تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
ووٹر لسٹ میں 158 غلطیاں، الیکشن حکام نے وضاحت جاری کر دی


جھانسی:اتر پردیش کے جھانسی-الہ آباد گریجویٹ قانون ساز کونسل کے انتخابی حلقے کی ووٹر لسٹ میں ناموں کے غیر معمولی اندراجات کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ انتخابی حکام کے مطابق، فہرست میں 158 ایسے اندراجات پائے گئے جن میں ووٹروں یا ان کے رشتہ داروں کے نام غیر معمولی انداز میں درج تھے۔ اس معاملے پر اتر پردیش کے چیف الیکشن افسر نویدیپ رنوا نے پولنگ شروع ہونے سے چند گھنٹے پہلے وضاحت جاری کی۔

حکام کے مطابق، اس انتخابی حلقے کی ووٹر لسٹ میں مجموعی طور پر 14,81,310 اندراجات موجود ہیں۔ ان میں 158 اندراجات ایسے پائے گئے جن میں ناموں کے اندراج سے متعلق بے ضابطگیاں نظر آئیں۔ بتایا گیا کہ اس مرتبہ پہلی بار ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کے لیے آن لائن رجسٹریشن کی سہولت استعمال کی گئی تھی۔ اسی عمل کے دوران انگریزی میں درج ناموں کو ہندی میں تبدیل کرتے وقت کچھ تکنیکی اور انسانی غلطیاں سامنے آئیں۔

اس معاملے نے ووٹر لسٹ تیار کرنے، آن لائن درخواستوں میں درج معلومات کی جانچ اور حتمی فہرست جاری کرنے سے پہلے تصدیق کے عمل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ چیف الیکشن افسر کے مطابق، غلط اندراجات کو درست کرنے کے لیے ترمیم کی سہولت موجود تھی، لیکن اس کے باوجود بعض غلطیاں حتمی فہرست میں باقی رہ گئیں۔

Ramhit Yadav‘ کا مطلب کیسے بدل گیا؟

چیف الیکشن افسر نویدیپ رنوا کے مطابق، آن لائن درخواستوں میں انگریزی میں درج ناموں کو ہندی میں لکھنے کے لیے تلفظ کی بنیاد پر حروف کی تبدیلی یعنی لِپیانترن (Transliteration) کیا جانا تھا۔ اس عمل میں نام کو اس کے اصل تلفظ کے مطابق دوسری زبان کی رسم الخط میں لکھا جاتا ہے۔ یہ ترجمے سے مختلف ہے، کیونکہ ترجمے میں الفاظ کے معنی تبدیل کیے جاتے ہیں۔

تاہم، بعض معاملات میں سافٹ ویئر نے ناموں کو تلفظ کے مطابق ہندی میں لکھنے کے بجائے ان کا لفظی ترجمہ کر دیا۔ اس وجہ سے کچھ ناموں کے معنی بالکل بدل گئے اور وہ غیر معمولی جملوں کی شکل میں سامنے آئے۔

مثال کے طور پر، اگر کسی ووٹر کا نام ’رام ہِت یادو‘ ہو اور انگریزی میں اسے ’Ramhit Yadav‘ کے بجائے غلطی سے ’Ram hit Yadav‘ درج کر دیا جائے، تو سافٹ ویئر ان الفاظ کو کسی شخص کے نام کے طور پر سمجھنے کے بجائے ایک جملے کے طور پر پڑھ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہندی میں اس کا مطلب ’رام نے یادو کو مارا‘ جیسا بن گیا۔

یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ انگریزی میں کسی نام کے درمیان غلط جگہ پر اسپیس دینے یا الفاظ کی ترتیب میں معمولی غلطی سے سافٹ ویئر کس طرح نام کا مطلب تبدیل کر سکتا ہے۔ کسی شخص کے نام کو اس کے تلفظ کے مطابق لکھنے کے بجائے اس کا لفظی ترجمہ کرنے سے سرکاری دستاویز میں غلط اندراج ہو سکتا ہے۔

