تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
یوگی کا اعلان، 6 ماہ میں ایک لاکھ سے زیادہ سرکاری نوکریاں


اتر پردیش میں سرکاری ملازمتوں کے حوالے سے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک بڑے بھرتی پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگلے 6 ماہ میں ریاست کے ایک لاکھ سے زیادہ نوجوانوں کو سرکاری ملازمت دی جائے گی۔

یہ اعلان لکھنؤ کے لوک بھون میں منعقدہ تقرری نامے تقسیم کرنے کی تقریب کے دوران کیا گیا۔ اس تقریب میں مختلف سرکاری محکموں میں منتخب 818 امیدواروں کو تقرری نامے دیے گئے۔ ان امیدواروں کا انتخاب مختلف سرکاری بھرتی اداروں اور محکموں کے ذریعے کیا گیا ہے۔ 

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سرکاری بھرتیوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور اگلے 6 ماہ کے دوران ایک لاکھ سے کم نہیں بلکہ ایک لاکھ سے زیادہ نوجوانوں کو سرکاری ملازمت دینے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

818 امیدواروں کو تقرری نامے

تازہ بھرتی مہم میں کئی سرکاری محکموں کے امیدوار شامل ہیں۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق آیوش محکمہ میں 404 امیدوار مختلف عہدوں کے لیے منتخب ہوئے ہیں، جبکہ طبی اور صحت خدمات کے شعبے میں 357 امیدواروں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پیشہ ورانہ تعلیم اور ہنر مندی کے شعبے سے 48 اور صنعت سے متعلق 9 امیدوار بھی منتخب ہوئے ہیں۔ 

طبی اور صحت خدمات میں منتخب امیدواروں میں ایکسرے ٹیکنیشن بھی شامل ہیں۔ آیوش محکمہ میں ہومیوپیتھک فارماسسٹ کے علاوہ تدریس اور دیگر عہدوں کے لیے بھی امیدواروں کا انتخاب کیا گیا ہے۔

تقریب کے دوران وزیر اعلیٰ نے کچھ منتخب امیدواروں کو خود تقرری نامے دیے، جبکہ دیگر امیدواروں کو متعلقہ محکموں کے ذریعے تقرری نامے فراہم کیے گئے۔  پولیس اور ہوم گارڈ میں بڑی بھرتیاں

وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے آئندہ ہونے والی کئی بھرتیوں کی تفصیل بھی بتائی۔ ان کے مطابق اتر پردیش پولیس میں تقریباً 36 ہزار نوجوانوں کو تقرری دی جانی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان عہدوں کے لیے امتحان مکمل ہو چکا ہے اور جسمانی جانچ اور طبی معائنے کا عمل جاری ہے۔

ہوم گارڈ محکمہ میں بھی تقریباً 41 ہزار سے 42 ہزار بھرتیوں کا ذکر وزیر اعلیٰ نے کیا۔ اس کے علاوہ اتر پردیش سب آرڈینیٹ سروسز سلیکشن کمیشن کے ذریعے آنے والے نتائج کی بنیاد پر تقریباً 25 ہزار سے 30 ہزار نوجوانوں کو مواقع ملنے کی بات کہی گئی۔

وزیر اعلیٰ نے اتر پردیش ایجوکیشن سلیکشن کمیشن کے ذریعے تقریباً 20 ہزار سے 25 ہزار نوجوانوں کو مواقع ملنے کی بھی بات کی۔ اسی طرح اتر پردیش پبلک سروس کمیشن کے ذریعے مختلف محکموں میں تقریباً 15 ہزار سے 16 ہزار نوجوانوں کو تقرری کا موقع ملنے کا ذکر کیا گیا۔

حکومت پہلے بھی 6 ماہ میں ایک لاکھ نوجوانوں کو سرکاری تقرری دینے کا ہدف بتا چکی ہے۔ اب 818 امیدواروں کو تقرری نامے دینے کے ساتھ اس بھرتی مہم کا اگلا مرحلہ شروع کیا گیا ہے۔ 

 اب تک تقریباً ساڑھے 9 لاکھ سرکاری ملازمتوں کا دعویٰ

وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ 2017 کے بعد سے اتر پردیش میں تقریباً ساڑھے 9 لاکھ نوجوانوں کو مختلف سرکاری محکموں میں ملازمت دی جا چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بھرتی کے عمل کو شفاف اور وقت کے پابند بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق امتحان سے لے کر نتیجہ اور تقرری تک کے عمل کو مقررہ وقت میں مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھرتی کے عمل میں بے ضابطگیوں کو روکنے کے لیے نظام میں کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

سابق حکومتوں پر تنقید

وزیر اعلیٰ نے اپنی تقریر میں 2017 سے پہلے کی حکومتوں کے بھرتی نظام پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس وقت سرکاری بھرتیوں میں سفارش، اقربا پروری اور بے ضابطگیوں کی شکایات سامنے آتی تھیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سرکاری آسامیوں کا اشتہار جاری ہوتے ہی مختلف سطحوں پر وصولی اور سفارش کا دباؤ شروع ہوجاتا تھا۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت نے بھرتی کے نظام میں کئی تبدیلیاں کرکے اسے زیادہ شفاف بنانے کی کوشش کی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے گروپ سی اور گروپ ڈی کی بعض بھرتیوں میں انٹرویو کا نظام ختم کرنے کا بھی ذکر کیا۔ یہ بیانات سابق حکومتوں کے بارے میں وزیر اعلیٰ کی سیاسی تنقید کا حصہ ہیں۔ صحت اور آیوش شعبے میں بھی مواقع

لوک بھون کی تقریب میں صحت اور آیوش سے متعلق محکموں میں منتخب بڑی تعداد میں امیدواروں کو تقرری نامے دیے گئے۔

آیوش محکمہ میں 404 اور طبی و صحت خدمات میں 357 امیدواروں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ 

وزیر اعلیٰ نے آیوش شعبے کے فروغ کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آیوروید، یوگا، قدرتی علاج، یونانی، ہومیوپیتھی اور سدھا جیسے روایتی طبی طریقوں کو ادارہ جاتی سطح پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

انہوں نے ریاست میں نئے طبی اداروں اور میڈیکل کالجوں کی ترقی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ صحت کے شعبے میں اس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 نوجوانوں کو ذمہ داری کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت

وزیر اعلیٰ نے تقرری نامے حاصل کرنے والے نوجوانوں اور ان کے اہل خانہ کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمت ملنے کے ساتھ ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے، کیونکہ سرکاری ملازمین براہ راست عوامی خدمات سے وابستہ ہوتے ہیں۔

انہوں نے منتخب نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ایمانداری، نظم و ضبط اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں اور ریاست کے عوام کو بہتر سرکاری خدمات فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

 روزگار کو معاشی ترقی سے جوڑا

یوگی آدتیہ ناتھ نے روزگار کے مواقع کو اتر پردیش کی معاشی ترقی سے بھی جوڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کی نوجوان آبادی اور ہنرمند افرادی قوت معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

انہوں نے ریاست کی معیشت اور فی کس آمدنی میں گزشتہ برسوں کے دوران اضافے کا بھی ذکر کیا۔ حکومت نوجوانوں کے لیے روزگار اور سرکاری بھرتی کو اپنی ترقیاتی پالیسی کا اہم حصہ بتاتی رہی ہے۔
 

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·