تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
ٹائیگر شروف فائرنگ کیس: 3 ملزمان 31 اکتوبر تک پولیس حراست میں


 ٹائیگر شروف فائرنگ کیس میں تحقیقات تیز

اداکار ٹائیگر شروف سے منسلک فائرنگ کیس میں پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ اس معاملے میں گرفتار کیے گئے تین ملزمان کو بدھ کے روز 37ویں میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کورٹ میں پیش کیا گیا۔ سماعت کے دوران استغاثہ نے ملزمان کی مزید پولیس حراست کی درخواست کی۔

عدالت نے تینوں ملزمان کو 31 اکتوبر تک پولیس حراست میں بھیج دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مکمل حقیقت سامنے لانے کے لیے ملزمان سے مزید پوچھ گچھ ضروری ہے۔ تفتیشی ٹیمیں یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ مبینہ واقعے کی منصوبہ بندی کیسے کی گئی، اس میں کون کون شامل تھا اور ملزمان کے درمیان کس نوعیت کے رابطے تھے۔

 دہلی اور ہریانہ سے مزید پانچ افراد گرفتار

پولیس نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس میں دہلی اور ہریانہ سے مزید پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان تمام افراد کو پوچھ گچھ کے لیے ممبئی لایا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق، گرفتار کیے گئے افراد کے مبینہ طور پر لارنس بشنوئی گینگ سے تعلقات ہیں۔

تفتیشی ایجنسیاں اب ان افراد کے مبینہ کردار کا جائزہ لے رہی ہیں۔ پولیس یہ معلوم کرنا چاہتی ہے کہ آیا ان افراد نے مبینہ سازش کی منصوبہ بندی، رابطہ کاری یا واقعے کو انجام دینے میں کوئی کردار ادا کیا تھا۔ ان کے کردار سے متعلق حتمی نتیجہ تفتیش اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہی سامنے آئے گا۔

مزید پانچ افراد کی گرفتاری سے تفتیش کا دائرہ بڑھ گیا ہے۔ پولیس اس بات کا بھی پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ گرفتار ملزمان کے درمیان کس طرح رابطے قائم تھے اور کیا اس معاملے میں مزید افراد بھی شامل تھے۔

واردات میں استعمال ہونے والے ہتھیار اب تک برآمد نہیں

عدالت میں سماعت کے دوران استغاثہ نے بتایا کہ مبینہ جرم میں استعمال ہونے والے ہتھیار اب تک برآمد نہیں کیے جا سکے ہیں۔ ہتھیاروں کی برآمدگی اس کیس کی تفتیش کا ایک اہم حصہ ہے، کیونکہ اس سے واقعے سے متعلق کئی اہم سوالات کے جواب مل سکتے ہیں۔

پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ ہتھیار کہاں رکھے گئے ہیں اور کیا انہیں چھپانے یا ٹھکانے لگانے میں کسی دوسرے شخص نے مدد کی تھی۔ تفتیشی ٹیمیں ملزمان سے پوچھ گچھ کے ساتھ دستیاب شواہد کا بھی جائزہ لے رہی ہیں تاکہ ہتھیاروں کے ممکنہ مقام کا پتہ لگایا جا سکے۔

جب تک ہتھیار برآمد نہیں ہوتے، اس معاملے کے بعض اہم پہلوؤں کی تصدیق باقی رہ سکتی ہے۔ اسی لیے پولیس مزید وقت لے کر اس سلسلے میں تحقیقات آگے بڑھانا چاہتی ہے۔

 موبائل فون تباہ کرنے کا الزام

استغاثہ نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ملزمان نے مبینہ طور پر جرم میں استعمال کیے گئے موبائل فون تباہ کر دیے ہیں۔ موبائل فون میں کال ریکارڈ، پیغامات، رابطوں اور دیگر ڈیجیٹل معلومات موجود ہو سکتی ہیں، جو تفتیش میں اہم ثبوت ثابت ہو سکتی ہیں۔

