چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر دہلی میں ہوئے احتجاج کے معاملے نے سیاسی رخ اختیار کرلیا ہے۔ دہلی پولیس نے کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کے خلاف پولیس اہلکاروں سے مبینہ ہاتھاپائی اور سرکاری ڈیوٹی میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں نئی ایف آئی آر درج کی ہے۔
پولیس کے مطابق یہ معاملہ بدھ کے روز جن پتھ اور جنتر منتر کے آس پاس ہونے والے احتجاج سے متعلق ہے۔ احتجاج میں اپوزیشن جماعتوں کے کئی رہنما اور کارکنان شامل تھے۔ مظاہرین جنتر منتر کی جانب بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے، جبکہ پولیس نے انہیں آگے جانے سے روک دیا۔
پولیس کے مطابق مظاہرین کو روکنے کے دوران حالات کشیدہ ہوگئے۔ پولیس اہلکاروں اور احتجاج میں شامل لوگوں کے درمیان بحث اور دھکم پیل ہوئی۔ پولیس کا الزام ہے کہ اس دوران ڈیوٹی پر موجود کچھ اہلکاروں کے ساتھ مبینہ طور پر ہاتھاپائی کی گئی اور ان کے سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالی گئی۔
اس معاملے میں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کے علاوہ احتجاج میں شامل دیگر کانگریس رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔ پولیس پورے واقعے کی ویڈیو فوٹیج اور دیگر شواہد کی جانچ کررہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ احتجاج کے دوران کس شخص کا کیا کردار رہا۔
یہ احتجاج چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر کیا گیا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں کے کئی رہنما اور ارکان پارلیمنٹ اس احتجاج میں شامل ہوئے۔ اپوزیشن نے انتخابی عمل اور ووٹر فہرست سے متعلق اپنے خدشات کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کیا۔
جن پتھ کے قریب اس وقت حالات مزید کشیدہ ہوگئے جب اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کو لے جانے والی بسوں کو روک دیا گیا۔ اپوزیشن رہنما جنتر منتر کی جانب جانا چاہتے تھے، جبکہ پولیس نے امن و امان اور عوامی آمدورفت کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی۔ اسی دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید بحث اور دھکم پیل ہوئی۔
احتجاج کے دوران پرینکا گاندھی واڈرا کئی خاتون رہنماؤں کے ساتھ سڑک پر بیٹھ گئی تھیں۔ ان کے ہاتھ میں آئین کی ایک کاپی بھی دیکھی گئی۔ پولیس نے بعد میں انہیں اور دیگر مظاہرین کو سڑک سے ہٹایا اور کئی افراد کو حراست میں لے لیا۔ احتجاج کے پیش نظر علاقے میں سیکیورٹی بھی بڑھا دی گئی تھی۔
دہلی پولیس کے مطابق احتجاج کے دوران مجموعی طور پر 91 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ان میں کئی ارکان پارلیمنٹ اور اپوزیشن کے سینئر رہنما بھی شامل تھے۔ راہل گاندھی کی قیادت میں ہونے والے اس احتجاج میں کانگریس کے ساتھ کئی دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنما بھی موجود تھے۔
یہ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کے خلاف احتجاج سے متعلق دوسری ایف آئی آر بتائی جارہی ہے۔ اس سے قبل بدھ کے روز دونوں کے خلاف آل انڈیا ریڈیو کے احاطے میں مبینہ طور پر زبردستی داخل ہونے اور وہاں بدنظمی پیدا کرنے کے الزام میں ایک الگ مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو اس لیے روکا گیا تھا تاکہ ٹریفک اور عوامی نظام متاثر نہ ہو۔ پولیس حکام کے مطابق احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعات کی ویڈیو فوٹیج کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر دستیاب شواہد کی بنیاد پر بھی تحقیقات کی جارہی ہیں۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ انتخابی عمل سے متعلق اپنے سوالات اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے کو لے کر جمہوری انداز میں احتجاج کررہی تھیں۔ اپوزیشن رہنماؤں نے احتجاج کو اپنے جمہوری اور آئینی حق کے طور پر پیش کیا ہے۔
اس معاملے میں پولیس اور اپوزیشن کی جانب سے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ اب دہلی پولیس کی تحقیقات میں ویڈیو فوٹیج، عینی شاہدین کے بیانات اور دیگر شواہد کی بنیاد پر واقعے کی تفصیلات واضح کی جائیں گی۔ تحقیقات کی بنیاد پر ہی آئندہ قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
