کانگریس رہنما راہل گاندھی نے پنجاب میں پروِندر سنگھ جھوٹا کے قتل اور منشیات کے مسئلے کو لے کر عام آدمی پارٹی (AAP) حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ پنجاب میں منشیات کے خلاف آواز اٹھانے والے افراد کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے مشکلات اور خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ بھگونت مان سے سوال کیا کہ ریاست میں منشیات کے خلاف جدوجہد کرنے والے لوگوں کی حفاظت کی ذمہ داری کون لے گا۔
راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں مانسا اور سنگرور سے متعلق واقعات کا ذکر کیا۔ انہوں نے پروِندر سنگھ جھوٹا کے قتل، گلزار سنگھ کی موت اور موہنجیت سنگھ سے متعلق مبینہ حراستی تشدد کے معاملے کو اٹھاتے ہوئے پنجاب حکومت کی کارکردگی پر سوالات کیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان واقعات سے منشیات کے خلاف آواز اٹھانے والے لوگوں کی سلامتی اور شکایات پر کارروائی کے طریقۂ کار سے متعلق سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
تاہم، ان معاملات سے متعلق الزامات اور دعووں کی تصدیق سرکاری ریکارڈ، تحقیقات اور عدالتی کارروائی کی بنیاد پر کی جانی چاہیے۔ راہل گاندھی کی پوسٹ میں پیش کیے گئے مؤقف کو کانگریس رہنما کے الزامات کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
*پروِندر سنگھ جھوٹا کے قتل پر راہل گاندھی نے کیا کہا؟*
راہل گاندھی نے مانسا میں پروِندر سنگھ جھوٹا کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ’منشیات روکو، روزگار دو‘ مہم چلا رہے تھے۔ راہل گاندھی کے مطابق، جھوٹا کو دن دہاڑے گولی ماری گئی اور اس واقعے سے متعلق مناظر فیس بک لائیو کے دوران بھی دکھائی دیے تھے۔
کانگریس رہنما نے اس واقعے کو منشیات کے خلاف مہم چلانے والے افراد کی حفاظت کے معاملے سے جوڑتے ہوئے ریاستی حکومت سے جواب طلب کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر منشیات کے خلاف آواز اٹھانے والے کسی شخص کو قتل کردیا جاتا ہے تو اس سے قانون و انتظام اور منشیات کے کاروبار پر قابو پانے کے اقدامات کے بارے میں سوالات اٹھتے ہیں۔
پروِندر سنگھ جھوٹا کے قتل کے خلاف احتجاج اور پنجاب بند کی خبروں کے درمیان راہل گاندھی کا بیان سامنے آیا ہے۔ اس واقعے کے بعد ریاست میں منشیات کے کاروبار، مقامی سطح پر اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی حفاظت اور پولیس کی کارروائی پر سیاسی بحث تیز ہوگئی ہے۔
تاہم، قتل کے محرکات اور واقعے کے تمام پہلوؤں کے بارے میں حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے تحقیقاتی تفصیلات اور تصدیق شدہ معلومات کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ راہل گاندھی نے اس معاملے کو حکومت کی جواب دہی سے جوڑا ہے، لیکن الزامات کی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ شواہد اور تفتیش کی بنیاد پر ہی کیا جاسکتا ہے۔
*سنگرور میں گلزار سنگھ کے معاملے کا بھی ذکر*
راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں سنگرور ضلع سے تعلق رکھنے والے گلزار سنگھ کے معاملے کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق، گلزار سنگھ نے اپنے گاؤں میں منشیات کے مسئلے پر ایک وزیر کے سامنے سوال اٹھایا تھا۔ راہل گاندھی کی پوسٹ میں بتایا گیا کہ گلزار سنگھ کے خاندان نے الزام لگایا ہے کہ اس واقعے کے بعد ان پر معافی مانگنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور بعد میں انہوں نے خودکشی کرلی۔
کانگریس رہنما نے اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ منشیات کے خلاف آواز اٹھانے والے افراد کو مناسب تحفظ کیوں نہیں ملتا۔ ان کے مطابق، اگر کوئی شخص اپنے علاقے میں منشیات کے مسئلے کو عوامی نمائندوں کے سامنے پیش کرتا ہے تو اس کی شکایت پر سنجیدگی سے کارروائی ہونی چاہیے اور اسے تحفظ ملنا چاہیے۔
تاہم، گلزار سنگھ کے خاندان کی جانب سے لگائے گئے الزامات اور ان کی موت کے حالات کی تصدیق متعلقہ سرکاری ریکارڈ اور تحقیقاتی معلومات سے ضروری ہے۔ کسی موت کے اسباب یا اس کے پیچھے مبینہ دباؤ کے کردار کو حتمی حقیقت قرار دینے سے پہلے قابل اعتماد شواہد اور تحقیقات کے نتائج کو دیکھنا اہم ہے۔
*موہنجیت سنگھ کے معاملے میں حراستی تشدد کے الزامات*
راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں موہنجیت سنگھ کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ منشیات کے خلاف آواز اٹھانے والے موہنجیت سنگھ کو حراست کے دوران مبینہ تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ راہل گاندھی کے مطابق، یہ معاملہ اب ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
