تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
جے ایم آئی تشدد معاملہ، رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آر کی درخواستیں خارج


دہلی ہائی کورٹ نے 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات اور 2019 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہونے والے تشدد سے متعلق کئی درخواستوں کو خارج کردیا ہے۔ ان درخواستوں میں مختلف سیاسی رہنماؤں کے خلاف مبینہ اشتعال انگیز تقاریر کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کرنے اور معاملے کی آزادانہ تحقیقات کرانے کی مانگ کی گئی تھی۔

درخواستوں میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، سابق مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی کی مانگ کی گئی تھی۔ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنماؤں کی جانب سے دیے گئے مبینہ بیانات کی تحقیقات ہونی چاہیے اور اگر تحقیقات میں کسی قسم کی مجرمانہ ذمہ داری سامنے آتی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔

شیخ مجتبیٰ کی جانب سے دائر ایک درخواست میں بی جے پی رہنماؤں کپل مشرا، انوراگ ٹھاکر، پرویش ورما اور ابھے ورما کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی مانگ کی گئی تھی۔ درخواست میں ان رہنماؤں سے منسوب مبینہ بیانات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

ایک دوسری درخواست میں سونیا گاندھی، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے رہنما منیش سسودیا سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی مانگ کی گئی تھی۔ درخواست گزاروں نے 2020 کے دہلی فسادات اور 2019 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہونے والے تشدد کی آزادانہ تحقیقات کرانے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

درخواستوں میں پولیس کے کردار پر بھی سوال اٹھائے گئے تھے۔ بعض درخواستوں میں کہا گیا تھا کہ فسادات کے دوران پولیس اہلکاروں کے کردار کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے اور اگر کسی اہلکار کو قصوروار پایا جائے تو اس کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔

عدالت نے تاہم ان مطالبات کو قبول نہیں کیا۔ جسٹس وویک چودھری اور جسٹس منوج جین کی بینچ نے اس معاملے سے متعلق مختلف درخواستوں کو خارج کردیا۔ عدالت نے آزاد ایس آئی ٹی یا کسی دوسری آزاد ایجنسی سے تحقیقات کرانے کی درخواست کو بھی منظور نہیں کیا۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں 2019 میں ہونے والے تشدد کے حوالے سے بھی عدالت کے سامنے آزاد ایجنسی یا ایس آئی ٹی کے ذریعے تحقیقات کرانے کی درخواست پیش کی گئی تھی۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت دینے کی مانگ کی تھی، تاہم عدالت نے اس درخواست کو بھی مسترد کردیا۔

یہ معاملہ دہلی میں پیش آنے والے دو اہم واقعات سے متعلق ہے۔ ایک طرف 2019 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے آس پاس ہونے والا تشدد اور دوسری طرف 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات۔ دونوں واقعات کے بعد پولیس کارروائی، تشدد کے حالات اور سیاسی رہنماؤں کے مبینہ بیانات کے حوالے سے کئی قانونی درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ اگر کسی عوامی بیان کے ذریعے فوجداری قانون کی خلاف ورزی کا شبہ ہو تو اس کی باقاعدہ تحقیقات ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے بعد اگر کسی شخص کی قانونی ذمہ داری ثابت ہوتی ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔

درخواستوں میں پولیس کی موجودہ تحقیقات کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھائے گئے تھے۔ درخواست گزاروں نے مطالبہ کیا تھا کہ معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کے لیے ایک آزاد ایس آئی ٹی تشکیل دی جائے، تاکہ سیاسی رہنماؤں اور پولیس اہلکاروں سے متعلق الزامات کا جائزہ لیا جاسکے۔

دہلی ہائی کورٹ نے تاہم ان درخواستوں کو خارج کردیا اور ان درخواستوں کی بنیاد پر نامزد سیاسی رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم نہیں دیا۔ عدالت نے آزاد ایس آئی ٹی تحقیقات کرانے کی درخواست کو بھی منظور نہیں کیا۔

2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے بعد تشدد سے متعلق کئی فوجداری مقدمات درج کیے گئے تھے اور مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کی گئی تھیں۔ اسی طرح 2019 میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران جامعہ ملیہ اسلامیہ کے آس پاس ہونے والا تشدد بھی طویل عرصے تک قانونی معاملہ اور عوامی بحث کا موضوع رہا۔

ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ان درخواستوں کے ذریعے سیاسی رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور آزاد ایس آئی ٹی تحقیقات کرانے کی جو مانگ کی گئی تھی، اسے عدالت نے قبول نہیں کیا ہے۔ تاہم، اگر دیگر معاملات میں پہلے سے کوئی تحقیقات یا عدالتی کارروائی جاری ہے تو وہ ان درخواستوں کے نتیجے سے الگ رہیں گی۔

میٹا ہیڈ لائن: دہلی ہائی کورٹ نے رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آر کی درخواستیں خارج کردیں

میٹا ڈسکرپشن: دہلی ہائی کورٹ نے 2020 دہلی فسادات اور 2019 جامعہ تشدد سے متعلق راہل گاندھی، انوراگ ٹھاکر سمیت کئی رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آر اور آزاد ایس آئی ٹی تحقیقات کی درخواستیں خارج کردیں۔

میٹا کی ورڈز: دہلی ہائی کورٹ، جامعہ تشدد، دہلی فسادات، راہل گاندھی، انوراگ ٹھاکر، ایف آئی آر درخواست، جامعہ ملیہ اسلامیہ، ایس آئی ٹی تحقیقات، شمال مشرقی دہلی فسادات، اشتعال انگیز تقریر

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·