تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
سرخی ممبئی میں CJP کے ترنگا مارچ میں کم لوگ شریک ہوئے


ممبئی کے آزاد میدان میں کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی جانب سے منعقد کیے گئے ’لہرا دو ترنگا‘ احتجاج میں لوگوں کی تعداد محدود رہی۔ جمعہ کو ہونے والے اس ایک روزہ مظاہرے میں دن بھر تقریباً 50 سے 150 افراد کی شرکت کی اطلاعات سامنے آئیں۔ یہ احتجاج پارٹی کے شریک کنوینرز اور بانیوں، آشوتوش رانکا اور سورَو داس، کی حمایت میں کیا گیا تھا، جنہیں حال ہی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ مظاہرے میں شریک افراد قومی پرچم، بھگت سنگھ کی تصاویر اور انتظامیہ پر تنقید کرنے والے سیاسی پوسٹر لے کر پہنچے۔

اطلاعات کے مطابق، صبح تقریباً 10 بجے کے بعد مظاہرین کا مقام پر پہنچنا شروع ہوا۔ احتجاجی مقام کے داخلی دروازے پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ مظاہرین چھوٹے چھوٹے گروپوں میں جمع ہوئے اور دن بھر اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ تقریروں کے دوران لوگوں کی تعداد میں کچھ اضافہ ہوا، لیکن دوپہر کے وقت بھیڑ دوبارہ کم ہو گئی۔

قومی پرچم اور سیاسی پوسٹروں کے ساتھ پہنچے مظاہرین

احتجاج کے دوران کئی افراد کے ہاتھوں میں قومی پرچم اور بھگت سنگھ کی تصاویر نظر آئیں۔ مظاہرین نے انتظامیہ کے خلاف تنقیدی سیاسی پوسٹر بھی اٹھا رکھے تھے۔ میدان میں مختلف مقامات پر چادریں بچھائی گئی تھیں، جہاں کتابیں اور لٹریچر رکھا گیا تھا تاکہ وہاں آنے والے افراد انہیں دیکھ سکیں اور پڑھ سکیں۔

منتظمین نے اس احتجاج کے ذریعے اپنے سیاسی مطالبات سامنے رکھنے اور گرفتار پارٹی رہنماؤں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کی کوشش کی۔ مقررین نے گرفتاریوں کے معاملے پر انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ لوگوں سے اپیل کی گئی کہ وہ SIR یعنی اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے عمل کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل کریں اور اس حوالے سے آگاہی بڑھائیں۔ تاہم، پورے پروگرام کے دوران مظاہرین کی مجموعی تعداد محدود رہی۔

گیٹ وے آف انڈیا پر احتجاج کا منصوبہ تھا

CJP کی رکن روپالی کڈتارکر نے کہا کہ جب تک گیانیش کمار استعفیٰ نہیں دیتے، پارٹی روزانہ احتجاج جاری رکھے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی نے ابتدا میں گیٹ وے آف انڈیا پر مظاہرہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن ان کے مطابق پولیس نے احتجاج کے لیے آزاد میدان میں ہی رہنے پر زور دیا۔

روپالی کڈتارکر نے مزید کہا کہ شام کے وقت مظاہرین کو گیٹ وے آف انڈیا جانے اور وہاں تصویر کھنچوانے کی اجازت مل گئی تھی۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی اپنے مطالبات کے لیے احتجاج جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاہم، مستقبل میں ہونے والے مظاہروں کے وقت، مقام اور شرکا کی تعداد کے بارے میں تفصیلی معلومات سامنے نہیں آئیں۔

گرفتاریوں اور SIR عمل پر اٹھائے گئے سوالات

احتجاج کے دوران مقررین نے آشوتوش رانکا اور سورَو داس کی گرفتاریوں پر انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے لوگوں سے SIR عمل کے بارے میں مزید جاننے اور اس حوالے سے بیداری پیدا کرنے کی اپیل بھی کی۔ مظاہرین نے تقریروں اور پوسٹروں کے ذریعے پارٹی کے مطالبات اور خدشات عوام تک پہنچانے کی کوشش کی۔

صبح کے وقت میدان میں لوگوں کے چھوٹے چھوٹے گروپ موجود تھے۔ تقریروں کے دوران کچھ دیر کے لیے بھیڑ میں اضافہ ہوا، لیکن دوپہر کے بعد لوگوں کی تعداد پھر کم ہو گئی۔ منتظمین نے اس احتجاج کے ذریعے اپنی مخالفت درج کرائی اور کہا کہ وہ اپنے مطالبات کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔

*شام پانچ بجے احتجاج ختم ہو گیا*

آزاد میدان میں منعقد ہونے والا ’لہرا دو ترنگا‘ احتجاج شام تقریباً پانچ بجے ختم ہو گیا۔ پروگرام کے دوران پولیس کی نفری تعینات رہی اور مظاہرین مقررہ مقام پر جمع ہوئے۔ پورے دن شرکا کی تعداد محدود رہی اور میدان میں بڑی بھیڑ جمع نہیں ہو سکی۔

اس احتجاج کا بنیادی مقصد گرفتار پارٹی رہنماؤں کی حمایت میں آواز اٹھانا اور SIR عمل کے بارے میں لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا تھا۔ منتظمین نے اپنے مطالبات کے لیے آئندہ بھی احتجاج جاری رکھنے کی بات کہی ہے۔ تاہم، پارٹی کی اگلی سرگرمیوں اور مستقبل کے مظاہروں کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔

*میٹا سرخی:* ممبئی کے آزاد میدان میں CJP کے ترنگا مارچ میں کم شرکت

*میٹا تفصیل:* ممبئی میں CJP کے ’لہرا دو ترنگا‘ احتجاج میں تقریباً 50 سے 150 افراد شریک ہوئے۔ مقررین نے آشوتوش رانکا اور سورَو داس کی گرفتاریوں اور SIR عمل پر سوالات اٹھائے۔

*میٹا کی ورڈز:* ممبئی خبریں، CJP احتجاج، لہرا دو ترنگا مارچ، آزاد میدان ممبئی، آشوتوش رانکا، سورَو داس، روپالی کڈتارکر، گیانیش کمار، SIR عمل، ممبئی احتجاج، ترنگا مارچ

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·