ہندوستان اور چین کے درمیان حقیقی کنٹرول لائن یعنی ایل اے سی پر کئی برس سے جاری فوجی کشیدگی کے درمیان چینی فوج کی تعیناتی کو لے کر ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق 2025 کے دوران ہندوستان کی شمالی سرحدوں کے سامنے چین کی پیپلز لبریشن آرمی یعنی پی ایل اے کی تعیناتی میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
وزارت دفاع نے بتایا کہ ایل اے سی سے متصل علاقوں اور چین کے روایتی تربیتی علاقوں میں مشترکہ ہتھیاروں والی بریگیڈ کے حجم کی 10 یونٹس اب بھی تعینات ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ چینی فوج کی موجودگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے، تاہم گزشتہ برسوں کے مقابلے میں تعیناتی کی سطح میں کمی آئی ہے۔
وزارت کے مطابق ہندوستانی فوج نے بھی ایل اے سی کے تمام سیکٹروں میں اپنی تعیناتی کو مضبوط اور مناسب سطح پر برقرار رکھا ہے۔ ہندوستانی فوج کسی بھی اچانک پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
ہندوستان اور چین کے درمیان بات چیت دوبارہ شروع
ایل اے سی پر فوجی صورتحال میں تبدیلی کے ساتھ ہندوستان اور چین کے درمیان سفارتی بات چیت بھی آگے بڑھی ہے۔ ورکنگ میکینزم فار کنسلٹیشن اینڈ کوآرڈینیشن یعنی ڈبلیو ایم سی سی کی 33ویں اور 34ویں میٹنگ مارچ اور جولائی 2025 میں ہوئی۔
ان ملاقاتوں کا مقصد سرحد سے متعلق مسائل پر دونوں ممالک کے درمیان رابطہ برقرار رکھنا اور حساس علاقوں میں کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ کھلا رکھنا ہے۔
سرحدی تنازع سے متعلق دونوں ممالک کے خصوصی نمائندوں کے درمیان مذاکرات بھی دوبارہ شروع ہوئے۔ یہ ملاقاتیں دسمبر 2024 اور اگست 2025 میں ہوئیں۔ کئی برس کی فوجی کشیدگی کے بعد اس طرح کے مذاکرات کی واپسی کو ہندوستان اور چین کے تعلقات میں استحکام کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
وجی سطح پر بھی رابطہ جاری
ہندوستان اور چین کے درمیان صرف سفارتی سطح پر ہی نہیں بلکہ فوجی سطح پر بھی رابطہ جاری رہا۔ وزارت دفاع کے مطابق مشرقی لداخ میں 25 اور 26 اکتوبر 2025 کو کور کمانڈر سطح کی 23ویں میٹنگ ہوئی۔
سرحد پر تعینات دونوں ممالک کے افسران کے درمیان بارڈر پرسنل میٹنگز بھی جاری رہیں۔ وزارت نے کہا کہ ان ملاقاتوں میں دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت دوستانہ اور خوشگوار ماحول میں ہوتی رہی۔
ان ملاقاتوں کا مقصد سرحد پر پیدا ہونے والے خدشات کو بات چیت کے ذریعے دور کرنا اور کسی بھی اچانک صورتحال کو بڑے تنازع میں تبدیل ہونے سے روکنا ہے۔
ہندوستان نے سرحد پر تیاری مضبوط رکھی
وزارت دفاع نے واضح کیا ہے کہ چین کی فوجی تعیناتی میں کمی کے باوجود ہندوستانی فوج نے ایل اے سی کے تمام سیکٹروں میں اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھی ہے۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ہندوستان اور چین کے درمیان گزشتہ برسوں میں سرحد پر کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ مشرقی لداخ سمیت کئی حساس علاقوں میں دونوں ممالک کی افواج اور فوجی سازوسامان کی بڑی تعداد تعینات رہی ہے۔
ایسے وقت میں چین کی فوجی تعیناتی میں کمی کو سرحد پر کشیدگی کم ہونے کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم ہندوستانی فوج کی مضبوط موجودگی یہ واضح کرتی ہے کہ نئی دہلی سرحدی سلامتی کے معاملے میں محتاط رویہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
مودی اور شی جن پنگ کے درمیان ملاقات
ہندوستان اور چین کے تعلقات میں بہتری کے اشاروں کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان بھی دو طرفہ ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے برکس سربراہ اجلاس کے موقع پر ملاقات کی۔
یہ ملاقات 50 منٹ سے زیادہ جاری رہی۔ وزیر اعظم مودی نے شی جن پنگ کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعاون پر بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔
دوسری جانب شی جن پنگ نے کہا کہ چین ہندوستان اور چین کے تعلقات کو اسٹریٹجک اور طویل مدتی نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک سے مشترکہ ترقی کے لیے مل کر کام کرنے کی اپیل کی۔
شی جن پنگ نے پیچیدہ بین الاقوامی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین اور ہندوستان دنیا کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ممالک ہونے کے ساتھ ساتھ گلوبل ساؤتھ کے اہم ارکان بھی ہیں اور موجودہ حالات میں دونوں ممالک کی اہم ذمہ داریاں ہیں۔
کئی برس کی کشیدگی کے بعد استحکام کی کوشش
ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی تنازع صرف فوجی تعیناتی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کا اثر دونوں ممالک کے سفارتی، اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات پر بھی پڑا ہے۔
ایل اے سی پر چینی فوج کی تعیناتی میں کمی، فوجی سطح پر رابطے اور خصوصی نمائندوں کے درمیان مذاکرات کی واپسی کو دونوں ممالک کے تعلقات میں استحکام لانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم فوجی تعیناتی میں کمی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی تنازع مکمل طور پر حل ہوگیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کئی معاملات اب بھی مذاکرات کے مرحلے میں ہیں۔
ہندوستانی فوج کی ایل اے سی کے تمام سیکٹروں میں مضبوط موجودگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہندوستان سرحدی سلامتی کے معاملے میں محتاط ہے اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
آنے والے دنوں میں ہندوستان اور چین کے درمیان فوجی اور سفارتی سطح پر ہونے والی بات چیت اس بات کا تعین کرنے میں اہم ہوگی کہ سرحد پر موجودہ استحکام کس حد تک برقرار رہتا ہے اور کیا دونوں ممالک اپنے زیر التوا سرحدی مسائل کے حل کی جانب مزید پیش رفت کر پاتے ہیں۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
