تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
نظام قانون کے مطابق چلے، سافٹ ویئر کے مطابق نہیں‘، ہائی کورٹ کی سختی


ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی SIR کے عمل کو لے کر بمبئی ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ انتخابی نظام قانون اور مقررہ ضابطوں کے مطابق چلنا چاہیے، نہ کہ کسی سافٹ ویئر کی تکنیکی حدود کے مطابق۔ عدالت نے یہ تبصرہ ممبئی کے سانتا کروز علاقے کے ایک خاندان کے 6 افراد سے متعلق معاملے کی سماعت کے دوران کیا۔

جسٹس والمیکی مینیزس اور جسٹس امیت جمدار کی بینچ اس معاملے کی سماعت کر رہی تھی۔ معاملہ ان 6 افراد سے متعلق ہے جن کے نام SIR کے دوران ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے تھے۔ خاندان کی جانب سے بتایا گیا کہ انہوں نے اسمبلی حلقے کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں اپنا پتہ تبدیل کرنے کے لیے فارم 8 بھی جمع کیا تھا، اس کے باوجود ان کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے۔

سماعت کے دوران عدالت نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ آخر کس قانونی بنیاد پر کسی شخص کو اپنا موقف رکھنے کا موقع دیے بغیر ووٹر لسٹ سے اس کا نام ہٹایا جا سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر کسی ووٹر کا نام لسٹ سے ہٹایا جانا ہے تو اس سے پہلے اسے اپنا موقف پیش کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔

عدالت نے متعلقہ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر یعنی ERO کو بھی عدالت میں موجود رہنے کی ہدایت دی۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ SIR کے دوران سسٹم فارم 8 کو پروسیس کرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ اسی تکنیکی صورتحال کی وجہ سے متعلقہ افراد کے نام ووٹر لسٹ میں برقرار نہیں رہ سکے۔

اس جواب پر عدالت نے انتخابی عمل میں ٹیکنالوجی کے کردار پر سوال اٹھایا۔ عدالت نے کہا کہ کسی سافٹ ویئر کی حدود کی وجہ سے قانون پر عمل درآمد روکا نہیں جا سکتا۔ اگر کسی افسر کو ووٹر لسٹ سے متعلق فیصلہ لینے کی قانونی ذمہ داری حاصل ہے تو اس کے پاس اس فیصلے کو نافذ کرنے کی ضروری صلاحیت بھی ہونی چاہیے۔

ہائی کورٹ نے کہا کہ ERO کسی سافٹ ویئر یا کسی تیسرے فریق کی ہدایات پر مکمل طور پر انحصار کرکے بے اختیار نہیں ہو سکتا۔ عدالت کے مطابق ٹیکنالوجی کا مقصد قانون کے مطابق کام کرنے میں مدد فراہم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ وہ خود قانونی عمل کا فیصلہ کرنے لگے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ انتخابی عمل میں ووٹر کے مفاد کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ قانون کے مطابق ووٹر لسٹ تیار کی جائے اور صرف تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر اہل ووٹر کا نام لسٹ سے باہر نہ ہو۔

سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ SIR کی مدت کے دوران فارم 8 کو پروسیس کرنے کی سہولت دستیاب نہیں تھی۔ کمیشن کے مطابق اسی وجہ سے متعلقہ خاندان کے معاملے میں ضروری تبدیلی نہیں ہو سکی۔ عدالت نے اس پر سوال کیا کہ کیا خصوصی نظرثانی کے دوران عام قانونی دفعات کو اس طرح غیر مؤثر سمجھا جا سکتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ کسی نئی انتظامی کارروائی کا آغاز اس بات کا مطلب نہیں ہو سکتا کہ موجودہ قانون اور ضابطوں کو کچھ عرصے کے لیے نظر انداز کر دیا جائے۔ عدالت نے اس پورے طریقہ کار اور اس کے ممکنہ اثرات پر تشویش ظاہر کی۔

ہائی کورٹ نے ایک اور اہم سوال بھی اٹھایا۔ عدالت نے کہا کہ اگر 6 ووٹرز کو اس طرح کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ عدالت تک پہنچ گئے تو ایسے کتنے لوگ ہو سکتے ہیں جنہیں اسی طرح کی مشکل پیش آئی ہو لیکن وہ عدالت سے رجوع نہ کر سکے ہوں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ کچھ ایسے ووٹرز کے نام دوبارہ لسٹ میں شامل کیے گئے جنہوں نے فارم 6 جمع کیا تھا۔ تاہم متعلقہ خاندان کے بارے میں کمیشن نے کہا کہ انہوں نے نہ تو اینیومریشن فارم جمع کیا تھا اور نہ ہی فارم 6 بھرنے کے لیے تیار تھے۔

اس معاملے میں ہائی کورٹ کے تبصروں نے ووٹر لسٹ کی بڑے پیمانے پر نظرثانی کے دوران ٹیکنالوجی، انتظامی طریقہ کار اور قانونی حقوق کے درمیان تعلق کو نمایاں کیا ہے۔ عدالت کے مشاہدات کے مطابق تکنیکی نظام کو قانونی حقوق اور مقررہ طریقہ کار سے بالاتر نہیں رکھا جا سکتا۔

یہ معاملہ فی الحال عدالت میں زیر سماعت ہے۔ آئندہ سماعتوں میں متعلقہ ووٹرز کے نام ہٹائے جانے کے حالات اور اس عمل کے دوران قانونی ضابطوں اور اپنا موقف رکھنے کے حق پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
 

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·