تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
جوہر ٹرسٹ معاملہ: اعظم خان سے پوچھ گچھ کے لیے ای ڈی کی ٹیم رام پور جیل پہنچ گئی


رام پور:سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان سے متعلق جوہر ٹرسٹ معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے تحقیقات تیز کر دی ہیں۔ منگل کی صبح لکھنؤ سے ای ڈی کی ایک ٹیم رام پور ضلع جیل پہنچی۔ دستیاب معلومات کے مطابق، انووا گاڑی میں پہنچنے والے تین افسران جیل کے احاطے میں داخل ہوئے۔ بتایا گیا ہے کہ ٹیم اعظم خان سے پوچھ گچھ کے لیے وہاں پہنچی تھی۔

یہ کارروائی جوہر ٹرسٹ اور اس سے منسلک مبینہ منی لانڈرنگ معاملے کی جاری تحقیقات کا حصہ ہے۔ ایجنسی ٹرسٹ کو ملنے والے چندے، جوہر یونیورسٹی کی تعمیر پر ہونے والے اخراجات اور متعلقہ مالی لین دین کی جانچ کر رہی ہے۔

تحقیقاتی افسران یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ٹرسٹ کو رقم کہاں سے حاصل ہوئی، اسے کن ذرائع سے منتقل کیا گیا اور بعد میں اس رقم کو کن مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ معاملے سے وابستہ افراد کے بیانات کا مالی دستاویزات اور دیگر ریکارڈ کے ساتھ موازنہ کیا جا رہا ہے تاکہ لین دین کی مکمل تفصیلات سامنے آ سکیں۔

جوہر ٹرسٹ کے مالی لین دین کی جانچ

اس معاملے میں ای ڈی کی تحقیقات کا ایک اہم حصہ مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور جوہر یونیورسٹی سے متعلق مالی سرگرمیوں کی جانچ ہے۔ ایجنسی چندے کے ذرائع، تعمیراتی اخراجات، بینک کھاتوں اور متعلقہ کمپنیوں کے ساتھ ہونے والے لین دین کے ریکارڈ کا جائزہ لے رہی ہے۔

تحقیقاتی ایجنسی یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ ٹرسٹ کو موصول ہونے والی رقم کا اصل ذریعہ کیا تھا اور اسے کن کاموں پر خرچ کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے مالی دستاویزات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور متعلقہ افراد کے بیانات کو ریکارڈ میں درج معلومات کے ساتھ ملایا جا رہا ہے۔

ایجنسی ان افراد سے بھی معلومات حاصل کر رہی ہے جنہیں ٹرسٹ کے مالی معاملات، یونیورسٹی کی تعمیر یا متعلقہ لین دین کے بارے میں معلومات ہو سکتی ہیں۔ پوچھ گچھ کے دوران سامنے آنے والی تفصیلات کو دستاویزات کے ساتھ ملا کر رقم کی منتقلی اور استعمال کی صورت حال واضح کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس مرحلے پر تحقیقات کا مقصد شواہد جمع کرنا اور مالی لین دین کی تفصیلات کی تصدیق کرنا ہے۔ کسی بھی شخص کی ذمہ داری یا الزام کے ثابت ہونے کا فیصلہ دستیاب شواہد اور قانونی کارروائی کے مطابق ہی کیا جا سکتا ہے۔

 اعظم خان کے قریبی سالم سے دو مرتبہ پوچھ گچھ

اس معاملے میں اعظم خان کے قریبی ساتھی بتائے جانے والے سالم سے اب تک دو مرتبہ پوچھ گچھ کی جا چکی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، سالم اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم کے کام کاج سے وابستہ رہا ہے۔

سالم سے پہلی مرتبہ 30 ستمبر کو پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ اس کے بعد 8 اکتوبر کو اسے دوبارہ بلایا گیا، جہاں تقریباً آٹھ گھنٹے تک سوالات کیے گئے۔ ایجنسی اس کے بیانات اور ایس اینڈ اے فرم سے متعلق دستاویزات میں سامنے آنے والی معلومات کا موازنہ کر رہی ہے۔

اس پوچھ گچھ کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ ٹرسٹ اور یونیورسٹی سے متعلق مالی لین دین میں مختلف افراد اور اداروں کا کیا کردار رہا۔ تحقیقاتی افسران بیانات کی مطابقت اور دستاویزات میں درج تفصیلات کی جانچ کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، سالم کو تیسری مرتبہ بھی پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا ہے۔ تاہم، مزید پوچھ گچھ کے وقت اور اس کے نتائج سے متعلق سرکاری تصدیق ضروری ہے۔

انور کا کردار بھی تحقیقات کے دائرے میں

اعظم خان کے ایک دوسرے قریبی شخص انور کا کردار بھی اس معاملے کی تحقیقات میں شامل بتایا جا رہا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، انور سے 14 اکتوبر کو پوچھ گچھ کیے جانے کا امکان ہے۔

ایجنسی اس سے ٹرسٹ کے معاملات، یونیورسٹی سے متعلق سرگرمیوں اور مالی لین دین کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتی ہے۔ تاہم، پوچھ گچھ کی متوقع تاریخ اور اس کے بعد ہونے والی کارروائی کے بارے میں سرکاری تصدیق ضروری ہے۔

تحقیقاتی ایجنسی مختلف افراد کے بیانات کو مالی ریکارڈ کے ساتھ ملا کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ رقم کہاں سے آئی، اسے کس طرح منتقل کیا گیا اور کن کاموں میں استعمال کیا گیا۔ اس عمل کے ذریعے معاملے سے متعلق مالی سرگرمیوں کی زیادہ واضح تصویر سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

