تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
2000 روپے سے زیادہ UPI ادائیگی پر MDR، سپریم کورٹ کا روک سے انکار


2000 روپے سے زیادہ کی مخصوص UPI مرچنٹ ادائیگیوں پر عائد کیے جانے والے Merchant Discount Rate یعنی MDR کے معاملے میں سپریم کورٹ نے فی الحال نئی فیس کے نظام پر روک لگانے سے انکار کردیا ہے۔ یہ نیا نظام 15 اکتوبر 2026 سے نافذ ہونے کی تجویز ہے۔ سپریم کورٹ نے اس نظام کو چیلنج کرنے والی درخواست پر مرکزی حکومت، ریزرو بینک آف انڈیا اور NPCI کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے۔ 

یہ معاملہ Person-to-Merchant یعنی P2M UPI لین دین سے متعلق ہے، جس میں ادائیگی کی رقم 2000 روپے سے زیادہ ہو۔ نئے نظام کے تحت اہل مرچنٹ لین دین پر 0.4 فیصد MDR لاگو ہوگا۔ یہ رقم حکومت یا NPCI کی جانب سے وصول کیا جانے والا ٹیکس نہیں ہے بلکہ ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام میں شامل اداروں کے درمیان تقسیم ہونے والی فیس ہے۔ 

سپریم کورٹ نے کیا کہا؟

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے نئے MDR نظام پر عبوری روک لگانے سے انکار کردیا۔ عدالت نے مرکز، RBI اور NPCI سے معاملے پر جواب طلب کیا ہے۔

متعلقہ فریقوں کو 4 ہفتوں کے اندر اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس کے بعد عدالت درخواست میں اٹھائے گئے قانونی اور تکنیکی نکات پر مزید سماعت کرے گی۔

کن UPI ادائیگیوں پر MDR لگے گا؟

نیا نظام تمام UPI لین دین پر لاگو نہیں ہوگا۔ Person-to-Person یعنی P2P ادائیگیاں پہلے کی طرح مفت رہیں گی، چاہے رقم کتنی بھی ہو۔

مرچنٹ کو 2000 روپے تک کی ادائیگیوں پر بھی MDR نہیں لگے گا۔ اس کے علاوہ چھوٹے کاروباریوں کے لیے موجودہ صفر-MDR نظام کے تحت آنے والی ادائیگیاں بھی اس فیس سے باہر رہیں گی۔ حکومت کے مطابق تقریباً 96 فیصد P2M UPI لین دین اس تبدیلی سے متاثر نہیں ہوں گے۔ 

2000 روپے سے زیادہ کی اہل مرچنٹ ادائیگیوں پر عام MDR کی شرح 0.4 فیصد ہوگی۔ 75000 روپے یا اس سے زیادہ کے لین دین پر زیادہ سے زیادہ MDR 300 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ کچھ ضروری خدمات اور مخصوص شعبوں کے لیے الگ شرحیں بھی مقرر کی گئی ہیں۔ 

کیا صارف سے براہ راست اضافی رقم لی جائے گی؟

MDR بنیادی طور پر مرچنٹ کی جانب سے ادائیگی کے نظام کے لیے دیا جانے والا چارج ہے۔ حکومت نے بینکوں کو ہدایت دی ہے کہ نئے چارج کو براہ راست صارف پر منتقل نہ کیا جائے۔

مثال کے طور پر اگر کوئی اہل مرچنٹ UPI کے ذریعے 10000 روپے وصول کرتا ہے تو 0.4 فیصد کے حساب سے MDR 40 روپے بنتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ صارف سے خودکار طور پر 40 روپے اضافی وصول کیے جائیں گے۔ 

چھوٹے کاروباریوں کے لیے رعایت

نئے نظام میں چھوٹے کاروباریوں کے لیے بھی رعایت رکھی گئی ہے۔ حکومت کے مطابق مخصوص زمرے میں UPI QR کے ذریعے ہر ماہ 1 لاکھ روپے تک وصول کرنے والے چھوٹے کاروباری صفر-MDR نظام کے تحت فیس سے باہر رہیں گے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس نظام کا مقصد عام صارفین اور چھوٹے کاروباریوں کو اضافی مالی بوجھ سے بچانے کے ساتھ UPI کے پورے ادائیگی نظام کو طویل مدت تک چلانے کے لیے ضروری مالی ڈھانچہ فراہم کرنا ہے۔ 

معاملہ سپریم کورٹ کیوں پہنچا؟

2000 روپے سے زیادہ کی مخصوص UPI مرچنٹ ادائیگیوں پر MDR عائد کرنے کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن اور نئے MDR نظام کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ 

درخواست میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ کئی برسوں سے بغیر MDR کے چل رہے UPI نظام میں فیس متعارف کرانے کے لیے قانونی اور انتظامی طریقہ کار کیا اختیار کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے ابھی ان نکات پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا ہے اور متعلقہ فریقوں سے جواب طلب کیا ہے۔

اب آگے کیا ہوگا؟

مرکز، RBI اور NPCI کو 4 ہفتوں کے اندر اپنا جواب داخل کرنا ہوگا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ درخواست میں اٹھائے گئے قانونی اور تکنیکی سوالات پر مزید سماعت کرے گی۔

فی الحال MDR نظام پر کوئی عبوری روک نہیں ہے۔ اس لیے اگر عدالت کی جانب سے بعد میں کوئی مختلف حکم جاری نہیں ہوتا تو 15 اکتوبر 2026 سے 2000 روپے سے زیادہ کی اہل P2M UPI ادائیگیوں پر نیا MDR نظام نافذ ہونے کی صورت میں لاگو ہوگا۔ دوسری جانب P2P ادائیگیاں، 2000 روپے تک کی مرچنٹ ادائیگیاں اور صفر-MDR نظام کے تحت آنے والی اہل چھوٹے کاروباریوں کی ادائیگیاں مفت رہیں گی۔ 
 

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·