سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو عدالت سے راحت
کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت دیپکے کو دہلی کی ایک عدالت سے مشروط ضمانت مل گئی ہے۔ دہلی پولیس نے انہیں ہفتے کی صبح گرفتار کیا تھا۔ دستیاب معلومات کے مطابق، پولیس نے امن و امان میں خلل پڑنے کے خدشے سے متعلق احتیاطی کارروائی کے تحت ان کے خلاف کارروائی کی تھی۔
گرفتاری کے بعد ابھیجیت دیپکے کو دہلی کے مندر مارگ علاقے میں واقع اے سی ایم کورٹ میں پیش کیا گیا۔ عدالت میں دونوں فریقوں کی جانب سے دلائل پیش کیے گئے۔ طویل بحث کے بعد عدالت نے انہیں کچھ شرائط کے ساتھ ضمانت دینے کا فیصلہ کیا۔
عدالت نے ضمانت کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے انہیں بانڈ بھرنے کی ہدایت بھی دی۔ تاہم، ضمانت کی تمام شرائط کی مکمل تفصیلات دستیاب معلومات میں واضح نہیں ہیں۔ ان شرائط کی تصدیق کے لیے عدالت کے سرکاری حکم نامے کو دیکھنا ضروری ہوگا۔
مندر مارگ کی اے سی ایم کورٹ میں سماعت
ابھیجیت دیپکے کو ہفتے کی دوپہر مندر مارگ واقع اے سی ایم کورٹ میں پیش کیا گیا۔ سماعت کے دوران دونوں فریقوں نے اپنا اپنا موقف اور دلائل عدالت کے سامنے رکھے۔ معاملے پر کافی دیر تک بحث جاری رہی، جس کے بعد عدالت نے مشروط ضمانت منظور کرلی۔
عدالت کی جانب سے بانڈ کی کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ضمانت کے ساتھ عائد شرائط پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ان شرائط کی درست تفصیلات صرف عدالت کے حکم نامے سے ہی معلوم ہوسکتی ہیں۔
مشروط ضمانت ملنے کا مطلب یہ ہے کہ ملزم کو عدالت کی مقرر کردہ شرائط کے تحت قانونی راحت دی گئی ہے۔ اس فیصلے کو معاملے کی حتمی قانونی حیثیت یا کسی دوسرے ممکنہ مقدمے کے نتیجے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
امن و امان سے متعلق خدشات کے تحت پولیس کی کارروائی
دہلی پولیس نے ابھیجیت دیپکے کے خلاف بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (BNSS) کی دفعات 126 اور 170 کے تحت کارروائی کیے جانے کی اطلاع دی تھی۔ یہ دفعات قانون کے مطابق مخصوص حالات میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے احتیاطی اقدامات سے متعلق ہیں۔
گرفتاری کے بعد انہیں عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں معاملے کی سماعت ہوئی۔ دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے انہیں مشروط ضمانت دے دی۔
اس معاملے میں پولیس کی کارروائی اور ضمانت کی شرائط سے متعلق حتمی معلومات کے لیے سرکاری دستاویزات اہم ہوں گی۔ عدالت سے ضمانت ملنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معاملے سے متعلق ہر قانونی پہلو کا فیصلہ بھی ہوگیا ہے۔
ترنگا مارچ کے دوران بھی حراست میں لیے گئے تھے
ابھیجیت دیپکے کو اس سے پہلے 16 اکتوبر 2026 کو دہلی میں ترنگا مارچ کے دوران بھی پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ دستیاب معلومات کے مطابق، کچھ وقت حراست میں رکھنے کے بعد انہیں ہدایت دے کر چھوڑ دیا گیا تھا۔
اس کے اگلے دن ان کی گرفتاری کی خبر سامنے آئی اور انہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔ مسلسل دو دن ہونے والی پولیس کارروائی کے باعث یہ معاملہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
تاہم، دونوں واقعات کے درمیان قانونی تعلق اور ان کے پس منظر کے بارے میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے پولیس کے سرکاری بیان اور عدالتی ریکارڈ کی تصدیق ضروری ہے۔
مشروط ضمانت کے بعد اب کیا ہوگا؟
عدالت سے مشروط ضمانت ملنے کے بعد ابھیجیت دیپکے کو ضمانت کے حکم نامے میں درج شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔ اگر کسی شرط کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو متعلقہ قانون اور عدالت کے حکم کے مطابق مزید کارروائی ہوسکتی ہے۔
فی الحال اس معاملے میں اہم پیش رفت یہ ہے کہ دہلی پولیس نے امن و امان میں خلل پڑنے کے خدشے سے متعلق کارروائی کے تحت سی جے پی کے بانی کو گرفتار کیا، انہیں اے سی ایم کورٹ میں پیش کیا اور سماعت کے بعد عدالت نے مشروط ضمانت منظور کرلی۔
ضمانت کی مکمل شرائط اور آئندہ قانونی کارروائی کے بارے میں مزید معلومات کے لیے عدالت کے سرکاری حکم نامے کا انتظار اہم ہوگا۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
