تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
1. دہلی میں کانگریس کی ریلی ملتوی کرنے کا مطالبہ، تاجروں نے راہل گاندھی کو خط لکھ دی


دہلی میں تہواروں کے سیزن کے دوران کاروباری سرگرمیوں پر ممکنہ اثرات کو لے کر تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (CTI) نے کانگریس رہنما راہل گاندھی کو خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ یکم نومبر 2026 کو رام لیلا میدان میں مجوزہ کانگریس ریلی کو بھائی دوج کے بعد منعقد کیا جائے۔

تجارتی تنظیم کے مطابق، ریلی کی مجوزہ تاریخ ایسے وقت میں ہے جب دہلی کے بازاروں میں دیوالی اور دھن تیرس کی خریداری زور پکڑتی ہے۔ اس دوران سونے، چاندی، برتنوں، کپڑوں، الیکٹرانکس اور گاڑیوں سمیت کئی شعبوں میں خریداری بڑھ جاتی ہے۔ CTI کو خدشہ ہے کہ ریلی کے سبب ٹریفک کی آمدورفت متاثر ہونے، سڑکوں پر پابندیاں لگنے اور بازاروں تک پہنچنے میں دشواری پیدا ہونے سے تاجروں کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

تنظیم نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ ان حالات میں دہلی کے کاروبار پر تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم، یہ CTI کی جانب سے ظاہر کیا گیا خدشہ ہے، اسے حقیقی نقصان کا تصدیق شدہ تخمینہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

 تہواروں کے سیزن میں دہلی کے بازاروں کی اہمیت

دہلی ملک کے بڑے تجارتی مراکز میں شمار ہوتی ہے۔ دیوالی، دھن تیرس اور بھائی دوج کے موقع پر یہاں مقامی خریداروں کے علاوہ آس پاس کے شہروں اور دیگر ریاستوں سے بھی لوگ خریداری کے لیے پہنچتے ہیں۔

ان تہواروں کے دوران زیورات، سونے چاندی، برتنوں، کپڑوں، الیکٹرانکس، آرائشی سامان اور گاڑیوں کی خریداری میں اضافہ ہوتا ہے۔ CTI کے مطابق، ان تہواروں کے دوران دہلی میں تقریباً 25 ہزار کروڑ روپے کا کاروبار ہوتا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ نومبر کے آغاز سے ہی بازاروں میں خریداری کی سرگرمیاں تیز ہونے لگتی ہیں۔ اس دوران تاجروں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ گاہکوں کو بازاروں تک پہنچنے میں دشواری نہ ہو اور سامان کی ترسیل بھی معمول کے مطابق جاری رہے۔

اگر ریلی کے دوران ٹریفک کا رخ تبدیل کیا جاتا ہے یا اہم سڑکوں پر آمدورفت محدود ہوتی ہے تو خریداروں کو بازاروں تک پہنچنے میں اضافی وقت لگ سکتا ہے۔ اس صورت حال سے دکانوں پر گاہکوں کی آمد اور فروخت متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اکتوبر میں بھی نقصان کا دعویٰ

CTI نے اپنے خط میں اکتوبر کے دوران وسطی دہلی میں ہونے والے مظاہروں اور سڑکوں کی بندش کا بھی حوالہ دیا ہے۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ ان سرگرمیوں کی وجہ سے تاجروں کو تقریباً 3 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔

تجارتی تنظیم کے مطابق، تہواروں کے اہم دنوں میں بار بار ٹریفک متاثر ہونے سے کاروباری سرگرمیوں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ تھوک بازاروں میں سامان کی آمدورفت، دکانوں تک مال پہنچانے اور خریداروں کی نقل و حرکت کے لیے سڑکوں کا کھلا رہنا اہم ہوتا ہے۔

تاہم، 3 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کے اعداد و شمار تنظیم کی جانب سے پیش کیے گئے ہیں۔ دستیاب معلومات میں اس دعوے کی آزادانہ تصدیق یا نقصان کے حساب کتاب کی مکمل تفصیلات موجود نہیں ہیں۔

