تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
ووٹ چوری کے الزامات پر راہل گاندھی سمیت اپوزیشن کا سپریم کورٹ تک مارچ


مبینہ ووٹ چوری اور انتخابی عمل سے متعلق سوالات پر اپوزیشن انڈیا اتحاد نے اپنا احتجاج تیز کر دیا ہے۔ پیر کے روز کانگریس رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی سمیت اتحاد کے کئی رہنما بارکھمبا روڈ سے سپریم کورٹ تک مارچ کے لیے آگے بڑھے۔ اس احتجاج کا بنیادی مقصد مبینہ ووٹ چوری، ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کردار سے متعلق اپنے اعتراضات سامنے رکھنا ہے۔ راہل گاندھی نے اس احتجاج کو ’چلو دہلی—جمہوریت کے لیے مارچ‘ کا نام دیا ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق، اپوزیشن اتحاد کے کئی رہنما پیر کے روز بسوں میں سوار ہو کر بارکھمبا روڈ پہنچے، جہاں سے انہیں سپریم کورٹ کی طرف مارچ کرنا ہے۔ راہل گاندھی نے مارچ سے پہلے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور انڈیا اتحاد کے دیگر رہنما سپریم کورٹ جائیں گے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف عرضی دائر کریں گے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل اور ووٹر لسٹ سے متعلق سوالات کو مناسب قانونی فورم پر اٹھانا ضروری ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ جاری احتجاج صرف ایک دن کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ مسلسل جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق، اپوزیشن اس مسئلے کو پہلے بھی اٹھاتی رہی ہے اور اب اتحاد کے رہنما اپنی شکایات اور مطالبات لے کر سپریم کورٹ کا رخ کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مارچ کے ذریعے جمہوریت اور انتخابی عمل سے متعلق اٹھنے والے سوالات کی طرف توجہ دلائی جائے گی۔

گیانیش کمار کے خلاف عرضی دائر کرنے کی تیاری

اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کردار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اتحاد کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مبینہ ووٹ چوری اور ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی سے متعلق معاملات میں جواب دہی ہونی چاہیے۔ اسی سلسلے میں اپوزیشن رہنما سپریم کورٹ پہنچ کر عرضی دائر کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ تاہم، عرضی میں شامل تمام نکات اور عدالت میں آگے ہونے والی کارروائی کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔

ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی، جسے SIR کہا جاتا ہے، بھی اپوزیشن کے احتجاج کا ایک اہم موضوع ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس عمل کے بارے میں اپنے خدشات ظاہر کیے ہیں اور انتخابی ادارے کے کردار پر سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹ کی تیاری اور نظرثانی کے دوران شفافیت اور غیر جانب داری کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ ان الزامات اور اعتراضات کا جائزہ متعلقہ فریقوں کے مؤقف اور قانونی کارروائی کی روشنی میں لیا جانا اہم ہوگا۔

 منڈی ہاؤس میں وکلا کا بھی احتجاج

اپوزیشن رہنماؤں کے مارچ کے ساتھ ہی دہلی کے منڈی ہاؤس علاقے میں وکلا کا ایک گروپ بھی پیدل مارچ کر رہا ہے۔ وکلا کا یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب انتخابی عمل اور ووٹر لسٹ سے متعلق معاملات پر سیاسی سرگرمیاں تیز ہیں۔ تاہم، دستیاب معلومات میں وکلا کے احتجاج کے مخصوص مطالبات اور ان کے اگلے اقدامات کی مکمل تفصیل نہیں دی گئی ہے۔

بارکھمبا روڈ سے سپریم کورٹ تک مجوزہ مارچ اور منڈی ہاؤس میں وکلا کے احتجاج نے دہلی میں سیاسی سرگرمیوں کو مزید تیز کر دیا ہے۔ اپوزیشن اتحاد کے رہنما اس مارچ کے ذریعے مبینہ ووٹ چوری، SIR اور چیف الیکشن کمشنر کے کردار سے متعلق اپنے اعتراضات عدالت کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔

 راہل گاندھی کا مکمل مطالبہ کیا ہے؟

مارچ سے پہلے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ وہ اور انڈیا اتحاد کے رہنما سپریم کورٹ جا کر عرضی دائر کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ احتجاج ایک دن کی سرگرمی نہیں ہے بلکہ اپوزیشن مسلسل اس معاملے کو اٹھا رہی ہے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن اس معاملے کو سیاسی احتجاج کے ساتھ ساتھ عدالتی سطح پر بھی آگے بڑھانا چاہتی ہے۔

فی الحال، اس مارچ کا بنیادی مقصد انتخابی عمل سے متعلق اپوزیشن کے سوالات سپریم کورٹ کے سامنے رکھنا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف عرضی دائر کرنا ہے۔ اس معاملے میں عدالت کے سامنے کون سے نکات پیش کیے جاتے ہیں، عرضی پر کیا کارروائی ہوتی ہے اور آئندہ قانونی عمل کس سمت آگے بڑھتا ہے، اس کی تفصیلات آنے والے وقت میں واضح ہوں گی۔
 

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·