آئی آئی ٹی بمبئی میں 22 سالہ طالب علم ساحل رویندر واکوڑے کی موت کے بعد کیمپس میں کشیدگی کی صورتحال برقرار ہے۔ طالب علم کی موت کے بعد بڑی تعداد میں طلبہ نے ادارے کے خلاف احتجاج کیا اور امتحانی کارروائی، طلبہ کی حفاظت اور ادارہ جاتی ذمہ داری سے متعلق کئی سوالات اٹھائے۔ طلبہ کے احتجاج کے درمیان آئی آئی ٹی بمبئی کے ڈائریکٹر شریش بی کیدارے نے ڈین آف اسٹوڈنٹ افیئرز پروفیسر سوریہ نارائن ڈولا کو فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا۔ ادارے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مزید کارروائی تفتیش کے نتائج کی بنیاد پر کی جائے گی۔
ساحل واکوڑے مہاراشٹر کے ضلع یوتمل کے رہنے والے تھے اور آئی آئی ٹی بمبئی کے انرجی سائنس اینڈ انجینئرنگ شعبے میں بی ٹیک کے دوسرے سال کے طالب علم تھے۔ ان کی موت کے بعد کیمپس میں طلبہ کے درمیان تشویش اور ناراضی میں اضافہ ہوا۔ طلبہ نے واقعے کے سلسلے میں ادارے کے طریقہ کار اور طالب علموں کے لیے موجود معاون نظام پر بھی سوال اٹھائے۔
آئی آئی ٹی بمبئی نے ساحل کی موت سے متعلق پہلے فراہم کی گئی معلومات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے معذرت بھی کی ہے۔ ادارے نے کہا کہ واقعے کے حالات کے بارے میں پہلے دی گئی معلومات پر اسے افسوس ہے۔ اس کے بعد انتظامیہ نے طلبہ سے بات چیت کی اور ان کے اعتراضات اور مطالبات پر غور شروع کیا۔
دستیاب معلومات کے مطابق ساحل کو واقعے سے چند گھنٹے پہلے مڈ سیمسٹر امتحان کے دوران مبینہ طور پر موبائل فون استعمال کرتے ہوئے پکڑے جانے کی بات سامنے آئی تھی۔ یہ بھی الزام لگایا گیا کہ انہوں نے سوالنامہ چیٹ جی پی ٹی پر اپ لوڈ کیا تھا۔ امتحان سے متعلق اس مبینہ معاملے کے بعد ادارہ جاتی ضابطے کے تحت کارروائی کا عمل شروع کیا گیا تھا۔ تاہم واقعے سے پہلے کیا حالات تھے، طالب علم پر کتنا دباؤ تھا اور مختلف افراد کے درمیان کیا گفتگو ہوئی، ان تمام باتوں کی تفتیش جاری ہے۔
ساحل کے خاندان کی جانب سے سنگین الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ خاندان کا کہنا ہے کہ ساحل کو ادارہ جاتی ہراسانی اور ذات پر مبنی امتیاز جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ احتجاج کرنے والے طلبہ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ امتحان سے متعلق معاملے کے بعد ساحل پر غیر معمولی دباؤ ڈالا گیا اور انہیں تعلیمی سرگرمیوں سے معطل کیے جانے کی دھمکی دی گئی۔ ان الزامات کی آزادانہ طور پر ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے اور یہ تفتیش کا حصہ ہیں۔
ساحل کے والدین کی شکایت پر پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا اور درج فہرست ذات و قبائل سے متعلق قانون کی دفعات کے تحت خودکشی کے لیے اکسانے سے متعلق مقدمہ درج کیا ہے۔ اس معاملے میں ایک پروفیسر کو ملزم بنایا گیا ہے۔ تفتیش کرائم برانچ کو سونپے جانے کی بھی اطلاع سامنے آئی ہے۔ تفتیشی ادارہ ساحل کی موت سے پہلے کے حالات اور خاندان کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی جانچ کر رہا ہے۔
واقعے کے بعد طلبہ کا احتجاج بھی تیز ہوگیا۔ 20 ستمبر کی رات سیکڑوں طلبہ آئی آئی ٹی بمبئی کے مرکزی دروازے کے قریب جمع ہوئے اور اپنی مختلف مانگوں کے حق میں احتجاج کیا۔ طلبہ کی مانگ صرف ایک فرد کے خلاف کارروائی تک محدود نہیں تھی بلکہ انہوں نے طلبہ کی حفاظت، غیر جانب دارانہ تفتیش اور ادارہ جاتی جواب دہی سے متعلق بھی کئی نکات اٹھائے۔
احتجاج کے دوران آئی آئی ٹی بمبئی کے ڈائریکٹر شریش کیدارے خود طلبہ کے درمیان پہنچے اور ان سے بات چیت کی۔ بتایا گیا کہ یہ گفتگو تقریباً 3 گھنٹے تک جاری رہی۔ طلبہ نے اپنی مانگیں انتظامیہ کے سامنے رکھیں اور معاملے کی منصفانہ تفتیش اور مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاج کرنے والے طلبہ کی جانب سے 18 مطالبات پیش کیے جانے کی اطلاع ہے۔ ان میں مبینہ طور پر ملزم پروفیسر کے خلاف فوری کارروائی، غیر جانب دارانہ تحقیقاتی کمیٹی، عوامی معذرت، متاثرہ خاندان کے لیے مدد اور کیمپس میں طلبہ کی حفاظت سے متعلق اقدامات شامل تھے۔ انتظامیہ نے ان مطالبات پر اتفاق کا اظہار کیا ہے، تاہم ہر مطالبے پر عمل درآمد کی صورتحال الگ الگ انتظامی اور تفتیشی عمل پر منحصر ہوگی۔
