چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت نے اپوزیشن رہنماؤں سے ذاتی طور پر ملاقات نہ کرنے کے اپنے فیصلے کی وضاحت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے دروازے ملک کے ہر شہری کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں۔ ان کے مطابق کوئی بھی شخص، خواہ وہ عام شہری ہو یا پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلی کا منتخب رکن، مقررہ قانونی طریقۂ کار پر عمل کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں نے انتخابی عمل اور الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق قانون کے معاملے پر چیف جسٹس سے ملاقات کی درخواست کی تھی۔ اپوزیشن رہنما اپنے خدشات ان کے سامنے رکھنا چاہتے تھے، تاہم جسٹس سوریہ کانت نے ذاتی ملاقات کرنے سے معذرت کی اور انہیں باقاعدہ قانونی طریقۂ کار اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔
چیف جسٹس نے بتایا کہ انہیں ملاقات کی درخواست سے متعلق ایک خط موصول ہوا تھا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ خط پر ایک دن پہلے کی تاریخ درج تھی، لیکن وہ اس وقت باہر تھے، اس لیے خط انہیں پہلے نہیں مل سکا۔ ان کے مطابق انہوں نے گزشتہ رات ہی اس خط کا تحریری جواب بھیج دیا تھا اور ملاقات نہ کر پانے کی وجوہات سے بھی آگاہ کر دیا تھا۔
جسٹس سوریہ کانت نے عدالتی طریقۂ کار کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی شخص یا گروہ کسی معاملے میں عدالت کی مداخلت چاہتا ہے تو اسے مناسب قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اگر کسی کو لگتا ہے کہ اس کے حقوق متاثر ہوئے ہیں یا کسی معاملے میں عدالتی مداخلت ضروری ہے تو وہ قانون کے مطابق عدالت میں درخواست دائر کر سکتا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کے ہر شہری کو عدالت سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے۔ عدالت کے سامنے پیش کیے جانے والے معاملات پر غور کیا جاتا ہے اور قانون کے مطابق جو راحت مناسب ہو، اس کے بارے میں فیصلہ کیا جاتا ہے۔ ان کے بیان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سیاسی، آئینی یا عوامی معاملات میں عدالتی مداخلت کی درخواست بھی مقررہ قانونی طریقۂ کار کے تحت ہی کی جانی چاہیے۔
اپوزیشن اتحاد کے رہنما انتخابی عمل اور الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق قانون کے بارے میں اپنے خدشات عدالت کے سامنے رکھنا چاہتے تھے۔ اسی سلسلے میں انہوں نے چیف جسٹس سے ملاقات کی درخواست کی تھی۔ تاہم، جسٹس سوریہ کانت نے ذاتی ملاقات کے بجائے باقاعدہ قانونی طریقے سے معاملہ اٹھانے کا مشورہ دیا۔ اس کا مطلب ہے کہ عدالت سے کسی قسم کی راحت حاصل کرنے کے لیے متعلقہ فریق کو مناسب قانونی بنیاد کے ساتھ درخواست دائر کرنی ہوگی۔
اس معاملے نے عدلیہ کے ادارہ جاتی کردار اور منتخب سیاسی نمائندوں کے ساتھ اس کے تعلقات پر بحث کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔ چیف جسٹس کے بیان کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ عدالت ہر شہری کے لیے دستیاب ہے، لیکن معاملات پر فیصلہ قانون اور مقررہ طریقۂ کار کے مطابق کیا جاتا ہے۔ اس لیے عدالت سے رجوع کرنے والے ہر فریق کو باقاعدہ عدالتی عمل کی پیروی کرنی چاہیے۔
ون نیشن، ون الیکشن پر بھی چیف جسٹس کا بیان
جسٹس سوریہ کانت نے ون نیشن، ون الیکشن کے معاملے پر بھی بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس موضوع پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (JPC) کے سپریم کورٹ کے مجوزہ دورے کی منسوخی کے پیچھے ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق خدشات بھی شامل تھے۔ ان کے مطابق اس معاملے کے بعض پہلوؤں پر احتیاط سے غور کرنا ضروری تھا، تاکہ عدالتی غیر جانب داری کے حوالے سے کوئی سوال پیدا نہ ہو۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ان کے اور ان کے سینئر عدالتی ساتھیوں کے درمیان اس بات پر اتفاق تھا کہ مفادات کے ٹکراؤ کی کسی بھی ممکنہ صورت حال سے بچنا چاہیے۔ اسی وجہ سے معاملے کے انتظامی پہلوؤں پر بات چیت کی گئی۔ ان کے بیان میں عدلیہ کی غیر جانب داری، ادارہ جاتی اعتماد اور شفافیت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
ون نیشن، ون الیکشن کی تجویز کا تعلق لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کرانے سے ہے۔ اس تجویز پر سیاسی اور آئینی سطح پر بحث ہوتی رہی ہے۔ ایسے معاملات میں عدلیہ کے کردار اور مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ سے متعلق خدشات کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے، تاکہ اداروں کی غیر جانب داری برقرار رکھی جا سکے۔
مجموعی طور پر جسٹس سوریہ کانت نے اپوزیشن رہنماؤں سے ذاتی ملاقات نہ کر پانے کی وجہ بتاتے ہوئے اس بات کو دہرایا کہ سپریم کورٹ ہر شہری کے لیے کھلی ہے۔ ان کا پیغام تھا کہ عدالت سے انصاف حاصل کرنے کا حق سب کو حاصل ہے، لیکن عدالتی راحت کے لیے مقررہ قانونی طریقۂ کار اختیار کرنا ضروری ہے۔ ون نیشن، ون الیکشن کے معاملے پر بھی انہوں نے مفادات کے ٹکراؤ سے بچنے اور عدالتی غیر جانب داری برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