 19 اگست کو متعدد مقامات پر چھاپے

جوہر ٹرسٹ معاملے کی تحقیقات کے دوران ای ڈی نے 19 اگست کو رام پور، سہارنپور اور دہلی میں تقریباً 10 مقامات پر چھاپے مارے تھے۔ یہ مقامات جوہر ٹرسٹ، جوہر یونیورسٹی اور اعظم خان سے متعلق بتائے گئے تھے۔

چھاپوں کے دوران یونیورسٹی کی تعمیر پر ہونے والے اخراجات، ٹرسٹ کو ملنے والے چندے اور مالی لین دین سے متعلق دستاویزات کی جانچ کی گئی۔ ان کارروائیوں کے دوران جمع کیے گئے ریکارڈ کو ایجنسی کی مزید تحقیقات کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

چھاپوں کے بعد تحقیقات کا دائرہ بڑھاتے ہوئے ٹرسٹ اور یونیورسٹی سے وابستہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔ ایجنسی مختلف افراد سے حاصل ہونے والی معلومات کا مالی دستاویزات اور دیگر شواہد کے ساتھ موازنہ کر رہی ہے۔#ستمبر کو جوہر یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے پوچھ گچھ

25 ستمبر کو جوہر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ظہیرالدین سے تقریباً آٹھ گھنٹے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ ان سے ٹرسٹ کو ملنے والے چندے، یونیورسٹی کی تعمیر پر ہونے والے اخراجات اور متعلقہ مالی لین دین کے بارے میں سوالات کیے گئے۔

اس پوچھ گچھ کا مقصد یونیورسٹی کے انتظامی امور اور تعمیراتی اخراجات سے متعلق مالی ریکارڈ کے بارے میں معلومات حاصل کرنا تھا۔ ایجنسی یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ تعمیراتی کاموں پر خرچ ہونے والی رقم کہاں سے حاصل ہوئی اور کیا دستاویزات میں درج تفصیلات متعلقہ افراد کے بیانات سے مطابقت رکھتی ہیں۔

چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی سے بھی سوالات

5 اکتوبر کو ای ڈی نے اعظم خان کے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ دیپک گوئل سے پوچھ گچھ کی۔ اس دوران ٹرسٹ کے کھاتوں اور جوہر یونیورسٹی کی تعمیر پر خرچ ہونے والی رقم سے متعلق دستاویزات کا جائزہ لیا گیا۔

اس کے اگلے دن، 6 اکتوبر کو سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی نصیر احمد خان سے تقریباً سات گھنٹے پوچھ گچھ کی گئی۔ ان سے جوہر ٹرسٹ میں ان کے کردار، چندے اور یونیورسٹی کے تعمیراتی کاموں کے بارے میں سوالات کیے گئے۔

ان کارروائیوں کے ذریعے ایجنسی ٹرسٹ کے مالی معاملات کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مختلف افراد کے بیانات اور دستاویزات کو ایک ساتھ دیکھ کر مالی لین دین کی تفصیلات اور متعلقہ کرداروں کی وضاحت حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اب تک تحقیقات میں کیا پیش رفت ہوئی؟

جوہر ٹرسٹ معاملے میں ای ڈی کی کارروائی کی اہم تاریخیں درج ذیل ہیں:

- 19 اگست: رام پور، سہارنپور اور دہلی میں اعظم خان، جوہر ٹرسٹ اور جوہر یونیورسٹی سے منسلک تقریباً 10 مقامات پر چھاپے مارے گئے۔
- 25 ستمبر:جوہر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ظہیرالدین سے تقریباً آٹھ گھنٹے پوچھ گچھ کی گئی۔
- 30 ستمبر:اعظم خان کے قریبی سالم سے پہلی مرتبہ پوچھ گچھ کی گئی۔
- 5 اکتوبر: چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ دیپک گوئل سے ٹرسٹ کے کھاتوں اور یونیورسٹی کی تعمیر پر اخراجات کے بارے میں سوالات کیے گئے۔
- 6 اکتوبر: سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی نصیر احمد خان سے تقریباً سات گھنٹے پوچھ گچھ کی گئی۔
- 8 اکتوبر:سالم سے دوسری مرتبہ تقریباً آٹھ گھنٹے پوچھ گچھ کی گئی اور اس کے بیانات کا متعلقہ دستاویزات سے موازنہ کیا گیا۔
- 13 اکتوبر: اعظم خان سے پوچھ گچھ کے لیے ای ڈی کی ٹیم رام پور ضلع جیل پہنچی۔

آئندہ تحقیقات میں کن سوالات پر توجہ رہے گی؟

جوہر ٹرسٹ معاملے میں اہم سوالات ٹرسٹ کو ملنے والے چندے کے ذرائع، رقم کی منتقلی اور جوہر یونیورسٹی کی تعمیر پر ہونے والے اخراجات سے متعلق ہیں۔ ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کے لیے ای ڈی بینک کھاتوں، مالی دستاویزات، کمپنیوں کے ریکارڈ اور متعلقہ افراد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

رام پور ضلع جیل میں ای ڈی کی ٹیم کی آمد کو جاری تحقیقات کے ایک اور مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، کسی شخص سے پوچھ گچھ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے خلاف الزام ثابت ہو گیا ہے۔ معاملے کے بارے میں حتمی نتیجہ تحقیقات، دستیاب شواہد اور قانونی کارروائی کی بنیاد پر ہی سامنے آئے گا۔

فی الحال، ایجنسی کی تحقیقات جاری ہیں اور ٹرسٹ و یونیورسٹی سے متعلق مالی لین دین کی مزید تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں مزید پوچھ گچھ اور دستاویزات کی جانچ کے بعد معاملے میں آئندہ کارروائی کے بارے میں واضح صورت حال سامنے آ سکتی ہے۔

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·