پولیس اب یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ موبائل فون کب اور کن حالات میں تباہ کیے گئے۔ تفتیشی ٹیمیں اس پہلو کی بھی جانچ کر رہی ہیں کہ آیا فون تباہ کرنے کا مقصد ممکنہ شواہد کو ختم کرنا تھا۔ اس بارے میں مزید معلومات ملزمان سے پوچھ گچھ اور دیگر دستیاب شواہد کی بنیاد پر حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہیں۔

موبائل فون سے متعلق معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پولیس ملزمان کے درمیان رابطوں اور ممکنہ طور پر دوسرے افراد سے ان کے تعلقات کا پتہ لگانا چاہتی ہے۔

 پولیس نے مزید حراست کیوں مانگی؟

پولیس نے عدالت سے مزید حراست کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ مبینہ سازش کا مکمل طور پر انکشاف ہونا ابھی باقی ہے۔ استغاثہ کے مطابق، اس معاملے میں مالی لین دین، موبائل فون تباہ کیے جانے اور ہتھیاروں کو ٹھکانے لگانے جیسے پہلوؤں کی بھی تحقیقات ضروری ہیں۔

پولیس یہ معلوم کرنا چاہتی ہے کہ آیا مبینہ جرم کے سلسلے میں رقم کا لین دین ہوا تھا اور اگر ایسا ہوا تو اس میں کن افراد کا کردار تھا۔ مالی معاملات کی جانچ سے ملزمان کے درمیان تعلقات اور ممکنہ رابطوں کے بارے میں مزید معلومات مل سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ پولیس یہ بھی جاننا چاہتی ہے کہ ہتھیاروں کو کہاں رکھا گیا اور انہیں چھپانے میں کسی دوسرے شخص نے مدد کی یا نہیں۔ مزید پولیس حراست کے دوران ان تمام پہلوؤں پر ملزمان سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔

 اب تفتیش کن نکات پر مرکوز ہے؟

فی الحال پولیس کی تحقیقات کئی اہم نکات پر مرکوز ہیں۔ ان میں مبینہ طور پر استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی برآمدگی، تباہ کیے گئے موبائل فون سے متعلق معلومات، مالی لین دین کی جانچ اور گرفتار ملزمان کے درمیان تعلقات کا پتہ لگانا شامل ہے۔

دہلی اور ہریانہ سے گرفتار کیے گئے پانچ افراد سے بھی ممبئی میں پوچھ گچھ کی جائے گی۔ پولیس ان کے بیانات اور دیگر شواہد کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ آیا اس معاملے میں کسی بڑے نیٹ ورک کا کردار تھا اور مبینہ واقعے کی منصوبہ بندی کس طرح کی گئی۔

فی الحال معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ ملزمان کے مبینہ کردار، واقعے کے پس منظر اور سازش سے متعلق مکمل حقائق تفتیش کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔ تمام الزامات کی تصدیق قانونی کارروائی اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہوگی۔

 

ٹائیگر شروف فائرنگ کیس: 3 ملزمان 31 اکتوبر تک حراست میں، مزید 5 گرفتار میٹا ڈسکرپشن

ٹائیگر شروف فائرنگ کیس میں تین ملزمان کو 31 اکتوبر تک پولیس حراست میں بھیج دیا گیا۔ دہلی اور ہریانہ سے مزید پانچ افراد گرفتار، ہتھیاروں، موبائل فون اور مبینہ سازش کی تحقیقات جاری۔

 

ٹائیگر شروف فائرنگ کیس، ٹائیگر شروف کیس اپڈیٹ، لارنس بشنوئی گینگ، ممبئی پولیس، تین ملزمان پولیس حراست، 31 اکتوبر تک حراست، دہلی سے گرفتاری، ہریانہ سے گرفتاری، مزید پانچ ملزمان گرفتار، مبینہ سازش، ہتھیاروں کی برآمدگی، موبائل فون تباہ، مالی لین دین کی تحقیقات

تکرار کم کرکے خبر مختصر کریںالزامات کی زبان مزید محتاط کریںخبر کے آغاز میں اہم نکات لائیں

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·