*تل ابیب:* فلائی دبئی کی ایک پرواز اس وقت خوفناک صورتحال میں تبدیل ہوگئی جب بھارتی پائلٹ سمت مچھھر پر کاک پٹ کے اندر حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں پائلٹ کے سر، گردن اور ہاتھوں پر شدید چوٹیں آئیں اور ان کے جسم سے کافی خون بہنے لگا۔
اسی دوران طیارے میں سفر کرنے والے اسرائیلی ڈینٹسٹ شوٹا موسایف نے فوری طور پر زخمی پائلٹ کی مدد شروع کی۔ وہ اس وقت ایک عام مسافر کے طور پر طیارے میں موجود تھے، لیکن ہنگامی صورتحال میں اپنی طبی معلومات کا استعمال کرتے ہوئے انہوں نے تقریباً 45 منٹ تک پائلٹ کو سنبھالنے کی کوشش کی۔
چیخوں کی آواز سن کر کاک پٹ کی طرف گئے
شوٹا موسایف نے بتایا کہ انہیں کاک پٹ کی طرف سے چیخنے کی آوازیں سنائی دیں۔ وہ فوراً وہاں پہنچے اور صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کی۔
حملہ آور کو قابو کرنے میں مدد کرنے کے بعد انہوں نے زخمی پائلٹ کی طرف توجہ دی۔ سمت مچھھر زمین پر پڑے ہوئے تھے اور ان کے سر اور بائیں ہاتھ سے بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا۔
موسایف نے فوری طور پر ابتدائی طبی امداد شروع کی۔ طیارے میں طبی سہولیات محدود ہونے کی وجہ سے انہیں دستیاب چیزوں سے ہی کام لینا پڑا۔ ٹی شرٹ سے خون روکنے کی کوشش
موسایف نے بتایا کہ پائلٹ کے زخم بہت گہرے تھے۔ انہوں نے خون روکنے کے لیے ٹی شرٹ کا استعمال کرتے ہوئے زخموں پر دباؤ ڈالنا شروع کیا۔
تاہم خون بہنا مسلسل جاری رہا۔ جب بھی وہ زخم دیکھنے کے لیے کپڑا ہٹاتے، خون دوبارہ تیزی سے بہنے لگتا۔ اس کے بعد انہوں نے آئس پیک کا استعمال کرتے ہوئے زخم پر مسلسل ہلکا دباؤ برقرار رکھا۔
ڈینٹسٹ کے مطابق انہوں نے تقریباً *45 منٹ تک مسلسل دباؤ برقرار رکھا* تاکہ خون کے بہاؤ کو کم کیا جا سکے اور پائلٹ کی حالت کو مستحکم رکھا جا سکے۔
'کپتان سوئیے نہیں، ہمیں آپ کی ضرورت ہے'
زخمی پائلٹ کی حالت تشویشناک ہونے کے باوجود موسایف نے انہیں ہوش میں رکھنے کی کوشش جاری رکھی۔ وہ مسلسل سمت سے بات کرتے رہے اور انہیں سونے سے منع کیا۔
انہوں نے پائلٹ سے ان کے خاندان اور بچوں کے بارے میں سوالات کیے تاکہ ان کی توجہ برقرار رہے۔ وہ انہیں مسلسل یقین دلاتے رہے کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا اور وہ جلد اپنے خاندان کے پاس واپس جائیں گے۔
سمت نے مبینہ طور پر موسایف سے مدد کی درخواست کی اور اپنی جان کے بارے میں خوف کا اظہار کیا۔ ڈینٹسٹ نے انہیں حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہمت نہ ہاریں۔
پائلٹ کی نبض بہت کم ہوگئی
علاج کے دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب سمت مچھھر کی نبض بہت کم ہوگئی۔ موسایف نے ان کی ٹانگیں اوپر اٹھائیں، جس کے بعد نبض میں بہتری دیکھی گئی۔
بعد میں موسایف نے محسوس کیا کہ پائلٹ کے ہونٹ نیلے پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے فوری طور پر طیارے کے عملے کو بتایا کہ جلد از جلد لینڈنگ ضروری ہے۔
ان کے مطابق صورتحال انتہائی سنگین ہوچکی تھی اور انہیں خدشہ تھا کہ اگر فوری طبی امداد نہ ملی تو پائلٹ کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے۔
حرکت دینے اور دوا دینے سے گریز
موسایف نے بتایا کہ وہ زخمی پائلٹ کو غیر ضروری طور پر حرکت دینے سے گریز کر رہے تھے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اس سے دوبارہ زیادہ خون بہنا شروع ہوسکتا ہے۔
پائلٹ کو درد کی شدت کم کرنے کے لیے دوا دینے پر بھی بات ہوئی، لیکن موسایف نے اس کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ شدید چوٹ اور خون بہنے کی صورتحال میں بغیر مکمل طبی جائزے کے دوا دینا خطرناک ہوسکتا ہے۔
انہوں نے پائلٹ کو تھوڑا تھوڑا پانی پلانے میں مدد کی اور مسلسل ان کی حالت پر نظر رکھی۔
تقریباً 40 منٹ تک طیارہ فضا میں رہا
حملے کے بعد طیارہ تقریباً 40 منٹ تک فضا میں رہا۔ اس دوران موسایف مسلسل زخمی پائلٹ کی مدد کرتے رہے اور ان کی حالت کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔
سعودی عرب پہنچنے کے بعد پائلٹ کو وہاں موجود طبی عملے کے حوالے کیا گیا۔ اس موقع پر موسایف نے زخمی کپتان کو حوصلہ دیا اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
'انہوں نے ہماری جان بچائی، ہم نے ان کی'
شوٹا موسایف نے سمت مچھھر کو ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا کہ پائلٹ نے طیارے میں موجود مسافروں کی جان بچانے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کی۔
انہوں نے کہا کہ جب پائلٹ کو مدد کی ضرورت پڑی تو انہوں نے بھی اپنی استطاعت کے مطابق ان کی جان بچانے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس میں انسانیت، ذمہ داری اور ہمت تینوں ایک ساتھ نظر آئیں۔
شدید زخمی ہونے کے باوجود پائلٹ کو ہوش میں رکھنے، خون بہنے کو کم کرنے اور زمین پر طبی امداد ملنے تک ان کی حالت کو سنبھالنے میں موسایف کی کوششیں اہم رہیں۔
یہ واقعہ اس بات کی مثال بن گیا کہ کسی ہنگامی صورتحال میں ایک عام مسافر بھی اپنی مہارت اور حوصلے سے کسی کی زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
