تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
بھارت جمہوریت کی ماں ہے، عالمی اقتصادی فورم میں وزیر اعظم مودی کا بیان


ئی دہلی:وزیر اعظم نریندر مودی نے نئی دہلی میں منعقدہ بلومبرگ نیو اکانومی فورم سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کی اقتصادی ترقی، جمہوری روایات اور عالمی معیشت میں ملک کے بڑھتے ہوئے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کی نظریں بھارت کی مضبوط ہوتی اقتصادی ساکھ پر مرکوز ہیں۔ وزیر اعظم کے مطابق، کاروبار، ٹیکنالوجی اور عالمی اقتصادی معاملات میں بھارت کی بڑھتی ہوئی موجودگی ملک کے اہم کردار کی عکاسی کرتی ہے۔

مودی نے کہا کہ اس عالمی فورم کا پہلی مرتبہ بھارت میں انعقاد ایک اہم موقع ہے۔ انہوں نے منتظمین اور ان کی ٹیم کو مبارک باد دیتے ہوے کہا کہ یہ فورم ہر سال دنیا کے اہم مفکرین اور کاروباری و اقتصادی شعبوں سے وابستہ شخصیات کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتا ہے۔ اس طرح کے اجتماعات کے ذریعے عالمی معیشت، ٹیکنالوجی میں تبدیلیوں اور مستقبل کے ترقیاتی امکانات پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔

اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے بھارت کی اقتصادی ترقی کو ملک کی جمہوری روایات اور سماجی تنوع کے ساتھ جوڑا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت جمہوریت کی ماں ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ملک میں بولی جانے والی مختلف زبانوں، ذرائع ابلاغ کے وسیع نظام اور معلومات کی ترسیل کے متعدد ذرائع کا ذکر کیا۔

 بھارت کی اقتصادی ساکھ پر دنیا کی نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ عالمی برادری بھارت کی مضبوط ہوتی اقتصادی ساکھ اور عالمی معیشت میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کو دیکھ رہی ہے۔ بھارت ایک بڑی منڈی ہونے کے ساتھ کاروبار، اختراع اور ٹیکنالوجی سے متعلق عالمی مباحث میں بھی اہم مقام رکھتا ہے۔

عالمی اقتصادی اور کاروباری شخصیات کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے بھارت میں اس فورم کے پہلی مرتبہ انعقاد کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے پلیٹ فارم مختلف تجربات اور خیالات رکھنے والے افراد کو ایک ساتھ لاتے ہیں، جہاں مستقبل کی اقتصادی سمت اور ترقی کے نئے امکانات پر گفتگو کی جا سکتی ہے۔

وزیر اعظم کے خطاب کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ اقتصادی ترقی کو صرف ترقی کی شرح یا کاروباری سرگرمیوں کے پھیلاؤ سے نہیں جانچنا چاہیے۔ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ترقی کے فوائد عام لوگوں تک کس حد تک پہنچ رہے ہیں اور اس کے ذریعے معاشرے کے مختلف طبقات کے لیے کتنے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

اقتصادی مضبوطی کا مطلب صرف مالی ترقی نہیں، بلکہ اختراع کو فروغ دینا، وسائل تک رسائی بڑھانا اور ترقی کے فوائد کو زیادہ وسیع بنانا بھی ہے۔ وزیر اعظم کے بیان میں بھارت کی عالمی اقتصادی حیثیت کے ساتھ ان پہلوؤں کو بھی اہمیت دی گئی۔

 'بھارت جمہوریت کی ماں ہے'

مودی نے بھارت کی جمہوری وراثت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی شناخت اس کے تنوع اور جمہوری اقدار سے وابستہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت میں 100 سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں، تقریباً 80 ہزار رجسٹرڈ اخبارات اور مطبوعات موجود ہیں، جبکہ سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے۔

وزیر اعظم نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بھارت کے وسیع ڈیجیٹل صارفین کو اس بات کی مثال قرار دیا کہ ملک میں معلومات اور رابطے کا نظام کس بڑے پیمانے پر پھیل چکا ہے۔

بھارت کی لسانی اور ثقافتی رنگارنگی ایک ایسے معاشرتی ماحول کو جنم دیتی ہے جہاں لوگ مختلف زبانوں اور ذرائع کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں۔ اخبارات، ٹیلی ویژن چینلز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز لوگوں کو معلومات حاصل کرنے اور اپنی رائے کا اظہار کرنے کے متعدد مواقع فراہم کرتے ہیں۔

ان مثالوں کے ذریعے وزیر اعظم نے بھارت کے جمہوری اور ابلاغی نظام کی وسعت کو نمایاں کیا۔ ان کے خطاب میں جمہوری روایات کو جدید معاشرے میں معلومات کی ترسیل اور عوامی رابطے کے مختلف ذرائع سے جوڑ کر پیش کیا گیا۔

علم، دولت اور طاقت کا درست استعمال ضروری

وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب میں علم، دولت اور طاقت کے درست استعمال پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اصل سوال صرف یہ نہیں ہے کہ طاقت یا وسائل کس کے پاس ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ان کا استعمال کس مقصد کے لیے کیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق، علم اور دولت اس وقت معاشرے کے لیے مفید ثابت ہوتے ہیں جب انہیں تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ کسی فرد، ادارے یا ملک کے پاس وسائل کا ہونا اپنی جگہ اہم ہے، لیکن ان وسائل کے ذریعے پیدا ہونے والے نتائج ان کی حقیقی قدر کا تعین کرتے ہیں۔

