راہل گاندھی نے دہلی میں سخت حفاظتی انتظامات کو لے کر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کردار پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ انڈیا اتحاد کے رہنما انتخابی شفافیت سے متعلق خدشات پر سپریم کورٹ میں عرضی دائر کریں گے۔
تفصیلی خبر
کانگریس رہنما راہل گاندھی نے دہلی میں حفاظتی انتظامات پر مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ دارالحکومت کو جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق پولیس کی بڑی تعداد میں تعیناتی اور مظاہرین و نوجوانوں کے ساتھ مبینہ سلوک کئی اہم سوالات کھڑے کرتا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت اختلافی آوازوں سے نمٹنے کے لیے جو طریقہ اپنا رہی ہے، اس پر عوام کے سامنے وضاحت ہونی چاہیے۔
راہل گاندھی نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت بہت بڑی غلطی کر رہی ہے۔ پولیس کی تعیناتی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر سڑکوں پر 20,000 سے 30,000 پولیس اہلکار بھی تعینات کیے جاتے ہیں تو اس سے صورت حال عوام کے سامنے مزید واضح ہوگی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی حفاظت یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی کا دعویٰ تھا کہ گیانیش کمار کو جتنی زیادہ سیکیورٹی فراہم کی جائے گی، اپوزیشن اتنی ہی مضبوطی سے ان کے پیچھے موجود لوگوں اور نظام پر سوال اٹھائے گی۔
راہل گاندھی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہیں ایسی اطلاعات مل رہی ہیں کہ بعض پولیس اہلکار اس بات سے پریشان ہیں کہ انہیں نوجوانوں پر طاقت استعمال کرنے کی ہدایات دی جا رہی ہیں، جبکہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ارکان کو مبینہ طور پر کھلی چھوٹ دینے کی ہدایات دی جا رہی ہیں۔ یہ راہل گاندھی کے الزامات ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق اس بیان میں موجود نہیں ہے۔
چیف الیکشن کمشنر کے استعفے پر سوال
راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے عہدے پر برقرار رہنے کے معاملے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن مسلسل انتخابی عمل کی شفافیت اور مبینہ ووٹ چوری کے معاملے کو اٹھا رہی ہے۔ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ یہ سوال صرف اپوزیشن جماعتیں نہیں اٹھا رہی ہیں بلکہ دو الیکشن کمشنروں کی جانب سے بھی ایسے سوالات سامنے آئے تھے۔ انہوں نے گیانیش کمار سے سوال کیا کہ وہ استعفیٰ کیوں نہیں دے رہے ہیں۔
اپنے بیان میں راہل گاندھی نے گیانیش کمار پر بدعنوانی سے متعلق الزامات بھی لگائے اور کہا کہ اپوزیشن ان کے ماضی اور کام کاج کے بارے میں سوالات اٹھاتی رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ انڈیا اتحاد اس معاملے سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ان کے بیان میں الیکشن کمیشن کے کردار، انتخابات کی شفافیت اور جمہوری اداروں کی جواب دہی کو بنیادی اہمیت حاصل رہی۔
سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرنے کی تیاری
راہل گاندھی نے کہا کہ انہوں نے کانگریس صدر کے ساتھ مل کر چیف جسٹس آف انڈیا کو خط لکھا تھا۔ اس خط میں بھارتی جمہوریت اور انتخابات کی شفافیت سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔ راہل گاندھی کے مطابق چیف جسٹس کی جانب سے جواب ملا اور عرضی دائر کرنے کی ہدایت دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ انڈیا اتحاد کے رہنما ان کے ساتھ سپریم کورٹ جائیں گے اور اس معاملے میں عرضی دائر کریں گے۔ ان کے مطابق اپوزیشن انتخابی نظام سے متعلق اپنے سوالات عدالت کے سامنے رکھنا چاہتی ہے تاکہ اس معاملے میں جواب دہی یقینی بنائی جا سکے۔ تاہم، عرضی کے اصل مندرجات، اس کے دائر ہونے اور عدالت میں آئندہ کارروائی کی تصدیق سرکاری معلومات سے ہی کی جا سکتی ہے۔
پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کے بارے میں دعویٰ
راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ انہیں پولیس اہلکاروں کی جانب سے حمایت ملنے کی بات کہی گئی ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 50 فیصد پولیس اہلکار اپوزیشن سے کہہ رہے ہیں کہ وہ جو کچھ کر رہی ہے، وہ درست ہے اور اسے جاری رکھنا چاہیے۔ انہوں نے پولیس، انڈو تبتن بارڈر پولیس، سینٹرل ریزرو پولیس فورس اور عوام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں ملک کے بہت سے لوگ انتخابی شفافیت کے بارے میں اپوزیشن کے خدشات کو سمجھتے ہیں۔
راہل گاندھی نے دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن کے بعض ارکان پر سنگین الزامات عائد کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ لوگ مبینہ ووٹ چوری اور ملک کے جمہوری نظام کو متاثر کرنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ الزامات راہل گاندھی کے سیاسی بیان کا حصہ ہیں اور آزادانہ ثبوت کے بغیر انہیں ثابت شدہ حقائق نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
انتخابی شفافیت پر سیاسی کشیدگی
راہل گاندھی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتخابات کی شفافیت اور مبینہ ووٹ چوری کا معاملہ اپوزیشن کی سیاست میں اہمیت رکھتا ہے۔ انڈیا اتحاد ان خدشات کو سپریم کورٹ کے سامنے رکھنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اسی دوران راہل گاندھی نے دہلی میں حفاظتی انتظامات اور چیف الیکشن کمشنر کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
اس معاملے میں آئندہ صورت حال کا انحصار مجوزہ عرضی کے دائر ہونے، اس کے مندرجات، متعلقہ فریقوں کے جواب اور عدالت میں ہونے والی کارروائی پر ہوگا۔ فی الحال راہل گاندھی نے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن پر اپنے الزامات دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن انتخابی شفافیت اور جمہوری اداروں کی جواب دہی کے معاملے کو اٹھاتی رہے گی۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
