تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
سرخی: گیانیش کمار کے خلاف درخواست پر سپریم کورٹ کا نوٹس


سپریم کورٹ نے پیر کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کام کاج سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کی اور الیکشن کمیشن سمیت متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کیا۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے کچھ فیصلے دیگر الیکشن کمشنروں کی ضروری رضامندی کے بغیر کیے گئے۔

چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کی سربراہی والی بینچ نے سماعت کے دوران واضح کیا کہ عدالت صرف اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹوں کی بنیاد پر کوئی فیصلہ یا حکم جاری نہیں کرے گی۔ عدالت نے کہا کہ کسی بھی عدالتی فیصلے کے لیے ٹھوس حقائق، سرکاری ریکارڈ اور متعلقہ قانونی دفعات کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔

درخواست میں الیکشن کمیشن کے اندر فیصلے لینے کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ درخواست گزاروں کا الزام ہے کہ کمیشن ایک کثیر رکنی آئینی ادارہ ہونے کے باوجود کچھ اہم فیصلے ضروری اجتماعی رضامندی کے بغیر کیے گئے۔

درخواست گزاروں نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان فیصلوں کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جائے اور اگر یہ ثابت ہو کہ مقررہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا تو قانون کے مطابق مناسب کارروائی کی جائے۔

یہ معاملہ ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن یعنی ایس آئی آر سے متعلق فیصلوں اور طریقہ کار سے بھی جڑا ہوا ہے۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دیگر 2 الیکشن کمشنروں نے بعض فیصلوں پر اعتراضات درج کیے تھے۔ تاہم، عدالت نے ان الزامات پر فی الحال کوئی حتمی نتیجہ نہیں دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے ان فیصلوں کی تفصیلات طلب کی ہیں جن کا ذکر درخواست میں کیا گیا ہے۔ عدالت یہ جاننا چاہتی ہے کہ متعلقہ فیصلے اتفاق رائے سے کیے گئے، اکثریت کی بنیاد پر لیے گئے یا صرف چیف الیکشن کمشنر کی سطح پر کیے گئے۔

سماعت کے دوران عدالت نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اگر الیکشن کمیشن کے جواب اور سرکاری ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد یہ سامنے آتا ہے کہ کچھ فیصلے ضروری اتفاق رائے کے بغیر کیے گئے تھے تو ان فیصلوں پر دوبارہ غور کیا جاسکتا ہے یا انہیں واپس لینے کا حکم دیا جاسکتا ہے۔

عدالت کا یہ مشاہدہ اس لیے اہم ہے کیونکہ الیکشن کمیشن ایک کثیر رکنی آئینی ادارہ ہے۔ اس لیے کمیشن کے اندر فیصلے لینے کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کا جائزہ متعلقہ قانونی دفعات اور سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر لیا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے فی الحال چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو معطل کرنے یا ان کے خلاف کوئی فوری منفی حکم جاری نہیں کیا ہے۔ عدالت نے پہلے الیکشن کمیشن کا جواب حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

درخواست گزاروں نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ الیکشن کمیشن کے نام پر لیے گئے فیصلوں میں کیا مقررہ قانونی طریقہ کار پر عمل کیا گیا تھا۔ ان کی درخواست ہے کہ اگر کسی فیصلے میں ضروری اجتماعی عمل کی پابندی نہیں کی گئی تو اس کے قانونی اثرات کا بھی جائزہ لیا جائے۔

عدالت نے یہ بھی اشارہ دیا کہ آئینی اداروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ قانون کے مطابق کام کریں اور اہم فیصلوں کے طریقہ کار کے بارے میں واضح معلومات فراہم کریں۔

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلوں کا براہ راست تعلق انتخابی عمل اور ووٹر لسٹ سے ہوتا ہے۔ ایس آئی آر کے ذریعے ووٹر لسٹ کی جانچ اور نظرثانی کا عمل کیا جاتا ہے، اس لیے اس عمل کے دوران فیصلے لینے کا طریقہ قانونی طور پر اہم بن جاتا ہے۔

فی الحال سپریم کورٹ نے صرف نوٹس جاری کرکے متعلقہ فریقوں سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف لگائے گئے الزامات کو ابھی حتمی طور پر درست قرار نہیں دیا ہے۔

آئندہ کارروائی کا انحصار الیکشن کمیشن کی جانب سے داخل کیے جانے والے جواب اور عدالت کے سامنے پیش کیے جانے والے سرکاری ریکارڈ پر ہوگا۔ اس کے بعد عدالت یہ جائزہ لے گی کہ متعلقہ فیصلے قانونی طریقہ کار کے مطابق کیے گئے تھے یا نہیں۔

اگر عدالت ریکارڈ کی جانچ کے بعد یہ پاتی ہے کہ کسی فیصلے میں ضروری طریقہ کار یا اتفاق رائے کی پابندی نہیں کی گئی تو عدالت نے اشارہ دیا ہے کہ ایسے فیصلے پر دوبارہ غور یا اسے واپس لینے کا امکان موجود ہے۔ تاہم، اس مرحلے پر ایسا کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا گیا ہے۔

سماعت سے یہ بھی واضح ہے کہ سپریم کورٹ اخباری رپورٹوں کو حتمی ثبوت نہیں مان رہی۔ عدالت الزامات کا جائزہ سرکاری ریکارڈ، حقائق اور متعلقہ آئینی و قانونی دفعات کی بنیاد پر لے گی۔

میٹا ہیڈ لائن: گیانیش کمار معاملے میں سپریم کورٹ کا الیکشن کمیشن کو نوٹس

میٹا ڈسکرپشن: سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف درخواست پر الیکشن کمیشن سے جواب طلب کیا اور کہا کہ صرف اخباری رپورٹ کی بنیاد پر حکم جاری نہیں کیا جاسکتا۔

میٹا کی ورڈز: گیانیش کمار، سپریم کورٹ، الیکشن کمیشن، چیف الیکشن کمشنر، ایس آئی آر، الیکشن کمیشن تنازع، سپریم کورٹ نوٹس، انتخابی عمل، ووٹر لسٹ، الیکشن کمیشن فیصلہ
 

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·