تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
اجیت ڈووال نے چینی فوج کی حراست کا پرانا واقعہ سنایا


قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال نے ہفتہ کو آئی آئی ٹی روڑکی کے جلسۂ تقسیم اسناد میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے اپنے ابتدائی انٹیلی جنس کیریئر کا ایک اہم واقعہ سنایا۔

ڈووال نے بتایا کہ جب وہ نوجوان آئی پی ایس افسر تھے اور ان کی عمر 20 برس کے آس پاس تھی، اس وقت انہیں سکم میں انٹیلی جنس کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ ان کی ذمہ داریوں میں سرحدی علاقوں کی نگرانی اور چینی پیپلز لبریشن آرمی کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات جمع کرنا بھی شامل تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ سرحدی علاقے میں ایک خفیہ مشن کے لیے ایک ٹیم بھیجی گئی۔ ٹیم کو مقررہ وقت کے اندر واپس آنا تھا، لیکن کئی دن گزرنے کے باوجود ٹیم واپس نہیں آئی۔

وقت گزرنے کے ساتھ ڈووال کی تشویش بڑھتی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ صورتحال ان کے لیے صرف پیشہ ورانہ اعتبار سے ہی نہیں بلکہ انسانی اعتبار سے بھی بہت پریشان کن تھی، کیونکہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ ٹیم کے ارکان زندہ ہیں یا ان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔

 چینی فوج کی حراست میں تھی ٹیم

ڈووال کے مطابق بعد میں انہیں ہیڈکوارٹر سے اطلاع ملی کہ ان کی ٹیم چینی فوج کی حراست میں ہے۔ ٹیم کے ارکان کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان سے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ بعد میں بات چیت یا مذاکرات کے ذریعے ٹیم کو واپس کیا گیا۔ اس واقعے کے دوران ڈووال کو اپنے کیریئر کے حوالے سے شدید تشویش لاحق ہوگئی تھی۔

انہوں نے طلبہ کو بتایا کہ اس وقت انہیں لگا تھا کہ شاید ان کا کیریئر ختم ہوگیا ہے۔ وہ اس وقت بہت کم عمر تھے اور انہیں خدشہ تھا کہ اس واقعے کے بعد انہیں دوبارہ اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کرنا پڑے گا۔

ٹیم کی واپسی کے بعد اس واقعے کی تحقیقات شروع کی گئیں۔ ڈووال کے مطابق تحقیقات میں انہیں اس واقعے کے لیے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔ ان کے مطابق مشن کے لیے فراہم کیے گئے نقشوں اور خاکوں میں کچھ غلطیاں تھیں، جس کی وجہ سے ٹیم کو راستہ سمجھنے میں دشواری پیش آئی۔

 سکم میں نوجوان آئی پی ایس افسر کی ذمہ داری

اجیت ڈووال نے اپنے ابتدائی پولیس اور انٹیلی جنس کیریئر کے حالات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سکم میں تعیناتی کے دوران وہ انٹیلی جنس کے شعبے میں نئے تھے اور حساس سرحدی علاقے میں ذمہ داری انجام دے رہے تھے۔

ان کی ذمہ داریوں میں سرحدی علاقوں پر نظر رکھنا اور چینی فوج کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات جمع کرنا شامل تھا۔

ایسے حساس علاقے میں کام کے دوران کسی بھی معلومات یا راستے سے متعلق معمولی غلطی بھی صورتحال کو پیچیدہ بنا سکتی تھی۔ اسی دوران خفیہ مشن پر بھیجی گئی ٹیم کے مقررہ وقت پر واپس نہ آنے سے معاملہ سنگین ہوگیا تھا۔

کئی دن تک ٹیم کے بارے میں کوئی معلومات نہ ملنے کے بعد یہ خدشہ پیدا ہوا کہ شاید ٹیم کے ساتھ کوئی بڑا واقعہ پیش آیا ہے۔ بعد میں چینی فوج کی حراست میں ہونے کی اطلاع نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا۔

مشکل تجربے کو طلبہ کے ساتھ شیئر کیا

ڈووال نے یہ واقعہ طلبہ کے سامنے اپنی زندگی کے ایک تجربے کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آئی آئی ٹی روڑکی کے طلبہ کے درمیان آکر وہ سوچ رہے تھے کہ ان کے ساتھ کون سے خیالات شیئر کیے جائیں۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی زندگی اور کیریئر کے کچھ واقعات سنانے کا فیصلہ کیا۔

