تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
اُجین شاہی مسجد پر ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ


اُجین میں سنگھستھ 2028 کی تیاریوں کے درمیان شاہی مسجد کے ایک حصے کو ہٹانے کا معاملہ قانونی طور پر اہم مرحلے میں پہنچ گیا ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بینچ نے شاہی مسجد کی انتظامیہ سے متعلق دو درخواستیں خارج کر دی ہیں۔ ان درخواستوں میں اُجین میونسپل کارپوریشن کی جانب سے سڑک کو چوڑا کرنے کے لیے مسجد کے کچھ حصے کو ہٹانے کی کارروائی پر روک لگانے کی درخواست کی گئی تھی۔ 

یہ معاملہ کنٹھال سے بڑے گوپال مندر جانے والی سڑک کو چوڑا کرنے سے متعلق ہے۔ سنگھستھ 2028 کے دوران بڑی تعداد میں زائرین کے اُجین پہنچنے کی توقع ہے۔ اسی وجہ سے شہر میں سڑکوں، ٹریفک اور بنیادی سہولتوں کو بہتر بنانے کے لیے مختلف ترقیاتی کام کیے جا رہے ہیں۔

درخواست گزاروں کی جانب سے عدالت میں کہا گیا کہ مسجد وقف جائیداد کے طور پر درج ہے اور مجوزہ کارروائی سے مسجد کے کچھ مذہبی حصے متاثر ہوں گے۔ درخواست میں نماز گاہ، مینار اور مسجد کے سامنے کے حصے کو ہٹانے کی کارروائی پر اعتراض کیا گیا تھا۔ درخواست گزاروں نے اس کارروائی کو اپنے آئینی حقوق سے بھی جوڑا تھا۔ 

9 ستمبر 2026 کے عدالتی حکم کے مطابق، میونسپل کارپوریشن نے سڑک کو 15 میٹر تک چوڑا کرنے کے مقصد سے مسجد کے ایک حصے کو ہٹانے کا نوٹس جاری کیا تھا۔ عدالت نے دونوں فریقوں کی دلیلوں پر غور کیا اور کہا کہ کارروائی کے دوران متعلقہ قانونی طریقہ کار پر عمل کیا گیا اور درخواست گزاروں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات پر بھی غور کیا گیا۔

عدالت نے سنگھستھ 2028 کی تیاریوں، ٹریفک کے انتظام اور عوامی حفاظت سے متعلق پہلوؤں کو بھی اپنے حکم میں شامل کیا۔ حکم میں یہ بھی بتایا گیا کہ متعلقہ مقام مہاکالیشور مندر کے سامنے اور کشیپرا ندی کے قریب واقع ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے عدالت نے میونسپل کارپوریشن کی کارروائی میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا۔ 

عدالتی فیصلے کے بعد سڑک چوڑی کرنے کے لیے مسجد کے رکاوٹ بننے والے حصے کو ہٹانے کی کارروائی پر ہائی کورٹ کی جانب سے فی الحال کوئی روک نہیں ہے۔ تاہم مسلم فریق کی جانب سے فیصلے پر اختلاف ظاہر کیا گیا ہے اور مزید قانونی کارروائی کا راستہ موجود ہے۔ ([NDTV India][2])

یہ معاملہ سنگھستھ 2028 کی تیاریوں کے تحت اُجین میں جاری سڑکوں کی توسیع اور ٹریفک انتظام سے متعلق ترقیاتی کاموں سے جڑا ہوا ہے۔ انتظامیہ نے اسے عوامی سہولت اور ٹریفک انتظام سے جوڑا ہے، جبکہ درخواست گزاروں نے مذہبی مقام کے حصے کو ہٹانے کی کارروائی کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·