تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
جنتر منتر کے قریب سی جے پی کے سوربھ داس، آشو توش رانکا اور اجنکیا شندے پولیس حراست میں


نئی دہلی: دارالحکومت دہلی میں جنتر منتر کے قریب احتجاج سے متعلق معاملے میں دہلی پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) سے وابستہ تین افراد کو حراست میں لے لیا۔ حراست میں لیے گئے افراد میں پارٹی کے چیف ترجمان سوربھ داس، قومی ترجمان آشو توش رانکا اور اجنکیا شندے شامل ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق، یہ کارروائی 13 اکتوبر کی صبح کی گئی۔

بتایا گیا ہے کہ پارٹی کے کچھ ارکان قومی پرچم لے کر جنتر منتر کے آس پاس واقع ممنوعہ علاقے کی طرف جا رہے تھے۔ پولیس حکام کے مطابق، متعلقہ علاقے میں احتجاج اور عوامی اجتماع کی اجازت نہیں تھی۔ اسی بنیاد پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان افراد کو حراست میں لے لیا۔

اس واقعے کے بعد جنتر منتر کے اطراف سکیورٹی انتظامات اور احتجاج سے متعلق پابندیوں پر ایک بار پھر توجہ مرکوز ہوئی ہے۔ پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے پولیس کی کارروائی پر اعتراض کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے ارکان قومی پرچم لے کر علاقے کی طرف جا رہے تھے، لیکن پولیس نے انہیں روک کر حراست میں لے لیا۔

جنتر منتر کے قریب پولیس کی کارروائی

دستیاب اطلاعات کے مطابق، 13 اکتوبر کی صبح سی جے پی کے بعض ارکان قومی پرچم کے ساتھ جنتر منتر کے قریب واقع ممنوعہ علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ اسی دوران پولیس نے انہیں روک لیا۔ اس کارروائی میں سوربھ داس، آشو توش رانکا اور اجنکیا شندے سمیت دیگر کارکنوں کو حراست میں لیے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ علاقے میں احتجاج اور عوامی اجتماع کی اجازت نہیں تھی۔ اسی لیے ممنوعہ علاقے کی طرف جانے والے افراد کے خلاف کارروائی کی گئی۔ تاہم، واقعے کی مکمل تفصیلات اور حراست میں لیے گئے ہر فرد کے معاملے کی الگ الگ صورت حال کی تصدیق سرکاری ذرائع سے ہونا ضروری ہے۔

دوسری جانب، سی جے پی نے اس کارروائی پر اعتراض کیا ہے۔ پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کے مطابق، ارکان قومی پرچم لے کر جنتر منتر کی طرف جا رہے تھے، لیکن پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ اس واقعے نے احتجاج کی اجازت اور ممنوعہ علاقوں میں داخلے سے متعلق انتظامی قواعد پر نئی بحث شروع کر دی ہے۔

سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کا احتجاج

سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے پولیس کی کارروائی پر اعتراض ظاہر کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ 13 اکتوبر کی صبح پارٹی کے ارکان قومی پرچم لے کر جنتر منتر کے آس پاس کے ممنوعہ علاقے کی طرف جا رہے تھے۔ اسی دوران پولیس نے انہیں روک لیا۔

دیپکے کے مطابق، حراست میں لیے جانے والوں میں آشو توش رانکا، سوربھ داس اور اجنکیا شندے کے علاوہ دیگر کارکن بھی شامل تھے۔ انہوں نے اس واقعے سے متعلق ویڈیو بھی شیئر کی۔ ان کے مطابق، ویڈیو میں کچھ افراد کو گیٹ اور سکیورٹی رکاوٹوں کے قریب دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ پولیس اہلکار بعض لوگوں کو وہاں سے لے جاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

تاہم، ویڈیو کے مکمل پس منظر اور اس میں دکھائی دینے والے واقعات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ صرف ویڈیو کے چند حصوں کی بنیاد پر پورے واقعے یا پولیس کی کارروائی کی قانونی وجوہات کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

 اس سے پہلے بھی سی جے پی کے رہنما حراست میں لیے گئے تھے

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب سی جے پی کے رہنماؤں کو دہلی پولیس نے حراست میں لیا ہو۔ دستیاب معلومات کے مطابق، اس سے قبل بھی پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے، سوربھ داس اور آشو توش رانکا کو احتیاطی کارروائی کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔

بعد ازاں دہلی کی اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔ بتایا گیا تھا کہ رہائی کے لیے ایک سال تک امن برقرار رکھنے اور اچھے طرزِ عمل کی شرط رکھی گئی تھی، جبکہ 50 ہزار روپے کا ضمانتی مچلکہ بھی جمع کرانا تھا۔

اس سابقہ کارروائی کا موجودہ معاملے کے پس منظر میں ذکر اہم ہے، لیکن صرف اس بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ نئی حراست ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اس کے لیے پولیس کا سرکاری بیان، متعلقہ قانونی دستاویزات اور موجودہ کارروائی کی تفصیلات دیکھنا ضروری ہوگا۔

جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کا معاملہ

جنتر منتر دہلی میں عوامی احتجاج اور اجتماعات کے لیے ایک اہم مقام سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، یہاں احتجاج کرنے کے لیے متعلقہ انتظامی قواعد، سکیورٹی ہدایات اور اجازت کی شرائط پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

حکام سکیورٹی انتظامات اور انتظامی احکامات کی بنیاد پر بعض علاقوں میں داخلے یا اجتماع پر پابندی عائد کر سکتے ہیں۔ موجودہ معاملے میں پولیس حکام کے مطابق، متعلقہ علاقے میں احتجاج اور عوامی اجتماع کی اجازت نہیں تھی۔

دوسری جانب، سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے پارٹی ارکان کو حراست میں لیے جانے پر اعتراض کیا ہے۔ اس واقعے کے بعد جنتر منتر پر احتجاج سے متعلق پابندیوں اور پولیس کی کارروائی کے طریقۂ کار پر بحث دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

معاملے کی مکمل صورت حال جاننے کے لیے پولیس کا سرکاری مؤقف، حراست کی قانونی بنیاد اور اس کے بعد ہونے والی کارروائی کی تصدیق ضروری ہے۔
 

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·