تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
ویشالی کشتی حادثہ، چراغ پاسوان سے لپٹ کر روئے متاثرہ خاندان


بہار کے ویشالی ضلع کے راغھوپور میں دریائے گنگا میں کشتی پلٹنے کے حادثے نے کئی خاندانوں کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ اس حادثے میں بچوں کی موت کے بعد متاثرہ گھروں میں ماتم کا ماحول ہے۔ بدھ کے روز مرکزی وزیر چراغ پاسوان متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کے لیے پہنچے۔ اس موقع پر اپنے بچوں کو کھونے والے اہل خانہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور اپنا درد بیان کرتے ہوئے چراغ پاسوان سے لپٹ کر رونے لگے۔

متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کے دوران چراغ پاسوان نے ان کی بات سنی اور انہیں یقین دلایا کہ حادثے کے معاملے میں ذمہ داری طے کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کے حالات اور اس کی وجوہات کا پتہ لگانا ضروری ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلانے اور تحقیقات کی بنیاد پر مناسب کارروائی کو یقینی بنانے کی بات بھی کہی گئی۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے گاؤں میں کشتی کی دستیابی کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔ ان کے مطابق، انہیں بتایا گیا ہے کہ حادثے کے دن استعمال ہونے والی کشتی خراب ہو گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں کی جانب سے درخواست کیے جانے کے باوجود انتظامیہ نے نئی کشتی فراہم نہیں کی۔ اگر یہ معلومات درست ثابت ہوتی ہیں تو اس سے مقامی انتظامی انتظامات اور لوگوں کی حفاظت سے متعلق اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ تاہم، ان دعوؤں کی تصدیق سرکاری تحقیقات کے ذریعے ہونا ضروری ہے۔

اس حادثے نے دریائی علاقوں میں محفوظ آمدورفت کی سہولتوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔ ایسے دیہات جہاں لوگ روزمرہ کے کاموں اور ضروری سفر کے لیے کشتیوں پر انحصار کرتے ہیں، وہاں کشتیوں کی حالت، متبادل انتظامات اور حفاظتی اقدامات انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ حادثے کے بعد یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا وقت رہتے محفوظ کشتی فراہم کی جا سکتی تھی اور کیا مسافروں کی حفاظت کے لیے ضروری انتظامات موجود تھے۔

چراغ پاسوان نے جاں بحق بچوں کے اہل خانہ سے ملاقات کے علاوہ زخمی بچوں کی عیادت کے لیے نالندہ میڈیکل کالج اور اسپتال کا بھی دورہ کیا۔ دستیاب معلومات کے مطابق، حادثے میں زخمی ہونے والے تین بچے یہاں زیر علاج ہیں۔ مرکزی وزیر نے اسپتال میں بچوں کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور اس بات پر زور دیا کہ انہیں بہترین ممکنہ طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ زیر علاج بچوں کے علاج اور دیکھ بھال میں کسی قسم کی کمی نہ ہو۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بچے جلد صحت یاب ہو کر بحفاظت اپنے گھروں کو واپس لوٹیں گے۔ حادثے میں اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کے لیے یہ وقت انتہائی مشکل ہے، اس لیے زخمیوں کے علاج کے ساتھ متاثرہ خاندانوں کی مدد بھی اہم ہے۔

ویشالی کشتی حادثے کے بعد اب حادثے کی وجوہات، کشتی کی دستیابی اور حفاظتی انتظامات سے متعلق سوالات کے جواب سامنے آنا ضروری ہیں۔ چراغ پاسوان نے ذمہ داری طے کرنے اور کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اب تحقیقات کے نتائج سے واضح ہوگا کہ حادثے کے حالات کیا تھے اور انتظامی سطح پر کسی کی کوتاہی سامنے آتی ہے یا نہیں۔

*میٹا ہیڈلائن: ویشالی کشتی حادثہ، چراغ پاسوان کی متاثرہ خاندانوں سے ملاقات

*میٹا ڈسکرپشن:* ویشالی کے راغھوپور میں دریائے گنگا میں کشتی پلٹنے سے بچوں کی موت کے بعد چراغ پاسوان متاثرہ خاندانوں سے ملے۔ اہل خانہ جذباتی ہو کر رو پڑے، جبکہ مرکزی وزیر نے کارروائی کی یقین دہانی کرائی اور زخمی بچوں کی عیادت کی۔

میٹا کی ورڈز: ویشالی کشتی حادثہ، چراغ پاسوان، راغھوپور حادثہ، دریائے گنگا، بہار نیوز، متاثرہ خاندان، جاں بحق بچے، زخمی بچے، نالندہ میڈیکل کالج اسپتال، کشتی کی حفاظت، انتظامی کارروائیA

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·