 20 سے زیادہ بازاروں پر اثر پڑنے کا خدشہ

CTI نے رام لیلا میدان کے اطراف موجود تجارتی علاقوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تقریباً پانچ کلومیٹر کے دائرے میں 20 سے زیادہ تھوک اور خوردہ بازار واقع ہیں۔ ان میں چاندنی چوک، صدر بازار، چاوڑی بازار، بھگیرتھ پیلس اور کرول باغ جیسے اہم تجارتی علاقے شامل ہیں۔

ان بازاروں میں روزانہ بڑی تعداد میں خریدار اور تاجر پہنچتے ہیں۔ چاندنی چوک اور صدر بازار میں تھوک تجارت بڑے پیمانے پر ہوتی ہے، جبکہ بھگیرتھ پیلس برقی سامان اور الیکٹرانکس کی تجارت کے لیے معروف ہے۔ کرول باغ میں بھی مختلف اقسام کی خوردہ خریداری ہوتی ہے۔

تنظیم کو خدشہ ہے کہ ریلی کے دوران بیریکیڈنگ، ٹریفک ڈائیورژن اور سکیورٹی انتظامات کی وجہ سے ان بازاروں تک پہنچنے میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس کا اثر دکانوں کی فروخت کے ساتھ سامان کی ترسیل اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔

تاہم، کن سڑکوں پر پابندیاں لگائی جائیں گی یا میٹرو اسٹیشنوں کے حوالے سے کوئی فیصلہ ہوگا، اس بارے میں حتمی معلومات متعلقہ حکام کی سرکاری ہدایات کے بعد ہی واضح ہوں گی۔

دوسرے شہروں سے آنے والے خریداروں کی آمدورفت پر تشویش

دہلی کے تھوک بازاروں میں خریداری کے لیے دوسرے شہروں اور ریاستوں سے بھی بڑی تعداد میں تاجر آتے ہیں۔ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن اور پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن ان مسافروں کے لیے اہم ذرائع ہیں جو دہلی کے تجارتی علاقوں تک پہنچتے ہیں۔

CTI کے مطابق، اگر ریلی کے دوران سڑکوں پر بھیڑ بڑھتی ہے یا بازاروں تک رسائی مشکل ہوتی ہے تو باہر سے آنے والے بعض خریدار دہلی آنے سے گریز کر سکتے ہیں۔ اس سے تھوک خریداری میں کمی آنے اور تاجروں کے کاروبار پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔

تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ کی صورت میں اس کا اثر صرف دکان داروں تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ سامان فراہم کرنے والوں، ٹرانسپورٹ کے شعبے اور دیگر کاروباری اداروں کو بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

تاہم، حقیقی اثرات کا انحصار ریلی کے دوران کیے جانے والے انتظامات، ٹریفک کے راستوں اور بازاروں تک رسائی کی صورت حال پر ہوگا۔ فی الحال یہ تنظیم کی جانب سے ظاہر کیے گئے خدشات ہیں، کسی حتمی نقصان کی تصدیق نہیں۔

بھائی دوج کے بعد ریلی منعقد کرنے کی اپیل

CTI نے راہل گاندھی سے اپیل کی ہے کہ یکم نومبر کی مجوزہ ریلی کو 10 نومبر 2026 کے بعد منعقد کرنے پر غور کیا جائے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ تاریخ تبدیل کرنے سے تہواروں کے دوران کاروبار کو معمول کے مطابق جاری رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

تاجروں کی یہ درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دہلی کے بازار دیوالی اور دھن تیرس کی خریداری کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں ریلی کے انعقاد، ٹریفک انتظامات اور تجارتی علاقوں تک رسائی کو لے کر خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔

ریلی کی تاریخ تبدیل ہوگی یا نہیں، اس بارے میں حتمی فیصلہ منتظمین کی جانب سے کیا جائے گا۔ فی الحال CTI نے اپنے خط کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں پر ممکنہ اثرات کی نشاندہی کرتے ہوئے تاریخ تبدیل کرنے کی اپیل کی ہے۔
 

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·