تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
ہُدا زری والا بولیں، میں قرآن اور آئین دونوں کو مانتی ہوں

ہُدا زری والا نے مذہبی عقیدے اور آئینی اقدار کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قرآن اور ہندوستان کے آئین دونوں کو مانتی ہیں۔ ان کے اس بیان میں مذہبی وابستگی کے ساتھ ملک کے آئینی نظام اور اس کی اقدار پر اعتماد کا اظہار بھی نظر آتا ہے۔

ہُدا زری والا نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا، “میں قرآن اور آئین دونوں کو مانتی ہوں۔” اس بیان کے ذریعے انہوں نے اپنی مذہبی وابستگی اور آئینی یقین دونوں کو ایک ساتھ بیان کیا۔ ان کی بات میں دونوں کو ایک دوسرے کے مقابل رکھنے کے بجائے دونوں کے احترام اور اہمیت کی بات سامنے آتی ہے۔

ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف مذاہب، زبانوں، ثقافتوں اور روایات سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے ہیں۔ ملک کا آئین تمام شہریوں کو مساوات، آزادی اور مذہبی آزادی سمیت مختلف بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے۔ یہ حقوق ہندوستان کے جمہوری نظام کا اہم حصہ ہیں اور ہر شہری کو ملک کے آئینی دائرے کے تحت اپنے عقیدے اور مذہبی معاملات پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے۔

قرآن اسلام کی مقدس کتاب ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے اس کی مذہبی اور روحانی اہمیت ہے۔ مسلمانوں کے لیے قرآن مذہبی رہنمائی اور عقیدے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ مذہبی عقیدہ بہت سے لوگوں کی ذاتی اور سماجی زندگی کا اہم حصہ ہوتا ہے اور اسی عقیدے کی بنیاد پر لوگ اپنی زندگی سے متعلق کئی فیصلوں اور نظریات کو سمجھتے ہیں۔

دوسری طرف ہندوستان کا آئین ملک کے قانونی اور شہری نظام کی بنیاد ہے۔ آئین ملک کی حکومت، انتظامی نظام، عدلیہ اور شہریوں کے حقوق و فرائض کا بنیادی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ ملک میں قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ بھی آئینی اصولوں کے تحت کیا جاتا ہے۔

ہُدا زری والا کے بیان میں مذہبی عقیدے اور آئینی اقدار، دونوں کے ساتھ وابستگی کا اظہار کیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی بات میں یہ کہا کہ ان کے لیے قرآن بھی اہم ہے اور ہندوستان کا آئین بھی۔ ان کے بیان سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ ساتھ ملک کے آئینی نظام پر بھی اعتماد رکھتی ہیں۔

ان کے اس بیان نے مذہب اور آئین کے تعلق پر ہونے والی عام بحث کو بھی ایک بار پھر سامنے لایا ہے۔ ہندوستان جیسے متنوع ملک میں مختلف مذہبی عقائد رکھنے والے شہری ایک مشترکہ آئینی نظام کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔ ہر شخص کا مذہبی عقیدہ الگ ہو سکتا ہے، لیکن ملک کا آئین تمام شہریوں کے لیے قانونی اور شہری نظام کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

آئین شہریوں کو اپنے ضمیر اور مذہبی عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی دیتا ہے، جبکہ ملک کے تمام شہریوں کے لیے قانون کی پابندی بھی ضروری ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ذاتی عقیدے اور شہری ذمہ داری کے درمیان توازن کا موضوع اکثر عوامی اور سماجی گفتگو کا حصہ بنتا ہے۔

ہُدا زری والا نے اپنے بیان میں دونوں کو ایک ساتھ ماننے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ مذہبی عقیدہ اور آئین ایک دوسرے کے خلاف ہیں، بلکہ اپنے ذاتی موقف میں دونوں کے لیے اہمیت کا اظہار کیا ہے۔ ان کے الفاظ کو مذہبی وابستگی اور آئینی اعتماد، دونوں کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ہندوستان میں مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگ اپنی اپنی مذہبی روایات اور عقائد کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ملک کا آئین تمام شہریوں کو ایک مشترکہ قانونی نظام سے جوڑتا ہے۔ آئینی اصولوں میں مساوات، آزادی، انصاف اور مختلف شہری حقوق کو اہم مقام حاصل ہے۔

ہُدا زری والا کے بیان کا مرکزی پہلو یہی ہے کہ انہوں نے اپنے مذہبی عقیدے اور آئینی یقین کو الگ الگ یا ایک دوسرے کے مخالف نہیں بتایا۔ ان کے مطابق قرآن اور آئین، دونوں ان کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔

ان کے بیان کے بعد مذہبی آزادی، ذاتی عقیدے، شہری حقوق اور آئینی ذمہ داریوں جیسے موضوعات پر بھی توجہ گئی ہے۔ ایک متنوع جمہوری معاشرے میں مختلف عقائد رکھنے والے افراد کے لیے آئینی نظام ایک مشترکہ قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے، جبکہ ہر فرد کی مذہبی وابستگی اس کی ذاتی شناخت کا حصہ ہو سکتی ہے۔

فی الحال ہُدا زری والا کا یہ بیان ان کے ذاتی موقف کی عکاسی کرتا ہے، جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ قرآن اور ہندوستان کے آئین دونوں کو مانتی ہیں۔ ان کے اس بیان میں مذہبی عقیدے کے ساتھ ساتھ آئینی اقدار اور ملک کے قانونی نظام پر اعتماد کا اظہار بھی شامل ہے۔

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·