تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
کھڑگے کا مودی کو خط، آئینی بل زبردستی منظور نہ کرانے کا مطالبہ


نئی دہلی: کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے باضابطہ اختتام میں تاخیر پر اعتراض ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے حد بندی کی نئی تجاویز اور آئینی ترمیمی بلوں کے حوالے سے بھی حکومت سے اپنا موقف واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔ کھڑگے نے کہا کہ ان اہم معاملات پر آگے بڑھنے سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کی جانی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے وزیر اعظم سے کل جماعتی اجلاس بلانے کی اپیل کی ہے۔

کھڑگے کے مطابق، حد بندی جیسے حساس اور دور رس اثرات رکھنے والے معاملے پر پارلیمنٹ میں حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی رائے پیش کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ حد بندی کی تجاویز پر تفصیلی بحث ضروری ہے، کیونکہ ان کا اثر انتخابی حلقوں کی حدود اور سیاسی نمائندگی کے نظام پر پڑ سکتا ہے۔ کانگریس صدر نے حکومت کو متنبہ کیا کہ اس عمل میں اپوزیشن کے خدشات اور تجاویز کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

*حد بندی پر کل جماعتی اجلاس کا مطالبہ*

وزیر اعظم کو لکھے گئے خط میں کھڑگے نے حد بندی کی تجاویز پر بحث کے لیے کل جماعتی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پارلیمنٹ میں ان تجاویز کو حتمی شکل دینے سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورت ہونی چاہیے۔ کانگریس کا موقف ہے کہ حد بندی جیسے اہم آئینی اور سیاسی معاملے پر فیصلہ سازی کا عمل شفاف ہونا چاہیے اور تمام متعلقہ فریقوں کو اپنی رائے رکھنے کا موقع ملنا چاہیے۔

حد بندی کا تعلق انتخابی حلقوں کی حدود اور نمائندگی کے تعین سے ہوتا ہے۔ اسی لیے اس سے متعلق کسی بھی تبدیلی پر سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورت اہم سمجھی جاتی ہے۔ کھڑگے نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ جلد بازی میں فیصلہ کرنے کے بجائے تمام فریقوں کے خدشات پر غور کرے۔ ان کے خط کا بنیادی مقصد اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے بات چیت کا آغاز کرنا ہے۔

*آئینی ترمیمی بل زبردستی منظور نہ کرانے کی تنبیہ*

کھڑگے نے وزیر اعظم سے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت کسی بھی آئینی ترمیمی بل کو زبردستی منظور کرانے کی کوشش نہ کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ آئین میں تبدیلی سے متعلق تجاویز پر وسیع سیاسی بحث ہونی چاہیے اور مقررہ پارلیمانی طریقہ کار پر عمل کیا جانا چاہیے۔ کانگریس صدر کا یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خواتین کے ریزرویشن اور حد بندی سے متعلق تجاویز پر سیاسی بحث جاری ہے۔

آئینی ترمیمی بل منظور کرانے کے لیے عام اکثریت کافی نہیں ہوتی۔ آئین کے آرٹیکل 368 کے تحت ایسے بلوں کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مقررہ خصوصی اکثریت سے منظور کرانا ضروری ہوتا ہے۔ کھڑگے کی تشویش یہ ہے کہ حکومت کسی بھی اہم آئینی تبدیلی پر آگے بڑھنے سے پہلے اپوزیشن اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مناسب مشاورت کرے۔

گزشتہ انتخابات کے دوران بھی آئین میں ممکنہ تبدیلیوں کو لے کر سیاسی بحث ہوئی تھی۔ اپوزیشن نے الزام لگایا تھا کہ بی جے پی دو تہائی اکثریت حاصل کرکے آئین میں ترمیم کرنا چاہتی ہے۔ دوسری جانب، حکومت نے آئین اور اس کی دفعات کے حوالے سے اپنا موقف پیش کیا تھا۔ کھڑگے نے اپنے تازہ خط میں ایک بار پھر زور دیا ہے کہ آئینی تبدیلیوں سے متعلق فیصلے شفاف طریقہ کار اور وسیع مشاورت کے بعد ہی کیے جانے چاہییں۔

*مانسون اجلاس کے اختتام میں تاخیر پر سوال*

کھڑگے نے اپنے خط میں پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے باضابطہ اختتام میں تاخیر کا معاملہ بھی اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق، مانسون اجلاس 13 اگست کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیا گیا تھا اور خط لکھے جانے تک 64 دن گزر چکے تھے، لیکن پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا باضابطہ اختتام نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس تاخیر پر سوال اٹھاتے ہوئے وزیر اعظم کی توجہ اس جانب مبذول کرائی۔

پارلیمانی کارروائی میں اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنا اور اجلاس کا باضابطہ اختتام کرنا الگ الگ مراحل ہیں۔ کھڑگے نے اسی فرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس کے اختتام میں تاخیر کی وضاحت ضروری ہے۔ انہوں نے اس معاملے کو حکومت کے ممکنہ پارلیمانی منصوبوں کے تناظر میں بھی اٹھایا اور مطالبہ کیا کہ اہم قانون سازی سے متعلق فیصلے کرنے سے پہلے اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جائے۔

*جیرام رمیش نے بھی خط کا ذکر کیا*

کانگریس کے جنرل سکریٹری اور شعبۂ مواصلات کے انچارج جیرام رمیش نے بھی کھڑگے کے خط کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس صدر نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر مانسون اجلاس کے باضابطہ اختتام میں غیر معمولی تاخیر اور حکومت کے ممکنہ منصوبوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اس طرح کانگریس نے حد بندی اور آئینی ترمیم سے متعلق معاملات پر حکومت کے ساتھ باضابطہ بات چیت کا مطالبہ دہرایا ہے۔

کھڑگے کے خط کے بعد حد بندی کی تجاویز، آئینی ترمیمی بلوں اور پارلیمانی طریقہ کار پر سیاسی بحث مزید تیز ہو سکتی ہے۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ مرکزی حکومت کل جماعتی اجلاس بلانے کے مطالبے پر کیا موقف اختیار کرتی ہے اور ان تجاویز پر اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے۔ فی الحال خط میں اٹھائے گئے سوالات اور مطالبات کانگریس صدر کا موقف ہیں۔ حکومت کا ردعمل سامنے آنے کے بعد اس معاملے میں آئندہ پیش رفت واضح ہو سکے گی۔

*میٹا ہیڈلائن:* کھڑگے کا مودی کو خط، حد بندی پر کل جماعتی اجلاس کا مطالبہ

*میٹا ڈسکرپشن:* ملکارجن کھڑگے نے مانسون اجلاس کے باضابطہ اختتام میں تاخیر پر سوال اٹھائے اور حد بندی و آئینی ترمیمی بلوں پر کل جماعتی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔

*میٹا کی ورڈز:* ملکارجن کھڑگے، نریندر مودی، کھڑگے کا خط، کانگریس، حد بندی بل، کل جماعتی اجلاس، آئینی ترمیم، مانسون اجلاس، پارلیمنٹ، جیرام رمیش، اپوزیشن، بھارتی سیاست

غیرمنسوب دعووں کو محتاط بنائیںخبر کو مختصر اور تیز کریں

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·