پروفیسر سوریہ نارائن ڈولا کی معطلی اس پورے معاملے میں ایک اہم انتظامی فیصلہ بن کر سامنے آئی ہے۔ ادارے کے مطابق معطلی فوری طور پر نافذ کی گئی ہے اور مزید کارروائی تفتیش مکمل ہونے کے بعد کی جائے گی۔ اس معطلی کو حتمی ذمہ داری کا فیصلہ نہیں سمجھا جاسکتا، کیونکہ معاملے کی تفتیش ابھی جاری ہے۔
دوسری جانب آئی آئی ٹی بمبئی کے فیکلٹی فورم نے تنازع میں شامل پروفیسر کی حمایت میں اپنا موقف پیش کیا ہے۔ فورم کا کہنا ہے کہ پروفیسر ادارے کی سینیٹ سے منظور شدہ قواعد کے مطابق اپنی ذمہ داری انجام دے رہے تھے۔ اس موقف کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے، کیونکہ ایک طرف طالب علم کے خاندان اور احتجاج کرنے والے طلبہ نے ادارہ جاتی دباؤ اور امتیاز کے الزامات لگائے ہیں، جبکہ دوسری طرف فیکلٹی کی جانب سے امتحانی قواعد اور مقررہ طریقہ کار کی پابندی کی بات کی جارہی ہے۔
آئی آئی ٹی بمبئی نے یہ بھی کہا ہے کہ کچھ پروفیسرز نے ساحل سے بات کی تھی اور انہیں یقین دلایا تھا کہ امتحان سے متعلق واقعے کا ان کے تعلیمی مستقبل پر مستقل منفی اثر نہیں پڑے گا۔ ادارے کے مطابق طالب علم سے بات چیت کی گئی تھی اور معاملے کو ادارہ جاتی طریقہ کار کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔
اس معاملے نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی فلاح، تعلیمی نظم و ضبط، امتحانی نظام اور شکایت کے ازالے کے طریقہ کار پر بھی سوالات کھڑے کیے ہیں۔ طلبہ کا موقف ہے کہ امتحان سے متعلق کارروائی کے ساتھ ساتھ طالب علم کی مجموعی صورتحال اور ذہنی دباؤ کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔ دوسری جانب تعلیمی اداروں کے لیے امتحانی قواعد کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ اسی لیے یہ معلوم کرنا تفتیش کا اہم حصہ ہوگا کہ ساحل کی موت سے پہلے اصل میں کیا واقعات پیش آئے تھے۔
واقعے کے بعد آئی آئی ٹی بمبئی نے ہاسٹل کی جسمانی حفاظت سے متعلق بھی ایک فیصلہ کیا ہے۔ کیمپس میں طلبہ کی خودکشی کے متعدد واقعات کے بعد ادارے نے ہاسٹل کے کمروں میں لگے سیلنگ فین کو ہٹا کر ان کی جگہ دیوار پر لگنے والے فین نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ادارے کے مطابق نئے فین کا پہلا بیچ کیمپس پہنچ چکا ہے۔
یہ قدم طلبہ کی حفاظت کے لیے ایک احتیاطی انتظام کے طور پر سامنے آیا ہے۔ تاہم طلبہ اور تعلیمی حلقوں میں یہ بحث بھی اہم ہے کہ صرف جسمانی حفاظتی اقدامات کافی نہیں ہوتے۔ طلبہ کے لیے آسانی سے دستیاب کونسلنگ، مؤثر شکایت نظام، تعلیمی دباؤ کو سمجھنے والا ماحول اور بروقت مدد فراہم کرنے کا نظام بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
اب یہ معاملہ پولیس تفتیش، ادارہ جاتی انکوائری اور طلبہ کے مطالبات، تینوں سطحوں پر آگے بڑھ رہا ہے۔ ڈین کی معطلی کے بعد توجہ اس بات پر ہوگی کہ تفتیش میں کیا حقائق سامنے آتے ہیں اور واقعے سے پہلے کے حالات کے بارے میں کیا نتیجہ نکلتا ہے۔
ساحل واکوڑے کی موت نے آئی آئی ٹی بمبئی جیسے معروف تعلیمی ادارے میں طلبہ کی حفاظت اور ادارہ جاتی جواب دہی کو مرکزی بحث بنا دیا ہے۔ معاملے میں کئی الزامات اور دعوے ابھی تفتیش کے دائرے میں ہیں، اس لیے حتمی ذمہ داری طے ہونے سے پہلے تفتیش کے نتائج کا انتظار ضروری ہوگا۔ فی الحال ادارے نے پہلے دی گئی معلومات پر معذرت کی ہے، ڈین کو معطل کیا ہے، طلبہ سے بات چیت کی ہے اور پولیس تفتیش بھی جاری ہے۔
میٹا ہیڈ لائن: ساحل واکوڑے معاملے میں آئی آئی ٹی بمبئی کی کارروائی
میٹا ڈسکرپشن: آئی آئی ٹی بمبئی میں ساحل واکوڑے کی موت کے بعد ڈین آف اسٹوڈنٹ افیئرز پروفیسر سوریہ نارائن ڈولا معطل کردیئے گئے۔ ادارے نے پہلے دی گئی معلومات پر معذرت کی۔
میٹا کی ورڈز: آئی آئی ٹی بمبئی، ساحل واکوڑے، ساحل واکوڑے کیس، آئی آئی ٹی بمبئی احتجاج، سوریہ نارائن ڈولا، طلبہ کی حفاظت، ڈین آف اسٹوڈنٹ افیئرز، کرائم برانچ، ایس سی ایس ٹی ایکٹ، ہاسٹل سیفٹی، طلبہ فلاح






.jpg)
.jpg)







.webp)