مودی نے بھارت کی ہزاروں سال پرانی روایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وسائل اور طاقت کے ذمہ دارانہ استعمال کا تصور ملک کی فکری روایت سے مطابقت رکھتا ہے۔ انہوں نے اس سوچ کو حکمرانی اور اداروں کے کام کرنے کے طریقوں میں اپنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

حکومتوں، کاروباری اداروں اور دیگر تنظیموں کے لیے چیلنج صرف وسائل حاصل کرنا نہیں، بلکہ انہیں اس طرح استعمال کرنا بھی ہے کہ معاشرے کے زیادہ سے زیادہ افراد کو فائدہ پہنچے۔ ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور عوامی وسائل سے متعلق فیصلے لوگوں کے مواقع اور سماجی ترقی کی سمت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

وزیر اعظم کے بیان میں یہ پیغام نمایاں رہا کہ طاقت اور وسائل کی حقیقی اہمیت ان کے ذمہ دارانہ استعمال میں ہے۔ ان کا مقصد لوگوں کی ضروریات پوری کرنا، نئے مواقع پیدا کرنا اور ترقی کے فوائد کو وسیع تر بنانا ہونا چاہیے۔

 ٹیکنالوجی کے فوائد زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچیں

وزیر اعظم مودی نے ٹیکنالوجی کے استعمال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تکنیکی ترقی کے فوائد معاشرے کے وسیع طبقے تک پہنچنے چاہئیں۔ اگر ٹیکنالوجی کا فائدہ صرف چند لوگوں تک محدود رہ جائے تو اس کا اصل مقصد پورا نہیں ہوتا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کو نئے مواقع پیدا کرنے، لوگوں کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے اور ترقی کے عمل میں زیادہ سے زیادہ افراد کی شرکت ممکن بنانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ اس کا مقصد صرف چند اداروں یا افراد کے لیے اقتصادی فائدہ پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے۔

ڈیجیٹل خدمات، جدید مواصلاتی نظام اور نئی تکنیکی سہولتیں لوگوں کو معلومات، تعلیم، کاروبار اور روزگار کے نئے مواقع تک پہنچنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ تاہم، ان فوائد سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فائدہ اسی وقت ہوگا جب معاشرے کے مختلف طبقات کے لیے ان سہولتوں تک رسائی ممکن ہو۔

اس لیے چیلنج صرف نئی ٹیکنالوجی تیار کرنا نہیں، بلکہ اس کے فوائد کو عام لوگوں تک پہنچانا بھی ہے۔ بہتر رسائی کے ذریعے لوگ اپنی مہارتیں بڑھا سکتے ہیں، اقتصادی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق نئے مواقع تلاش کر سکتے ہیں۔

وزیر اعظم کے خطاب میں ٹیکنالوجی کو انسانی صلاحیتوں کو بڑھانے کا ایک ذریعہ قرار دیا گیا۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق، ٹیکنالوجی کی کامیابی صرف اس کی جدیدیت سے نہیں بلکہ اس مثبت تبدیلی سے بھی طے ہوتی ہے جو وہ لوگوں کی زندگیوں میں لاتی ہے۔

عالمی معیشت میں بھارت کا بڑھتا ہوا کردار

بلومبرگ نیو اکانومی فورم کا انعقاد ایسے وقت میں ہوا ہے جب عالمی سطح پر تکنیکی تبدیلیوں، سرمایہ کاری، کاروباری ترقی اور اقتصادی مستقبل کے امکانات پر بحث جاری ہے۔ ایک بڑی منڈی ہونے کے باعث بھارت کو ان معاملات سے متعلق عالمی گفتگو میں اہمیت حاصل ہے۔

اپنے خطاب میں مودی نے بھارت کی اقتصادی ساکھ، جمہوری وراثت اور ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کو ایک ساتھ پیش کیا۔ ان کے بیان کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ اقتصادی اور تکنیکی ترقی کے فوائد صرف محدود طبقے تک نہیں بلکہ معاشرے کے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے چاہئیں۔

انہوں نے وسائل اور ذمہ داری کے درمیان تعلق کو بھی نمایاں کیا۔ علم، دولت اور طاقت اسی وقت بامعنی کردار ادا کر سکتے ہیں جب انہیں مواقع بڑھانے، لوگوں کی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور وسیع تر ترقی کے لیے استعمال کیا جائے۔

مجموعی طور پر، وزیر اعظم نریندر مودی کے خطاب میں بھارت کی اقتصادی ترقی، جمہوری شناخت اور ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال پر زور دیا گیا۔ ان کا پیغام تھا کہ بھارت کی ترقی کی اہمیت صرف اس کی اقتصادی طاقت میں نہیں، بلکہ اس صلاحیت میں بھی ہے کہ وہ اپنے وسائل کے ذریعے لوگوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرے اور معاشرے کے وسیع طبقے کو فائدہ پہنچائے۔

 

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·