روس کے سائبیریائی علاقے ارکوتسک میں نیومونک طاعون کے ایک مشتبہ معاملے کے بعد تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ 28 سالہ خاتون لیبارٹری ٹیکنیشن داریا شپیلوا کی موت ہوگئی ہے۔ یہ معاملہ شیلخوف میں قائم اینٹی پلیگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے متعلق بتایا جارہا ہے۔
خاتون کی موت کے بعد صحت حکام نے احتیاطی اقدامات شروع کردیئے ہیں۔ داریا شپیلوا کے رابطے میں آنے والے 200 سے زیادہ افراد کی شناخت کی گئی ہے اور انہیں طبی نگرانی اور قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ حکام ان تمام افراد میں ممکنہ علامات ظاہر ہونے کی نگرانی کررہے ہیں۔
ابتدائی معلومات کے مطابق داریا شپیلوا کو 29 ستمبر کو شدید نمونیا جیسی علامات کے ساتھ شیلخوف کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ ان کی حالت بگڑنے کے بعد انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا، لیکن علاج کے دوران 1 اکتوبر کو ان کی موت ہوگئی۔
اس معاملے میں ایک لیبارٹری حادثے کو ممکنہ وجہ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ٹیسٹنگ کے دوران ایک ٹیسٹ ٹیوب ٹوٹ گئی تھی۔ اس ٹیوب میں زندہ بیکٹیریا موجود ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ حکام اس بات کی جانچ کررہے ہیں کہ آیا اس حادثے کے دوران خاتون کسی خطرناک بیکٹیریا کے رابطے میں آئی تھیں اور کیا اسی وجہ سے ان میں نیومونک طاعون کا انفیکشن پیدا ہوا۔
تاہم، ابھی تک خاتون کی موت کی وجہ اور نیومونک طاعون کے انفیکشن کی حتمی تصدیق کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ اس لیے اس معاملے کو فی الحال مشتبہ کیس کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
خاتون کے رابطے میں آنے والے 200 سے زیادہ افراد کو طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ان افراد میں فی الحال بیماری کی واضح علامات سامنے نہیں آئی ہیں اور دستیاب لیبارٹری ٹیسٹ کے نتائج بھی منفی بتائے گئے ہیں۔
ممکنہ انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ارکوتسک علاقے میں کئی احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں۔ بعض عوامی پروگرام منسوخ کیے گئے ہیں جبکہ صحت مراکز میں انفیکشن سے بچاؤ کے لیے اضافی اقدامات کیے جارہے ہیں۔
ارکوتسک کے گورنر ایگور کوبزیف نے بتایا کہ علاقے میں ایک انتہائی خطرناک انفیکشن کا مشتبہ معاملہ سامنے آیا ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ گھبرانے کے بجائے احتیاط کریں اور صحت حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔
صحت اور صارفین کے تحفظ سے متعلق حکام نے بھی صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ حکام کی توجہ اس بات پر ہے کہ خاتون کے قریبی رابطے میں آنے والے تمام افراد کی شناخت کی جائے اور اگر کسی میں بیماری کی علامات ظاہر ہوں تو اسے فوری طور پر طبی امداد فراہم کی جائے۔
پڑوسی علاقے بوریاتیا کے گورنر الیکسی تسیدنوف نے بھی خاتون کی موت کو ممکنہ طاعون سے جوڑا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کے علاقے میں طاعون کی کوئی وبا نہیں ہے۔
نیومونک طاعون کیا ہے؟
نیومونک طاعون طاعون کی ایک ایسی قسم ہے جو پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ ایک سنگین اور جان لیوا بیماری ہوسکتی ہے۔ بعض حالات میں یہ متاثرہ شخص کے کھانسنے یا چھینکنے سے خارج ہونے والے ذرات کے ذریعے ایک شخص سے دوسرے شخص تک منتقل ہوسکتی ہے۔
اس بیماری کی ممکنہ علامات میں تیز بخار، کمزوری، کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور نمونیا جیسی علامات شامل ہوسکتی ہیں۔ اگر بیماری کی بروقت شناخت ہوجائے اور مناسب اینٹی بایوٹک علاج شروع کردیا جائے تو اس کا علاج ممکن ہے۔ لیکن علاج میں تاخیر کی صورت میں یہ بیماری شدید اور جان لیوا ہوسکتی ہے۔
موجودہ معاملے میں حکام کی توجہ ممکنہ انفیکشن کے ذریعہ کا پتہ لگانے، رابطے میں آنے والے افراد کی نگرانی کرنے اور کسی بھی نئے مشتبہ کیس کی فوری شناخت پر ہے۔
فی الحال علاقے میں بڑے پیمانے پر طاعون کی وبا پھیلنے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ 200 سے زیادہ افراد کو قرنطینہ میں رکھنے کا مقصد احتیاطی طور پر ممکنہ انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنا اور کسی بھی نئے کیس کی بروقت نشاندہی کرنا ہے۔
امریکا بھی معاملے پر نظر رکھ رہا ہے
روس کے ارکوتسک علاقے میں سامنے آنے والے اس مشتبہ معاملے پر امریکی حکام بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق متعلقہ صحت اداروں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا جارہا ہے اور روس سے معاملے کے بارے میں درست اور تازہ معلومات فراہم کرنے کی توقع کی جارہی ہے۔
صحت ماہرین کے مطابق نیومونک طاعون جیسے سنگین انفیکشن میں بروقت تشخیص انتہائی اہم ہوتی ہے۔ اگر کسی شخص میں ممکنہ علامات ظاہر ہوں اور وہ کسی مشتبہ مریض کے رابطے میں رہا ہو تو فوری طبی جانچ اور علاج ضروری ہوجاتا ہے۔
فی الحال روسی حکام ان تمام افراد کی نگرانی کررہے ہیں جو خاتون کے ممکنہ رابطے میں آئے تھے۔ تحقیقات کے مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ خاتون کی موت واقعی نیومونک طاعون کی وجہ سے ہوئی یا کسی دوسرے سنگین انفیکشن کے نتیجے میں۔ حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ لیبارٹری کے اندر کسی دوسرے شخص کے متاثر ہونے کا امکان تو نہیں ہے۔
میٹا ہیڈ لائن: روس میں مشتبہ نیومونک طاعون سے خاتون کی موت
میٹا ڈسکرپشن: روس کے ارکوتسک میں 28 سالہ لیبارٹری ٹیکنیشن کی مشتبہ نیومونک طاعون کے بعد موت ہوگئی، 200 سے زیادہ افراد کو قرنطینہ اور طبی نگرانی میں رکھا گیا۔
میٹا کی ورڈز: روس طاعون، نیومونک طاعون، ارکوتسک طاعون، روس لیبارٹری حادثہ، طاعون انفیکشن، لیبارٹری ٹیکنیشن، طاعون قرنطینہ، نیومونک طاعون کی علامات






.jpg)
.jpg)







.webp)
