نئی دہلی: مرکزی حکومت خواتین کے ریزرویشن اور حد بندی سے متعلق بلوں کو دوبارہ پارلیمنٹ میں پیش کرنے اور منظور کرانے کے لیے ماہ کے آخر میں خصوصی اجلاس بلانے پر غور کر سکتی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، اس ممکنہ اجلاس کا مقصد ان تجاویز پر پارلیمنٹ کی منظوری حاصل کرنا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم، خصوصی اجلاس کی تاریخ، ایجنڈے اور انعقاد کے بارے میں حتمی صورت حال سرکاری اعلان کے بعد ہی واضح ہوگی۔
یہ امکان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے معاملے پر سیاسی مخالفت جاری ہے۔ اسی دوران خواتین کے ریزرویشن اور حد بندی کے معاملات بھی پارلیمانی سیاست میں اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، حکومت ان بلوں کو دوبارہ پیش کرکے ان کے لیے ضروری حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔
پہلے بل پارلیمنٹ سے منظور کیوں نہیں ہو سکا؟
دستیاب معلومات کے مطابق، بجٹ اجلاس کے دوران 17 اپریل کو خواتین کے ریزرویشن کو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں نافذ کرنے سے متعلق آئینی ترمیمی بل لوک سبھا میں منظور نہیں ہو سکا تھا۔ اس بل میں حد بندی سے متعلق تجاویز بھی شامل تھیں۔ بل منظور نہ ہونے کے بعد خواتین کے ریزرویشن اور انتخابی حلقوں کی نئی حد بندی سے متعلق معاملات پر سیاسی بحث جاری رہی۔
خواتین کے ریزرویشن کا مقصد منتخب ایوانوں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانا ہے۔ دوسری جانب، حد بندی کے عمل میں انتخابی حلقوں کی حدود اور نمائندگی کے تعین سے متعلق تبدیلیاں شامل ہوتی ہیں۔ دونوں معاملات آئینی اور سیاسی اعتبار سے اہم ہیں، اسی لیے ان سے متعلق کسی بھی ترمیم کو منظور کرانے کے لیے پارلیمنٹ میں مناسب حمایت حاصل کرنا ضروری ہوگا۔
بل منظور کرانے کے لیے کتنے ووٹ درکار ہیں؟
آئینی ترمیمی بل منظور کرانے کے لیے عام اکثریت کافی نہیں ہوتی۔ آئین کے آرٹیکل 368 کے تحت ایسے بل کو پارلیمنٹ کے ہر ایوان میں الگ الگ خصوصی اکثریت سے منظور کرانا ضروری ہے۔ اس کے لیے متعلقہ ایوان کی مجموعی رکنیت کی اکثریت کے ساتھ حاضر ہو کر ووٹ دینے والے ارکان میں کم از کم دو تہائی کی حمایت درکار ہوتی ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ حکومت کو صرف اپنے اتحادیوں کی عام اکثریت پر انحصار کرنے کے بجائے لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں میں مقررہ خصوصی اکثریت حاصل کرنا ہوگی۔ دستیاب معلومات میں لوک سبھا میں تقریباً 360 ارکان کی حمایت کو اہم قرار دیا گیا ہے۔ تاہم، مطلوبہ تعداد کا درست تعین ایوان کی مؤثر رکنیت اور ووٹنگ کے وقت موجود ارکان کی تعداد کے مطابق کیا جائے گا۔
حکومت کو اعداد و شمار بہتر ہونے کی امید
موجودہ لوک سبھا میں قومی جمہوری اتحاد یعنی این ڈی اے کو اکثریت حاصل ہے، لیکن آئینی ترمیم کے لیے ضروری دو تہائی حمایت حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، حکومت کو امید ہے کہ گزشتہ اجلاس کے مقابلے میں اس بار سیاسی صورت حال اس کے لیے زیادہ سازگار ہو سکتی ہے۔
دستیاب رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ترنمول کانگریس کے 20 اور شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے چھ ارکان حکمراں فریق کے ساتھ آ گئے ہیں۔ تاہم، اس دعوے کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے اور سرکاری یا معتبر تصدیق کے بغیر اسے حتمی حقیقت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اگر پارلیمانی حمایت کے اعداد و شمار میں واقعی تبدیلی آتی ہے تو اس کا اثر حکومت کی حکمت عملی پر پڑ سکتا ہے۔
دیگر جماعتوں کی حمایت بھی اہم
اطلاعات کے مطابق، حکومت کو نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے شرد پوار دھڑے سمیت کچھ دیگر جماعتوں سے بھی حمایت ملنے کی امید ہے۔ دستیاب معلومات میں اس دھڑے کے آٹھ ارکان کا ذکر کیا گیا ہے۔ ممکنہ حمایت کو نشستوں میں 50 فیصد اضافے کی ضمانت سے متعلق مطالبے کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، سپریا سولے پہلے اشارہ دے چکی ہیں کہ اگر نشستوں میں 50 فیصد اضافے کی ضمانت دی جاتی ہے تو ان کی جماعت بات چیت کے لیے تیار ہو سکتی ہے۔ تاہم، بات چیت پر آمادگی کو بل کی حمایت کی حتمی منظوری نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس سلسلے میں متعلقہ جماعت کا باضابطہ موقف اور بل کی حتمی دفعات اہم ہوں گی۔
واتین کے ریزرویشن اور حد بندی پر آگے کیا ہوگا؟
اگر مرکزی حکومت پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلاتی ہے تو خواتین کے ریزرویشن اور حد بندی سے متعلق تجاویز پر دوبارہ بحث ہو سکتی ہے۔ حکومت کو بل کی دفعات، نشستوں میں مجوزہ اضافے اور آئینی طریقہ کار کے بارے میں ارکان کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے اتحادی جماعتوں کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت بھی اہم ہو سکتی ہے۔
فی الحال خصوصی اجلاس بلانے کے امکان اور بلوں کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوششوں پر نظر ہے۔ حکومت کے لیے اصل چیلنج صرف بل پیش کرنا نہیں بلکہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں میں مطلوبہ خصوصی اکثریت حاصل کرنا ہوگا۔ اجلاس کی تاریخ، سرکاری ایجنڈے اور سیاسی جماعتوں کے حتمی موقف سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ خواتین کے ریزرویشن اور حد بندی سے متعلق تجاویز کو منظور کرانے میں حکومت کو کتنی کامیابی مل سکتی ہے۔
میٹا ہیڈلائن:خواتین کے ریزرویشن اور حد بندی بل کے لیے خصوصی اجلاس ممکن
میٹا ڈسکرپشن: مرکزی حکومت خواتین کے ریزرویشن اور حد بندی بلوں کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلا سکتی ہے۔ آئینی ترمیم کے لیے دونوں ایوانوں میں خصوصی اکثریت ضروری ہوگی۔
میٹا کی ورڈز: خواتین ریزرویشن بل، حد بندی بل، پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس، مرکزی حکومت، این ڈی اے، دو تہائی اکثریت، آئینی ترمیم، لوک سبھا، راجیہ سبھا، سپریا سولے، شرد پوار، ایس آئی آر، گیانیش کمار، خواتین کی نمائندگی
غیر مصدقہ دعووں کی زبان نرم کریںخبر کو مختصر اور زیادہ مؤثر بنائیں






.jpg)
.jpg)







.webp)
