تبصرہ کیا۔

شکایت کے مطابق اس کے بعد طالبات کے ساتھ مبینہ طور پر نامناسب رویہ اختیار کیا گیا اور ایس یو وی میں موجود افراد نے ان کا پیچھا کیا۔ ایک طالبہ نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ اسے گاڑی میں کھینچنے کی کوشش کی گئی۔

ایس یو وی برآمد

واقعے کی تحقیقات کے دوران پولیس نے مبینہ طور پر اس معاملے سے جڑی سفاری ایس یو وی کو بھلسوا ڈیری علاقے کی ایک پارکنگ سے برآمد کیا۔ پولیس کے مطابق واقعے کے بعد گاڑی وہاں کھڑی کر دی گئی تھی اور اس کے بعد ملزمان وہاں سے چلے گئے تھے۔

گاڑی کی برآمدگی کے بعد پولیس نے اس سے متعلق افراد کی شناخت کرنے اور واقعے کی کڑیاں جوڑنے کے لیے مزید تفتیش شروع کی۔ پولیس نے واقعے کی جگہ اور آس پاس کے علاقوں میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ بھی دیکھی۔

مرکزی ملزم کی تلاش

پولیس کے مطابق طالبات نے اپنی شکایت میں نمن چودھری کا نام بھی لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نمن چودھری کرول باغ نہیں بلکہ کرول نگر علاقے میں رہتا ہے اور قانون کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ پولیس اس کی تلاش میں ممکنہ ٹھکانوں پر کارروائی کر رہی ہے۔

تحقیقات کے دوران پولیس نے دہلی کے علاوہ گڑگاؤں، غازی آباد اور نوئیڈا میں بھی ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی ریکارڈنگ اور مقامی سطح پر حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر ایس یو وی میں موجود افراد کی شناخت کرنے کی کوشش کی۔

اسی دوران پولیس کو اطلاع ملی کہ ابھیمنیو گڑگاؤں میں موجود ہے۔ اس اطلاع کے بعد پولیس ٹیم نے وہاں کارروائی کرتے ہوئے اسے حراست میں لے لیا۔ دوسرے فرد ابھی نو کو لکشمی نگر علاقے سے پکڑا گیا۔

تحقیقات جاری

پولیس دونوں افراد سے پوچھ گچھ کے ذریعے واقعے میں مبینہ طور پر شامل دیگر افراد کے بارے میں معلومات حاصل کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نمن چودھری اور دیگر مشتبہ افراد کے ممکنہ ٹھکانوں کی بھی تلاش کی جا رہی ہے۔

پولیس کی تحقیقات میں طالبات کے بیانات، سی سی ٹی وی ریکارڈنگ، برآمد کی گئی ایس یو وی اور حراست میں لیے گئے افراد سے حاصل ہونے والی معلومات اہم حصے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں شامل دیگر افراد کی شناخت اور انہیں تلاش کرنے کی کارروائی جاری ہے۔

اس معاملے میں لگائے گئے الزامات کی حتمی حقیقت تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔ فی الحال 2 افراد پولیس کی حراست میں ہیں اور ان سے پوچھ گچھ جاری ہے، جبکہ مرکزی ملزم بتائے جانے والے نمن چودھری اور دیگر افراد کی تلاش کی جا رہی ہے۔
 

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·