حکام نے ایک اور مثال بھی دی، جس میں والد کے نام کے خانے میں ’B Com‘ درج پایا گیا۔ اسے درخواست بھرتے وقت انسانی غلطی یا مناسب احتیاط نہ برتنے کی مثال قرار دیا گیا۔ اس طرح کے معاملات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آن لائن فارم بھرنے، معلومات کو سافٹ ویئر کے ذریعے پراسیس کرنے اور حتمی ووٹر لسٹ کی جانچ کے دوران مزید احتیاط کی ضرورت ہے۔

 ووٹر لسٹ میں کتنے اندراجات ہیں؟

چیف الیکشن افسر کے مطابق، جھانسی-الہ آباد گریجویٹ انتخابی حلقے کی ووٹر لسٹ میں مجموعی طور پر 14,81,310 اندراجات ہیں۔ ان میں سے 158 اندراجات میں ووٹروں یا ان کے رشتہ داروں کے نام غیر معمولی انداز میں درج پائے گئے۔

دستیاب معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تمام 158 اندراجات میں ایک ہی قسم کی غلطی ہوئی تھی۔ سامنے آنے والی مثالوں سے اشارہ ملتا ہے کہ کچھ معاملات میں انگریزی ناموں کو ہندی میں تبدیل کرنے کے دوران غلطی ہوئی، جبکہ کچھ معاملات میں درخواست میں معلومات درج کرتے وقت کوتاہی ہوئی۔

ووٹر لسٹ انتخابی عمل کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس میں ووٹر کا نام اور دیگر شناختی تفصیلات درست ہونا ضروری ہے، تاکہ پولنگ کے دوران اس کی شناخت کی تصدیق میں دشواری نہ ہو۔ اسی لیے ایسی بے ضابطگیوں کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ان کے اسباب جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

 متعلقہ افسران سے وضاحت کیوں طلب کی گئی؟

چیف الیکشن افسر نویدیپ رنوا نے بتایا کہ ووٹر لسٹ میں ناموں کی غلطیوں کو درست کرنے کے لیے ترمیم کی سہولت دستیاب تھی۔ اس کے باوجود کچھ غلط اندراجات حتمی فہرست میں موجود رہے۔ اسی معاملے میں متعلقہ افسران سے وضاحت طلب کی گئی ہے کہ فہرست تیار کرنے اور اس کی جانچ کے دوران ان غلطیوں کی نشاندہی کیوں نہیں ہو سکی۔

اس انتخابی حلقے میں جھانسی کے ڈویژنل کمشنر الیکٹورل رجسٹریشن افسر (ERO) کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں، جبکہ متعلقہ اضلاع کے ضلع مجسٹریٹ اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن افسر (AERO) کے طور پر کام کرتے ہیں۔

اسی انتظامی نظام کے تحت چیف الیکشن افسر نے جھانسی کے ڈویژنل کمشنر اور متعلقہ تمام 10 ضلع مجسٹریٹوں سے وضاحت طلب کی ہے۔ ان سے یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ناموں میں غلطیاں کس مرحلے پر ہوئیں اور اصلاح کی سہولت موجود ہونے کے باوجود یہ غلط اندراجات حتمی ووٹر لسٹ میں کیسے رہ گئے۔

حکام سے جواب طلب کرنے کی کارروائی کو فی الحال کسی افسر کو قصوروار قرار دینے کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا۔ اس کا مقصد غلطیوں کی وجوہات معلوم کرنا اور یہ سمجھنا ہے کہ ووٹر لسٹ تیار کرنے یا اس کی جانچ کے عمل میں کہاں کمی رہ گئی۔

 ووٹنگ کے دوران ووٹروں کو پریشانی نہ ہو

چیف الیکشن افسر نے واضح کیا کہ ووٹر لسٹ میں نام کی غلطی کی وجہ سے کسی اہل ووٹر کو اپنا ووٹ ڈالنے میں پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ ضلع مجسٹریٹوں کو ضروری ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

نام کے ہجے یا چھپائی میں غلطی ہونے کی صورت میں ووٹر کو اپنی شناخت ثابت کرنے یا فہرست میں درج تفصیلات کی تصدیق کرانے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔ اسی لیے حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایسی شکایات پر توجہ دی جائے اور ووٹروں کی مدد کے لیے ضروری انتظامات کیے جائیں۔

