نئی دہلی: سپریم کورٹ نے صحافت، آزادیٔ اظہار اور صحافیوں کے تحفظ سے متعلق ایک معاملے کی سماعت کے دوران اہم تبصرہ کیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر ہر شہری خود کو صحافی قرار دینے لگے تو اس سے مختلف طرح کی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ عدالت کے سامنے یہ سوال بھی زیر بحث آیا کہ تسلیم شدہ صحافیوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر سرگرم دیگر افراد کے درمیان فرق کیسے کیا جائے اور حقیقی صحافیوں کو تحفظ کیسے فراہم کیا جائے۔
یہ معاملہ دہلی میں 10 اور 11 اکتوبر کو ہونے والے احتجاج کے دوران صحافیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی، مارپیٹ اور حراست سے متعلق الزامات سے جڑا ہے۔ سپریم کورٹ ان واقعات کے سلسلے میں دائر درخواستوں پر سماعت کر رہی تھی۔ سماعت کے دوران عدالت نے خواتین صحافیوں کے ساتھ مبینہ تشدد کے الزامات کو سنجیدہ قرار دیا۔
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جویمالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے صحافت کے حق اور اس سے متعلق مسائل پر غور کیا۔ عدالت نے کہا کہ آزادیٔ اظہار کے حق کے تحت کوئی بھی شخص خود کو صحافی ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ ایسی صورت حال میں پیشہ ور صحافیوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مختلف نوعیت کا مواد تیار کرنے والے افراد کے درمیان فرق کرنا ایک چیلنج بن جاتا ہے۔
موبائل فون اور سوشل میڈیا کے بڑھتے استعمال نے عام لوگوں کے لیے بھی واقعات کی ویڈیو بنانے، تصاویر شیئر کرنے اور اپنی رائے پیش کرنے کے مواقع بڑھا دیے ہیں۔ اس صورت حال میں صحافت کی شناخت، پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور صحافیوں کو ملنے والے تحفظ سے متعلق کئی سوالات سامنے آتے ہیں۔ عدالت میں ہونے والی بحث کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ صحافیوں کی حفاظت اور آزادیٔ اظہار کے حق کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔
سماعت کے دوران سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے ایک خاتون صحافی پر مرد پولیس اہلکار کی جانب سے مبینہ حملے کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے متاثرین کی شکایات کی جانچ کے لیے سابق خاتون ججوں اور سابق انڈین پولیس سروس افسران پر مشتمل کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کی۔ اس تجویز کا مقصد شکایات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینا تھا۔
مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے بنچ نے کہا کہ متعلقہ خاتون صحافی کے خلاف کوئی تعزیری کارروائی نہ کی جائے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ فی الحال سماعت درخواست میں مذکور متاثرہ خاتون تک محدود رہے گی۔ اس طرح عدالت نے موجودہ کارروائی کا دائرہ واضح کر دیا۔
سماعت کے دوران تشار مہتا نے صحافیوں کی شناخت سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ موبائل فون رکھنے والا کوئی بھی شخص خود کو صحافی بتا سکتا ہے اور بعض لوگ صحافت کے نام پر ریلز بناتے ہیں۔ ان کے اس بیان سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر صحافت کے دعوے اور پیشہ ورانہ صحافت کے درمیان فرق کا معاملہ سامنے آیا۔
عدالت کے تبصرے آزادیٔ اظہار اور صحافیوں کے تحفظ، دونوں پہلوؤں پر غور کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ عوامی احتجاج کے دوران رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو مبینہ تشدد، بدسلوکی یا حراست جیسے واقعات سے تحفظ ملنا ضروری ہے۔ ساتھ ہی کسی بھی شکایت یا الزام کی حقیقت جاننے کے لیے غیر جانب دارانہ جانچ اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینا بھی اہم ہے۔
سابق خاتون ججوں اور سابق پولیس افسران پر مشتمل کمیٹی بنانے کی تجویز اندرا جے سنگھ نے سماعت کے دوران پیش کی تھی۔ تاہم عدالت نے فی الحال اپنی سماعت کو درخواست میں مذکور خاتون صحافی کے معاملے تک محدود رکھنے کی بات کہی ہے۔
یہ معاملہ ڈیجیٹل دور میں صحافت کی تعریف، عوامی احتجاج کے دوران صحافیوں کے تحفظ اور پولیس کی ذمہ داریوں سے متعلق اہم سوالات سامنے لاتا ہے۔ سماعت کے دوران لگائے گئے الزامات کو حتمی طور پر ثابت شدہ حقائق نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ان کی تصدیق متعلقہ تحقیقات، عدالتی کارروائی اور مستند معلومات کی بنیاد پر ہی کی جا سکتی ہے۔
*میٹا ہیڈلائن:* سپریم کورٹ کو صحافیوں کی شناخت اور تحفظ پر تشویش
*میٹا ڈسکرپشن:* سپریم کورٹ نے آزادیٔ اظہار، صحافیوں کی شناخت اور تحفظ پر اہم تبصرہ کیا۔ دہلی احتجاج کے دوران خاتون صحافی کے ساتھ مبینہ تشدد کے معاملے پر سماعت ہوئی۔
*میٹا کی ورڈز:* سپریم کورٹ، صحافیوں کا تحفظ، آزادیٔ اظہار، دہلی احتجاج، خاتون صحافی، صحافی پر مبینہ حملہ، سوریہ کانت، جویمالیا باگچی، اندرا جے سنگھ، تشار مہتا، ڈیجیٹل صحافت، دہلی پولیس
مکرر پیراگراف کم کریںخبر کا آغاز زیادہ مضبوط کریںعدالتی تبصروں کو محتاط بنائیں






.jpg)
.jpg)







.webp)