کانگریس رہنما نے اس مثال کے ذریعے سوال اٹھایا کہ منشیات کے خلاف بولنے والے افراد کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جاتا ہے اور ان کی شکایات پر کتنی سنجیدگی سے کارروائی ہوتی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایسے معاملات میں شکایت کرنے والوں کی حفاظت اور ان کے حقوق کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
حراست کے دوران تشدد کے الزامات سنگین نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ان معاملات میں متعلقہ فریقوں کے بیانات، عدالت میں پیش کیے گئے دستاویزات اور قانونی کارروائی کی موجودہ صورت حال اہم ہوتی ہے۔ اس لیے راہل گاندھی کے بیان کو ان کا مؤقف سمجھتے ہوئے معاملے کے عدالتی اور تحقیقاتی پہلوؤں کی تصدیق ضروری ہے۔
*’شکایت کرنے والا ہی ملزم بن جاتا ہے‘: راہل گاندھی*
راہل گاندھی نے پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر شکایت کرنے والے شخص کے خلاف بھی ایف آئی آر درج ہوجائے تو منشیات کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے تحفظ پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پروِندر سنگھ جھوٹا کی شکایت کے بعد ایف آئی آر درج ہوئی اور بعد میں پولیس نے جھوٹا کے خلاف بھی مقدمہ درج کرلیا۔
راہل گاندھی نے اسی معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب شکایت کرنے والے کو بھی ملزم بنایا جائے تو منشیات کے خلاف جدوجہد کرنے والے افراد کا نظام پر اعتماد متاثر ہوسکتا ہے۔ انہوں نے اس صورت حال کو حکومت کی جواب دہی سے جوڑتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایسے حالات میں لوگ منشیات سے متعلق شکایات درج کرانے کے لیے کیسے آگے آئیں گے۔
تاہم، ایف آئی آر کے اندراج، اس میں درج الزامات اور پولیس کی کارروائی کی مکمل تفصیلات سرکاری دستاویزات سے تصدیق طلب ہیں۔ کسی مقدمے کا درج ہونا بذات خود کسی شخص کے قصوروار ہونے کا ثبوت نہیں ہوتا۔ معاملے کی قانونی حیثیت کو سمجھنے کے لیے تفتیش اور عدالتی کارروائی کی تفصیلات اہم ہیں۔
وزیر اعلیٰ بھگونت مان سے جواب طلب
راہل گاندھی نے وزیر اعلیٰ بھگونت مان سے براہ راست سوال کیا کہ پنجاب میں منشیات کے خلاف جدوجہد کرنے والے لوگوں کی حفاظت کون کرے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ منشیات کا مسئلہ ریاست کے نوجوانوں کے مستقبل کو نقصان پہنچا رہا ہے اور اس کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ منشیات کے کاروبار کو ختم کرنا اور پنجاب کے نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانا ایک اہم معاملہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانگریس اس مسئلے کو اٹھاتی رہے گی اور منشیات کے خلاف کارروائی کا مطالبہ جاری رکھے گی۔
راہل گاندھی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ کانگریس اس معاملے کے ذریعے عام آدمی پارٹی حکومت کی کارکردگی اور جواب دہی پر سوال اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے مختلف واقعات کا ذکر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ منشیات کے خلاف آواز اٹھانے والے افراد کو مناسب تحفظ دیا جائے اور ان کی شکایات پر منصفانہ کارروائی ہو۔
اب اس معاملے میں ریاستی حکومت کا ردعمل، متعلقہ مقدمات کی تحقیقات اور عدالتوں میں جاری کارروائی کی صورت حال اہم ہوگی۔ ان تفصیلات سے ہی الزامات اور دعووں کے مختلف پہلوؤں کو بہتر طور پر سمجھا جاسکے گا۔
نجاب میں منشیات کا مسئلہ پھر سیاسی بحث کا مرکز
پنجاب میں منشیات کا مسئلہ طویل عرصے سے سماجی اور سیاسی بحث کا اہم موضوع رہا ہے۔ ریاست میں منشیات کی اسمگلنگ پر روک لگانے، نوجوانوں کو اس کے اثرات سے بچانے اور منشیات کے خلاف آواز اٹھانے والے افراد کی حفاظت کے مطالبات مختلف مواقع پر سامنے آتے رہے ہیں۔
پروِندر سنگھ جھوٹا کے قتل اور اس کے بعد راہل گاندھی کے بیان نے ایک بار پھر اس مسئلے کو سیاسی بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ کانگریس نے اس معاملے پر بھگونت مان حکومت کی جواب دہی پر سوال اٹھائے ہیں اور وزیر اعلیٰ سے وضاحت طلب کی ہے۔
راہل گاندھی کی پوسٹ میں جن واقعات کا ذکر کیا گیا ہے، وہ الگ الگ معاملات ہیں اور ان کی حقیقت جاننے کے لیے ہر کیس کی تفصیلات کا الگ جائزہ لینا ضروری ہے۔ تحقیقات کے نتائج، پولیس کا مؤقف اور عدالتی کارروائی اس معاملے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ فی الحال یہ تنازع پنجاب میں منشیات کے خلاف کارروائی، عوامی تحفظ اور شکایت کرنے والوں کے حقوق کے حوالے سے سیاسی بحث کو مزید تیز کر رہا ہے۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
