تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
جنتر منتر احتجاج معاملہ: سورَو داس اور آشو توش رانکا پانچ دن کی عدالتی تحویل میں


 جنتر منتر معاملے میں سورَو داس اور آشو توش رانکا عدالتی تحویل میں بھیجے گئے

نئی دہلی: دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج سے متعلق معاملے میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے کارکن سورَو داس اور آشو توش رانکا کو پانچ دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔ دہلی پولیس نے دونوں کو جنتر منتر پر بغیر اجازت داخل ہونے اور احتجاج کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ بدھ کو عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد انہیں پانچ دن کے لیے عدالتی تحویل میں بھیجنے کا حکم دیا گیا۔

اس معاملے میں سی جے پی کے ایک اور کارکن اجنکیا شندے کو رہا کر دیا گیا ہے۔ اس کارروائی کے بعد جنتر منتر پر احتجاج کے ضوابط اور اجازت سے متعلق معاملہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

 منگل کی صبح پولیس نے حراست میں لیا تھا

دستیاب معلومات کے مطابق، دہلی پولیس نے منگل کی صبح سورَو داس اور آشو توش رانکا کو اس وقت حراست میں لیا جب وہ احتجاج کے لیے جنتر منتر پہنچے تھے۔ الزام ہے کہ دونوں نے احتجاج کے لیے ضروری اجازت حاصل کیے بغیر وہاں داخل ہونے کی کوشش کی۔

جنتر منتر دہلی میں احتجاج کے اہم مقامات میں شمار ہوتا ہے، جہاں مختلف سماجی، سیاسی اور عوامی مسائل پر مظاہرے کیے جاتے ہیں۔ تاہم، یہاں احتجاج کرنے کے لیے متعلقہ حکام کی اجازت اور انتظامی ضوابط کی پابندی ضروری ہوتی ہے۔

پولیس نے اسی معاملے میں کارروائی کرتے ہوئے دونوں کارکنوں کو پہلے حراست میں لیا اور بعد میں گرفتار کر لیا۔

 عدالت میں پیشی کے بعد پانچ دن کی عدالتی تحویل

گرفتاری کے بعد دونوں کارکنوں کو بدھ کے روز عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالتی کارروائی کے بعد انہیں پانچ دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔

عدالتی تحویل کا مطلب یہ ہے کہ ملزم کو عدالت کے حکم کے تحت جیل میں رکھا جاتا ہے اور معاملے کی قانونی کارروائی آگے بڑھتی رہتی ہے۔ یہ پولیس تحویل سے مختلف ہوتی ہے۔

تاہم، دستیاب معلومات میں عدالت کے تفصیلی حکم، دونوں فریقوں کے مکمل دلائل اور اگلی سماعت کی تاریخ کے بارے میں تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ اس لیے معاملے کے مزید پہلوؤں کی تصدیق سرکاری معلومات کی بنیاد پر کی جانی ضروری ہے۔

سی جے پی کی قانونی امور کی سربراہ نے دی تھی اطلاع

سی جے پی کی قانونی امور کی سربراہ رتنا سنگھ نے سوشل میڈیا پر اطلاع دی تھی کہ سورَو داس اور آشو توش رانکا کو بدھ کی صبح عدالت میں پیش کیا جانا تھا۔

بعد ازاں عدالت میں پیشی کے بعد دونوں کو پانچ دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔ دوسری جانب، اجنکیا شندے کو رہا کر دیا گیا ہے۔ تاہم، دستیاب معلومات میں ان کی رہائی کی شرائط یا اس کی تفصیلی وجوہات کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ جنتر منتر پر احتجاج کے ضوابط کیا ہیں؟

جنتر منتر قومی راجدھانی دہلی میں احتجاج کے لیے ایک معروف مقام ہے۔ یہاں مختلف تنظیمیں اور شہری اپنے مطالبات اور عوامی مسائل کے سلسلے میں مظاہرے کرتے رہے ہیں۔ تاہم، ایسے مظاہروں کے لیے متعلقہ حکام کی اجازت اور مقررہ ضوابط پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

موجودہ معاملہ بھی بغیر اجازت احتجاجی مقام میں داخل ہونے کے الزامات سے متعلق ہے۔ دہلی پولیس نے سورَو داس اور آشو توش رانکا کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا، جس کے بعد عدالت نے دونوں کو پانچ دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔

فی الحال، اس معاملے میں مزید قانونی کارروائی اور سرکاری بیانات کا انتظار ہے۔ آئندہ عدالتی کارروائی سے معاملے کے دیگر پہلوؤں کے بارے میں مزید معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔

نوٹ: یہ خبر دستیاب معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ متعلقہ افراد کے خلاف الزامات کو قانونی 

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·