یہ ہدایات اس لیے بھی اہم ہیں کہ معاملہ پولنگ شروع ہونے سے چند گھنٹے پہلے سامنے آیا۔ ایسی صورت حال میں انتظامیہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ ووٹر لسٹ میں موجود غلطیوں کی وجوہات معلوم کرنے کے ساتھ ساتھ پولنگ کے عمل کو بھی آسان اور منظم بنائے۔

جھانسی ڈویژنل کمشنر کے دفتر میں کنٹرول روم قائم

ووٹروں کی سہولت کے لیے جھانسی ڈویژنل کمشنر کے دفتر میں ایک کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد جھانسی-الہ آباد گریجویٹ قانون ساز کونسل کے انتخابی حلقے کی ووٹر لسٹ میں تحریری یا طباعتی غلطیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے ضابطگیوں سے متعلق شکایات وصول کرنا ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق، کنٹرول روم کا ٹیلی فون نمبر *0510-2443313* ہے۔ انتخابی حلقے سے متعلق کسی بھی مشکل کا سامنا کرنے والے ووٹر اس نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ وہ اپنی شکایت درج کرا سکتے ہیں اور ضروری معلومات یا رہنمائی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

کنٹرول روم کا مقصد ووٹر لسٹ میں نام یا دیگر تفصیلات کے غلط درج ہونے سے پیدا ہونے والی مشکلات کا حل فراہم کرنا اور پولنگ کے دوران ووٹروں کو ضروری مدد پہنچانا ہے۔

 آن لائن رجسٹریشن میں درست معلومات کیوں ضروری ہیں؟

آن لائن رجسٹریشن سے ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کا عمل آسان ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے درج کی جانے والی معلومات کا درست ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ انگریزی ناموں کو ہندی میں تبدیل کرتے وقت یہ فرق سمجھنا اہم ہے کہ کسی نام کو اس کے تلفظ کے مطابق لکھنا ہے یا اس کے معنی کا ترجمہ کرنا ہے۔

ذاتی ناموں کے معاملے میں یہ فرق خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ نام کسی شخص کی شناخت کے لیے استعمال ہوتا ہے، نہ کہ اس کے معنی تبدیل کرنے کے لیے۔ اگر سافٹ ویئر کسی نام کو عام الفاظ یا جملے کے طور پر سمجھ لے، تو اس کا مطلب مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔

اس معاملے نے آن لائن درخواستوں میں درست معلومات درج کرنے، ناموں کو دوسری زبان میں تبدیل کرنے والے سافٹ ویئر کی درست کارکردگی اور حتمی ووٹر لسٹ کی مکمل جانچ کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ چیف الیکشن افسر نے تکنیکی اور انسانی دونوں طرح کی غلطیوں کا ذکر کیا ہے، جبکہ متعلقہ افسران سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔

ابھی تک دستیاب معلومات سے یہ واضح ہے کہ 158 غیر معمولی اندراجات کی نشاندہی ہوئی اور حکام سے ان کے بارے میں جواب طلب کیا گیا ہے۔ تاہم، ان غلطیوں کی حتمی وجوہات یا اس کے بعد ہونے والی کسی کارروائی کے بارے میں مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

میٹا ہیڈلائن: ووٹر لسٹ میں 158 غلطیاں، الیکشن حکام نے وضاحت دی

میٹا ڈسکرپشن: جھانسی-الہ آباد گریجویٹ انتخابی حلقے کی ووٹر لسٹ میں 158 غیر معمولی اندراجات سامنے آئے۔ انگریزی ناموں کو ہندی میں غلط تبدیل کرنے کے معاملے میں افسران سے وضاحت طلب کی گئی۔

میٹا کی ورڈز: ووٹر لسٹ میں غلطیاں، جھانسی الہ آباد گریجویٹ انتخاب، الیکشن کمیشن، نویدیپ رنوا، Ramhit Yadav، انتخابی فہرست، آن لائن ووٹر رجسٹریشن، ووٹر لسٹ میں بے ضابطگی، قانون ساز کونسل انتخاب، جھانسی ڈویژنل کمشنر، کنٹرول روم

خبر کو مختصر اور غیر تکراری بنائیںلیڈ میں اصل خبر پہلے لائیں

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·