سکم کا یہ واقعہ ان کے ابتدائی کیریئر کے ایک مشکل مرحلے کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک طرف ٹیم کا کئی دن تک واپس نہ آنا تشویش کا باعث بنا، دوسری طرف بعد میں معلوم ہوا کہ ٹیم چینی فوج کی حراست میں تھی۔

تاہم تحقیقات کے بعد انہیں ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔ ڈووال کے مطابق نقشوں اور خاکوں میں موجود غلطیوں نے اس صورتحال میں کردار ادا کیا تھا۔

 آج کی نسل کو زیادہ مواقع حاصل ہیں

جلسۂ تقسیم اسناد میں ڈووال نے طلبہ سے موجودہ دور میں دستیاب مواقع کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ آج کی نسل کو ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کی وجہ سے ایسے مواقع حاصل ہیں جو پچھلی نسلوں کے پاس نہیں تھے۔

انہوں نے ٹیکنالوجی کو آنے والے وقت میں ملکوں اور معاشروں کی ترقی کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا اور طلبہ کو بدلتی ہوئی دنیا کے مطابق خود کو تیار کرنے کا پیغام دیا۔

ڈووال کے مطابق موجودہ دور میں تعلیم، ٹیکنالوجی اور نئی سوچ کے ذریعے نوجوانوں کے لیے کام کے بہت سے نئے راستے پیدا ہو رہے ہیں۔

2,701طلبہ کو ڈگریاں دی جا رہی ہیں

آئی آئی ٹی روڑکی کا جلسۂ تقسیم اسناد 19 اور 20 ستمبر کو منعقد کیا جا رہا ہے۔ دو روزہ تقریب میں مجموعی طور پر 2,701 طلبہ کو ڈگریاں دی جا رہی ہیں۔

اجیت ڈووال اس تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔ چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل این ایس راجا سبرامنی تقریب میں مہمان اعزازی کے طور پر موجود رہے۔ سینئر وکیل ہریش سالوے اور آئی آئی ٹی روڑکی کے ڈائریکٹر پروفیسر کمال کشور پنت سمیت دیگر عہدیدار بھی تقریب میں شریک ہوئے۔ 

ٹیکنالوجی اور بدلتی دنیا پر گفتگو

تقریب میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار اور دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں پر بھی گفتگو ہوئی۔ ڈووال نے طلبہ سے کہا کہ وہ ایسے وقت میں اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کر رہے ہیں جب ٹیکنالوجی معاشی اور سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

سینئر وکیل ہریش سالوے نے بھی طلبہ سے خطاب کیا اور آزادی، جمہوریت اور بدلتے عالمی نظام کے حوالے سے بات کی۔ انہوں نے مستقبل میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار اور نئی نسل کی ذمہ داریوں پر بھی روشنی ڈالی۔ 

 مشکل واقعے سے آگے بڑھنے کا پیغام

اجیت ڈووال کی جانب سے سنایا گیا سکم کا واقعہ ان کے ابتدائی کیریئر کے ایک مشکل مرحلے کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک خفیہ ٹیم کا مقررہ وقت پر واپس نہ آنا، کئی دن تک اس کی کوئی خبر نہ ملنا، پھر چینی فوج کی حراست میں ہونے کی اطلاع اور اس کے بعد ٹیم کی واپسی، یہ پورا واقعہ ان کے لیے تشویش کا باعث تھا۔

ڈووال نے بتایا کہ ایک وقت پر انہیں لگا تھا کہ یہ واقعہ ان کے کیریئر کا اختتام بن سکتا ہے۔ تاہم تحقیقات میں انہیں ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔

انہوں نے یہ تجربہ طلبہ کے ساتھ ایسے وقت شیئر کیا جب ہزاروں نوجوان اپنی تعلیم مکمل کرکے عملی زندگی میں داخل ہو رہے ہیں۔ ان کے خطاب میں مشکل حالات، ٹیکنالوجی، مواقع اور ذمہ داری جیسے موضوعات نمایاں رہے۔

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·